نیشنل ہائی وے نیٹ ورک تقریباً 14 ہزار کلومیٹر ہے تو مریم کا پنجاب میں 45 ہزار کلومیٹر سڑکیں بنانے کا دعویٰ حیران کن ہے: مزمل اسلم-نیشنل ہائی وے نیٹ ورک تقریباً 14 ہزار کلومیٹر ہے تو مریم کا پنجاب میں 45 ہزار کلومیٹر سڑکیں بنانے کا دعویٰ حیران کن ہے: مزمل اسلم-وزیرداخلہ محسن نقوی کی وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات، اپوزیشن مذاکرات پر بریفنگ-وزیرداخلہ محسن نقوی کی وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات، اپوزیشن مذاکرات پر بریفنگ-ایشین گیمز ہاکی: پاکستان نے جنوبی کوریا کو شکست دے کر کانسی کا تمغہ اپنے نام کرلیا-ایشین گیمز ہاکی: پاکستان نے جنوبی کوریا کو شکست دے کر کانسی کا تمغہ اپنے نام کرلیا-صومالیہ میں جاں بحق پاکستانیوں کے اہلخانہ کیلئے وزیراعظم کا ایک کروڑ 25 لاکھ روپے فی خاندان امداد کا اعلان-صومالیہ میں جاں بحق پاکستانیوں کے اہلخانہ کیلئے وزیراعظم کا ایک کروڑ 25 لاکھ روپے فی خاندان امداد کا اعلان-پی ٹی آئی لانگ مارچ، اسلام آباد اور پنجاب کے مختلف اضلاع میں رینجرز تعیناتی میں توسیع-پی ٹی آئی لانگ مارچ، اسلام آباد اور پنجاب کے مختلف اضلاع میں رینجرز تعیناتی میں توسیع

تازہ ترین

حکومت اور اپوزیشن کے مذاکرات کا دوسرا مرحلہ کچھ دیر میں شروع ہوگا، وفود پارلیمنٹ ہاؤس پہنچ گئے

اسلام آباد: حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور کچھ دیر بعد شروع ہونے جا رہا ہے، جس کے لیے دونوں جانب سے مذاکراتی ٹیموں کے اراکین پارلیمنٹ ہاؤس پہنچ گئے ہیں۔
اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق حکومتی اور اپوزیشن وفود کے درمیان ہونے والے مذاکرات کی میزبانی اور صدارت کریں گے۔ مذاکرات میں مسلم لیگ ن، پیپلز پارٹی اور اپوزیشن کے نمائندے شریک ہوں گے۔
مذاکرات میں شرکت کے لیے وفاقی وزیر امیر مقام، سینیٹر شیری رحمان، رانا ثنا اللہ، نوید قمر اور اعجاز جکھرانی بھی پارلیمنٹ ہاؤس پہنچ گئے ہیں، جبکہ پی ٹی آئی کی جانب سے سلمان اکرم راجا اور عامر ڈوگر بھی مذاکرات میں شرکت کے لیے پارلیمنٹ ہاؤس پہنچ چکے ہیں۔
پارلیمنٹ ہاؤس آمد پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سلمان اکرم راجا نے کہا کہ ملک میں انصاف اور آئین کی بحالی ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کی صحت کے معاملے پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جاسکتا اور انہیں علاج کے لیے شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کیا جانا چاہیے۔
وفاقی وزیر امیر مقام نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ حکومت مذاکرات کے عمل میں سنجیدگی اور خلوص کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہے، اب دیکھنا ہوگا کہ مذاکرات سے کیا نتیجہ سامنے آتا ہے۔
سینیٹر شیری رحمان نے کہا کہ کوشش ہے کہ موجودہ معاملے کا حل جمہوری طریقہ کار کے ذریعے نکالا جائے۔ انہوں نے کہا کہ امید ہی پر دنیا قائم ہے، پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے مذاکرات کی تجویز دی تھی جس کے بعد بات چیت کا یہ سلسلہ شروع ہوا۔
شیری رحمان نے مزید کہا کہ سوشل میڈیا پر سامنے آنے والے بیانات پر فی الحال کوئی تبصرہ نہیں کرسکتیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مذاکرات کی میز پر فریقین کو معاملات زیر بحث لانے کے لیے گنجائش دی جاتی ہے، ہر شخص اپنی پارٹی کی پوزیشن پر بات کرسکتا ہے، تاہم مذاکرات کے عمل سے متعلق گفتگو نہیں کی جاسکتی۔

شیئر کریں

:مزید خبریں