ایران کی سخت وارننگ، آئندہ کسی بھی حملے کا پہلے سے زیادہ طاقتور جواب دینے کا اعلان-ایران کی سخت وارننگ، آئندہ کسی بھی حملے کا پہلے سے زیادہ طاقتور جواب دینے کا اعلان-آزاد کشمیر انتخابات: ووٹرز کی کم شرکت انتخابی عمل پر سوالیہ نشان، پی ٹی آئی کا مؤقف-آزاد کشمیر انتخابات: ووٹرز کی کم شرکت انتخابی عمل پر سوالیہ نشان، پی ٹی آئی کا مؤقف-بابراعظم کی ٹیسٹ سنچری کا انتظار طویل، 33 اننگز گزرنے کے باوجود تین ہندسوں تک نہ پہنچ سکے-بابراعظم کی ٹیسٹ سنچری کا انتظار طویل، 33 اننگز گزرنے کے باوجود تین ہندسوں تک نہ پہنچ سکے-ایران مذاکرات بحال کرنے پر آمادہ، پاکستان اور قطر کی سفارتی کوششوں میں اہم پیشرفت-ایران مذاکرات بحال کرنے پر آمادہ، پاکستان اور قطر کی سفارتی کوششوں میں اہم پیشرفت-دریائے چناب میں پانی کا خطرناک بہاؤ، جلالپورپیروالا میں بند ٹوٹ گیا، 5 بستیاں زیرِ آب-دریائے چناب میں پانی کا خطرناک بہاؤ، جلالپورپیروالا میں بند ٹوٹ گیا، 5 بستیاں زیرِ آب

تازہ ترین

مریم اورنگزیب: پی ٹی آئی قومی سلامتی نہیں، فوج کے خلاف بیانیے کے لیے اکٹھی ہوتی ہے

لاہور: سینئر وزیر پنجاب مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی قومی سلامتی کے معاملات پر متفق نہیں ہوتی بلکہ صرف پاک فوج کے خلاف بیانیہ بنانے اور انتشار پھیلانے کے لیے متحد ہوتی ہے۔
پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مریم اورنگزیب نے جعفر ایکسپریس حادثے پر گہرے دکھ کا اظہار کیا اور کہا کہ دہشت گردوں کی کوشش تھی کہ مغویوں کو زیادہ دیر تک محبوس رکھا جائے، مگر پاک فوج نے 36 گھنٹوں میں نہ صرف تمام افراد کو بازیاب کرایا بلکہ دہشت گردوں کا قلع قمع بھی کیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ دہشت گردی کسی ایک ادارے کے خلاف نہیں بلکہ پورے ملک کے خلاف ہے۔ قومی سلامتی کے اجلاس میں تمام جماعتیں شریک ہوئیں، مگر پی ٹی آئی غائب تھی، جو کوئی نئی بات نہیں کیونکہ بانی پی ٹی آئی پہلے بھی ایسے اجلاسوں سے غیر حاضر رہے ہیں۔
مریم اورنگزیب نے کہا کہ پی ٹی آئی فوجی شہدا کی یادگاروں کو نقصان پہنچانے، فوج کے خلاف بیانات دینے اور 190 ملین پاؤنڈ کرپشن کیس پر پردہ ڈالنے کے لیے سرگرم رہتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا میں 12 سال سے پی ٹی آئی کی حکومت ہے، اگر وہ امن و امان قائم نہیں رکھ سکتے تو گنڈا پور کو استعفیٰ دے دینا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ پوری قوم اور تمام سیاسی جماعتیں پاک فوج کے ساتھ کھڑی ہیں، سوائے پی ٹی آئی کے۔ نواز شریف اجلاس میں طبی وجوہات کی بنا پر شریک نہیں ہوسکے، مگر انہوں نے واضح کیا کہ وہ ملک کی خدمت کے لیے ہر وقت تیار ہیں۔

شیئر کریں

:مزید خبریں