ملتان (قوم ہیلتھ ریسرچ سیل) حکومت پنجاب کے محکمہ ہیلتھ کی پردہ پوشی، سیاسی پشت پناہی، سیاسی ڈاکٹروں کی غیر ضروری مداخلت اور ہر سطح کی کمزور انتظامی گرفت نے سیدھے سادھے نشتر میڈیکل یونیورسٹی کے ایچ آئی وی کیس کے وہی سلوک کیا جو گزشتہ 70 سال سے سنگین نوعیت کے معاملات کے ساتھ ہوتا آ رہا ہے۔ اس معاملے کے حوالے سے ماہر سرجنز اور ڈاکٹرز نے روزنامہ قوم کو چند سوالات بھجوا کر ان پر سرکاری اور تحقیقاتی سطح کی توجہ مرکوز کرنے کی فوری ضرورت پر زور دیا ہے۔ یہ سوالات اس طرح سے ہیں۔
1۔ایچ ائی وی رپورٹ کے باوجود الیکٹو سرجری کیوں کر کی گئی؟
2۔کیا ایک غیر ہنگامی (Elective) اور بغیر درد والی کولوسٹومی ریورسل سرجری HIV کی حتمی رپورٹ کے بغیر کی جا سکتی ہے؟
3۔کیا یہ حقیقت نہیں کہ سرجری ڈیپارٹمنٹ کو HIV سکریننگ پازیٹو آنے کی اطلاع ایک بار نہیں بلکہ دو بار دی گئی تھی؟
4۔ اگر سرجری ٹیم کو پازیٹو سکریننگ کے بارے میں پہلے ہی سے آگاہ کر دیا گیا تھا تو پھر ELISA کے ذریعے دوبارہ HIV ٹیسٹ کروانے کی ہدایات کیوں دی گئی؟
5۔ جب ELISA ٹیسٹ ہو چکا تھا تو پھر حتمی رپورٹ کا انتظار کیے بغیر آپریشن پروسیجر کو آگے بڑھانے کا فیصلہ کس نے اور کس بنیاد پر کیا گیا؟
6۔کیا یہ حقیقت ہے کہ مریض کا کیس بالکل بھی ایمرجنسی کا نہیں بلکہ ایک معمول کا الیکٹو پروسیجر تھا جسے باآسانی ملتوی کیا جا سکتا تھا تو کیوں ملتوی نہ کیا گیا ایسی کیا مجبوری تھی؟
7۔کیا یہ حقیقت نہیں کہ مریض نہ تو شدید درد میں تھا، نہ اس کا خون بہہ رہا تھا اور نہ ہی جان بچانے کی کسی بھی طرح کی فوری ضرورت تھی تو پھر ’’انسانی ہمدردی‘‘کی بنیاد پر سرجری کرنے کا جواز کیا بنتا تھا؟
8۔کیا وارڈ اور سرجری ٹیم کو لیب اور ڈیپارٹمنٹ آف پیتھالوجی کی جانب سے HIV پازیٹو سکریننگ کے بارے میں بروقت آگاہ کر دیا گیا تھا؟
9۔ کیا لیب کے پاس ویڈیو، تحریری دستاویزات اور مواصلاتی ریکارڈ سمیت جملہ ثبوت موجود ہیں جو ثابت کریں کہ تمام مطلوبہ اطلاعات سرجری ٹیم تک پہنچائی گئی تھی؟
10۔کیا یہ درست ہے کہ HIV ایک حساس رپورٹ ہوتی ہے جس کے باعث ایس او پی اور پروٹوکول کے مطابق CNIC، مکمل شناختی تفصیلات اور تصدیقی عمل مکمل ہونے تک حتمی رپورٹ اپ لوڈ نہیں ہو سکتی تھی؟
11۔اگر ایسا ہی تھا تو پھر رپورٹ کی تاخیر کا مکمل الزام پیتھالوجی ڈیپارٹمنٹ پر کیوں کر اور کیسے ڈالا گیا؟
12۔ کیا سرجری ڈیپارٹمنٹ نے رپورٹ کے حصول کے لیے کسی ہنگامی فالواپ یا فوری تصدیق کا مطالبہ کیا تھا؟
13۔ اگر رپورٹس موصول ہونے سے پہلے ہی آپریشن کرنا مقصود تھا تو پھر پیتھالوجی سے مشورہ لینے اور دوبارہ ٹیسٹ کروانے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟
14۔کیا آپریشن کے دوران ایک جونیئر نرس نے مثبت رپورٹ کا انتظار کرنے کی فوری ضرورت پر زور نہیں دیا تھا؟
15۔کیا ہیڈ نرس نے یہ کہہ کر اعتراض مسترد نہیں کر دیا تھا کہ ’’یہ سر ہراج کا کیس ہے اور یہ پروٹوکول کا معاملہ ہے‘‘؟
16۔ کیا بعد ازاں پیتھالوجی پر تاخیر کا ناجائز اور بے بنیاد الزام نہیں لگایا گیا جبکہ اصل ریکارڈ اور آن لائن دستاویزات کے مطابق سرجری ٹیم کو ایک رات پہلے اطلاع دی جا چکی تھی؟
17۔ کیا یہ بھی حقیقت ہے کہ سرجری ڈیپارٹمنٹ نے مقررہ وقت تک رپورٹ پورٹل چیک ہی نہیں کیا؟
18۔ کیا بعد میں یہ بھونڈا مؤقف اختیار نہیں کیا گیا کہ HBV اور HCV منفی ہونے کی صورت میں HIV مثبت ہونے کے باوجود بھی کیس کے ساتھ آگے بڑھایا جا سکتا ہے؟
19۔کیا طبی اصول واقعی یہ کہتے ہیں کہ ہیپاٹائٹس بی اور سی کے منفی ہونے کا مطلب HIV رسک نہ ہونا ہے یا پھر طبی ماہرین کے مطابق HBV، HCV اور HIV الگ الگ وائرس ہیں جن کے ٹرانسمیشن، تشخیص اور انکیوبیشن کے پیٹرنز بھی مختلف ہوتے ہیں؟
20۔کیا اس پورے معاملے میں ذمہ داری صرف جونیئر ڈاکٹروں اور عملے پر ڈالی جا سکتی ہے؟ یا پھر انکوائری میں سرجری، اینستھیزیا، وارڈ انتظامیہ اور تمام متعلقہ شعبوں کے کردار کا یکساں جائزہ لیا جائے گا؟
21۔کیا یہ میرٹ کے مطابق نہیں کہ تحقیقات مکمل ہونے تک متعلقہ سینئر ذمہ داران کو بھی معطل کرکے غیر جانبدارانہ انکوائری کو یقینی بنایا جائے؟
22۔یہاں سب سے اہم ترین سوال یہ ہے، آیا اس حساس معاملے میں اصل حقائق سامنے آئیں گے یا بیانیہ، طبی سیاست اور الزام تراشی اصل ذمہ داروں اور ذمہ داریوں کو دھندلا دے گی؟







