لیڈز یونیورسٹی ملتان کیمپس جعلی قرار، ایچ ای سی کا تمام داخلے فوری روکنے کا حکم

ملتان (سٹاف رپورٹر) لیڈز یونیورسٹی کے ملتان فرنچائز کیمپس میں مبینہ طور پر غیر قانونی اور غیر مجاز تعلیمی سرگرمیاں جاری ہونے کا انکشاف ہوا ہے جس سے بھاری فیسیں دینے والے طلبا و طالبات کا وقت اور پیسہ ضائع ہو رہا ہے۔ ہائر ایجوکیشن کمیشن نے سخت نوٹس لیتے ہوئے اس ادارے کو جہاں فوری طور پر تمام ڈگری پروگرامز میں داخلے روکنے کا تحریری حکم دے دیا ہے وہیں پر اسے جعلی اور غیر قانونی اداروں کی فہرست میں بھی شامل کر لیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق ہائر ایجوکیشن کمیشن کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ مراسلے میں واضح کیا گیا ہے کہ مذکورہ ادارہ نہ تو کسی تسلیم شدہ چارٹر کا حامل ہے اور نہ ہی کسی باقا عدہ منظور شدہ پبلک سیکٹر یونیورسٹی سے الحاق رکھتا ہے، اس کے باوجود اس جعلی ادارے کی انتظامیہ کی طرف سے سوشل میڈیا پر خود کو ایک مکمل ڈگری ایوارڈ کرنے والی یونیورسٹی ظاہر کیا جا رہا تھا۔ ہائر ایجوکیشن کمیشن نے اس عمل کو گمراہ کن، غیر قانونی اور طلبہ کے مستقبل سے کھلواڑ قرار دیا ہے۔ مراسلے میں کہا گیا ہے کہ قانون کے مطابق کوئی بھی ادارہ ہائر ایجوکیشن کمیشن کی پیشگی منظوری کے بغیر نہ تو ڈگری پروگرام شروع کر سکتا ہے اور نہ ہی خودمختار کیمپس چلا سکتا ہے۔ اس کے باوجود لیڈز یونیورسٹی ملتان کیمپس کی جانب سے مبینہ طور پر طلبہ کو داخلے دینے کی کوششیں جاری تھیںجو کہ ہائر ایجوکیشن کمیشن کے مطابق سنگین خلاف ورزی ہے۔ کمیشن نے ادارے کو سات دن کے اندر اندر اپنی سرگرمیاں بند کر کے رپورٹ جمع کروانے کا حکم دیا ہےجبکہ حکومت پنجاب کو بھی ہدایت کی گئی ہے کہ وہ فوری کارروائی کرتے ہوئے اس غیر قانونی نیٹ ورک کو بند کرے اور ذمہ داران کے خلاف سخت قانونی اقدامات اٹھائے۔ تعلیمی حلقوں میں اس انکشاف کے بعد تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ طلبہ اور والدین کو بھی خبردار کیا گیا ہے کہ وہ کسی بھی تعلیمی ادارے میں داخلہ لینے سے قبل اس کی HEC سے منظوری اور قانونی حیثیت کی مکمل تصدیق کریں تاکہ کسی بھی ممکنہ دھوکے سے بچا جا سکے۔

Leads University Multan #leadsuniversitymultan

شیئر کریں

:مزید خبریں