ملکی مسائل کی جڑ آئین پر عمل نہ ہونا ہے، موجودہ نظام ہی مؤثر ہے: رانا ثنا اللہ-ملکی مسائل کی جڑ آئین پر عمل نہ ہونا ہے، موجودہ نظام ہی مؤثر ہے: رانا ثنا اللہ-"مسلمان ہونے پر فخر ہے، پانچ وقت کی نماز باقاعدگی سے ادا کرتی ہوں"، راکھی ساونت-"مسلمان ہونے پر فخر ہے، پانچ وقت کی نماز باقاعدگی سے ادا کرتی ہوں"، راکھی ساونت-تھانے کے اندر خاتون سے مبینہ زیادتی، اے ایس آئی گرفتار، ایس ایچ او سمیت 78 اہلکار معطل-تھانے کے اندر خاتون سے مبینہ زیادتی، اے ایس آئی گرفتار، ایس ایچ او سمیت 78 اہلکار معطل-کشمیر میں حکومت سازی، نواز شریف نے کابینہ سے متعلق پارٹی پالیسی واضح کر دی-کشمیر میں حکومت سازی، نواز شریف نے کابینہ سے متعلق پارٹی پالیسی واضح کر دی-ڈپٹی کمشنر ملتان کا بڑا ایکشن، چیف وارڈن سول ڈیفنس اسد اللہ کھیڑا ڈی نوٹیفائی، اختیارات کے مبینہ غلط استعمال پر کارروائی-ڈپٹی کمشنر ملتان کا بڑا ایکشن، چیف وارڈن سول ڈیفنس اسد اللہ کھیڑا ڈی نوٹیفائی، اختیارات کے مبینہ غلط استعمال پر کارروائی

تازہ ترین

لودھراں: لوکل گورنمنٹ منصوبوں میں کرپشن، ٹینڈر پول اور کمیشن خوری، ٹھیکیداروں پر نوازشات

لودھراں(مرزا ندیم سے) محکمہ لوکل گورنمنٹ لودھراں میں مبینہ طور پر کرپشن، ٹینڈر پول، کمیشن خوری اور من پسند ٹھیکیداروں کو نوازنے کا انکشاف جبکہ جاری ترقیاتی منصوبوں میں ناقص میٹریل کے استعمال کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ ذرائع کے مطابق محکمہ کے ایس ڈی او، سب انجینئر، اکاؤنٹنٹ اور سٹینو گرافر نے مبینہ ملی بھگت سے تقریباً 6 کروڑ روپے کے ترقیاتی منصوبوں کے ٹینڈرز پول کروا کر لاکھوں روپے کی مبینہ وصولیاں کیں اور بعد ازاں ورک آرڈرز جاری کرکے منصوبے مخصوص ٹھیکیداروں میں تقسیم کر دیئے گئے۔تفصیلات کے مطابق پلیاں، ٹف ٹائل، سولنگ، گلیوں اور دیگر ترقیاتی کاموں کیلئے جاری کئے گئے 6 بڑے ٹینڈرز میں مبینہ طور پر شفافیت کو نظر انداز کیا گیا۔ الزام ہے کہ ایس ڈی او لوکل گورنمنٹ صہیب اللّہ، سب انجینئر عابد غنی، اکاؤنٹنٹ اور سٹینو گرافر ساجد غوری نے بعض ٹھیکیداروں کے ساتھ مبینہ ساز باز کرکے پہلے ٹینڈرز پول کروائے اور پھر مبینہ طور پر 3 فیصد کمیشن وصول کیا گیا۔ منصوبوں میں حقیقی مقابلہ بازی ختم کرکے ’’سیٹنگ‘‘کے ذریعے مخصوص افراد کو نوازا گیا۔ذرائع نے مزید انکشاف کیا ہے کہ ٹینڈر پول کرنے کیلئے ایک مبینہ ٹیکنیکل طریقہ استعمال کیا جاتا ہے۔ آن لائن ٹینڈرنگ کے عمل میں متعدد ٹھیکیدار حصہ تو لے لیتے ہیں تاہم سی ڈی آر (Call Deposit Receipt) جو کہ مینوئل طور پر جمع کروانا لازمی ہوتی ہے،بعض ٹھیکیدار مبینہ طور پر جان بوجھ کر جمع نہیں کرواتے، جس کے باعث ان کے ٹینڈرز تکنیکی بنیادوں پر پول یا ڈس کوالیفائی ہو جاتے ہیں اور مخصوص ٹھیکیداروں کو فائدہ پہنچایا جاتا ہے۔ ذرائع کے مطابق اس طریقہ کار کے ذریعے مبینہ طور پر مقابلے کا عمل محدود کرکے من پسند افراد کو نوازنے کی راہ ہموار کی جاتی ہے۔ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ جاری ترقیاتی منصوبوں میں مبینہ طور پر ناقص میٹریل کا استعمال بھی دھڑلے سے جاری ہے۔ ٹف ٹائل منصوبوں میں ناقص کوالٹی کی اینٹیں اور کمزور میٹریل استعمال ہونے کی شکایات سامنے آرہی ہیں جبکہ سولنگ اور پلیوں کے کام میں بھی غیر معیاری اشیاء کے استعمال کا سلسلہ جاری ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ اس صورتحال سے سرکاری فنڈز کے ضیاع کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔ذرائع کے مطابق منصوبوں کی نگرانی کا مؤثر نظام بھی نظر نہیں آرہا جبکہ مبینہ طور پر متعلقہ افسران ٹھیکیداروں کو کھلی چھوٹ دے رہے ہیں۔ ترقیاتی منصوبوں میں ڈی جی ایل کو بھی اعتماد میں نہ لینے کا انکشاف سامنے آیا ہے۔ شہری، سماجی اور سیاسی حلقوں نے وزیراعلیٰ پنجاب، سیکرٹری لوکل گورنمنٹ، کمشنر ملتان، ڈپٹی کمشنر لودھراں اور ڈائریکٹر اینٹی کرپشن سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر منصوبوں کا تھرڈ پارٹی آڈٹ اور میٹریل ٹیسٹ کرایا جائے تو مبینہ کرپشن اور ناقص تعمیراتی کاموں کے مزید بڑے انکشافات سامنے آسکتے ہیں۔دوسری جانب موقف لینے پر DGL راؤ منصب نے کہا کہ میں اس کمیٹی کا حصہ نہیں تھا، میرے علم میں نہیں ہے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں