لاہور کیلئے زیادہ بجٹ: علی موسیٰ گیلانی، جنوبی پنجاب کارڈ نہ کھیلیں: عظمیٰ بخاری

لاہور(بیورورپورٹ) وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے علی موسیٰ گیلانی کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ جنوبی پنجاب کارڈ کھیل کر سیاست چمکانے کی کوشش نہ کی جائے۔اپنے بیان میں عظمیٰ بخاری نے کہا کہ یا تو وہ حقائق سے لاعلم ہیں یا پھر جان بوجھ کر سیاسی پوائنٹ سکورنگ کر رہے ہیں، لاہور اور اسلام آباد سے نکل کر تعصب کی عینک اتار کر جنوبی پنجاب کا دورہ کیا جائے تاکہ وہاں ہونے والی ترقی واضح طور پر نظر آ سکے، وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے اپنے ہر ترقیاتی منصوبے میں جنوبی پنجاب کو ترجیح دی ہے۔عظمیٰ بخاری کا کہنا تھا کہ مریم نواز کی نظر میں کوئی جنوبی پنجاب اور سینٹرل پنجاب نہیں صرف ایک پنجاب ہے، سب سے پہلے الیکٹرک بسیں جنوبی پنجاب میں آئی ہیں، جنوبی پنجاب سمیت صوبے کے 10 اضلاع میں الیکٹرک بسیں کامیابی سے چل رہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ جلد تمام تحصیلوں میں بھی الیکٹرک بسیں چلتی نظر آئیں گی، جبکہ اپنی چھت اپنا گھر سکیم کے تحت زیر تعمیر دو لاکھ گھروں میں اکثریت جنوبی پنجاب میں تعمیر ہو رہی ہے۔وزیر اطلاعات پنجاب نے مزید کہا کہ جنوبی پنجاب میں کھیل کے نئے میدان بن رہے ہیں اور ہسپتالوں کی اپ گریڈیشن کا سلسلہ جاری ہے، گرین ٹریکٹر، کسان کارڈ اور سپر سیڈر سب سے زیادہ جنوبی پنجاب کے کسانوں کو دیے گئے۔عظمیٰ بخاری نے کہا کہ کچے کے علاقے کی ترقی اور امن و امان کے لیے 10 ارب روپے خرچ کیے جا رہے ہیں۔انہوں نے علی موسیٰ گیلانی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ہر بار اپنی ڈوبتی سیاست بچانے کے لیے جنوبی پنجاب کا جھوٹا کارڈ نہ کھیلیں، جب مخالفین کے پاس سیاست کرنے کے لیے کوئی اور مؤثر بیانیہ نہیں بچتا تو وہ جنوبی پنجاب کا معاملہ اٹھانا شروع کر دیتے ہیں، تاہم ایسی سیاسی بلیک میلنگ کامیاب نہیں ہوگی۔قبل ازیںسینئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب نے اپنے اتحادی جماعت پیپلز پارٹی کے پارلیمانی لیڈر علی موسیٰ گیلانی کو بجٹ کی تفصیلات کے بارے میں آگاہ کیا ۔سینئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب نے پارلیمانی لیڈر علی گیلانی کو پنجاب کے بجٹ اخراجات، انکم سمیت دیگر شعبوں کیلئےرکھے جانےوالے اخراجات کے بارے میں بتایا ۔پیپلز پارٹی کے پارلیمانی لیڈر علی موسیٰ گیلانی کا کہنا ہے کہ ہم نے جنوبی پنجاب کو صوبہ نہ بنانے، کسانوں کے نقصانات کا بہتر ازالہ نہ ہونے اور پالیسی نہ بنانے پر اعتراضات کئے ہیں۔ بجٹ میں سب سے زیادہ فنڈز لاہور کے لیےہیں جبکہ پنجاب کے دیگر اضلاع کو نظر انداز کیا جا رہا ہے ۔ستھرا پنجاب شہروں کی حد تک بہتر جبکہ دیہاتوں بدستور گندگی سے دوچار ہیں۔صفائی کےلیےاکٹھا ہونے والے کوڑا کرکٹ کیلئے لینڈ فل سائیڈ نہ ہونے سے َ زمینی فضائی آلودگی بڑھ رہی ہے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں