فورٹ منرو میں معمولی تلخ کلامی پر فائرنگ، نوجوان قتل، سیاحوں میں خوف و ہراس

ڈیرہ غازیخان (ڈسڑکٹ رپورٹر،خبرنگار )جنوبی پنجاب کے خوبصورت اور معروف سیاحتی مقام فورٹ منرو میں معمولی تلخ کلامی کے نتیجے میں فائرنگ کا افسوسناک واقعہ پیش آیاجس میں ایک نوجوان سیاح جان کی بازی ہار گیا۔ واقعے کے بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا جبکہ سیاحوں اور مقامی شہریوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہےتفصیلات کے مطابق عمران حجابانی ولد لعل بخش جو سخی سرور کا رہائشی تھا، تفریح اور سیاحت کی غرض سے فورٹ منرو آیا ہوا تھا۔ ذرائع کے مطابق دورانِ قیام اس کی چند مقامی افراد کے ساتھ کسی بات پر تلخ کلامی ہوگئی۔ ابتدائی طور پر معمولی نوعیت کا تنازع سمجھا جانے والا یہ معاملہ اچانک شدت اختیار کر گیا اور فریقین کے درمیان کشیدگی پیدا ہوگئی۔عینی شاہدین کے مطابق تلخ کلامی کے دوران ایک شخص نے مبینہ طور پر عمران پر فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں وہ شدید زخمی ہوگیا۔ واقعے کے فوراً بعد علاقے میں بھگدڑ مچ گئی اور مقامی افراد نے زخمی نوجوان کو طبی امداد فراہم کرنے کی کوشش کی۔ تاہم وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے موقع پر ہی دم توڑ گیا۔واقعے کی اطلاع ملتے ہی بارڈر ملٹری پولیس کے اہلکار موقع پر پہنچ گئے اور علاقے کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کرنا شروع کر دیے۔ پولیس نے مقتول کی لاش ضروری قانونی کارروائی کے بعد ورثا کے حوالے کردی جبکہ ملزمان کی گرفتاری کے لیے تحقیقات کا دائرہ وسیع کر دیا گیا ہے۔دوسری جانب فورٹ منرو میں پیش آنے والے اس افسوسناک واقعے نے سیاحوں میں عدم تحفظ کے احساس کو بڑھا دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ فورٹ منرو ہر سال ہزاروں سیاحوں کی توجہ کا مرکز بنتا ہے، اس لیے وہاں امن و امان کی صورتحال کو یقینی بنانا انتہائی ضروری ہے۔ دوسری جانب بعض افراد کا کہنا ہے کہ واقعہ اتفاقی طور پر پیش آیا۔ ان کے مطابق سیاحتی مقام پر موجود ایک شخص نے نشانہ بازی کے شوق میں کسی دوسرے فرد سے بندوق لے کر فائر کیا جو غلطی سے محمد عمران کو جا لگا۔واقعے کے حوالے سے مؤقف جاننے کے لیے کمانڈنٹ بارڈر ملٹری پولیس (بی ایم پی) امیر تیمور سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا گیا اور فورٹ منرو تھانے کی کارروائی سمیت واقعے کی اصل نوعیت کے بارے میں استفسار کیا گیا، تاہم ان کی جانب سے کوئی ردعمل موصول نہیں ہوا۔

شیئر کریں

:مزید خبریں