ملتان (سٹاف رپورٹر) وزیراعظم شہباز شریف کی حکومت نے فنانس بل 2026-27 کے ذریعے درآمدی گاڑیوں پر عائد ڈیوٹیز اور ٹیکسوں میں نمایاں کمی کرکے آٹو سیکٹر میں ایک بڑا ریلیف دینے کا اعلان کیا ہے۔ اس فیصلے کو عوامی حلقوں، آٹو ماہرین اور درآمد کنندگان کی جانب سے خوش آئند قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ مارکیٹ میں توقع ظاہر کی جا رہی ہے کہ آئندہ چند ہفتوں میں گاڑیوں کی قیمتوں میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئے گی۔ فنانس بل کے مطابق 1800 سی سی گاڑیوں پر مجموعی ڈیوٹی اور ٹیکس کی شرح 156 فیصد سے کم کرکے 74 فیصد، 1500 سی سی سے زائد گاڑیوں پر 91 فیصد سے 57 فیصد، 1000 سے 1500 سی سی گاڑیوں پر 76 فیصد سے 52 فیصد جبکہ 850 سی سی گاڑیوں پر 66 فیصد سے کم کرکے 42 فیصد کر دی گئی ہے۔ حکومت نے 1800 سی سی تک کی گاڑیوں پر اسپیشل ایکسائز ڈیوٹی بھی ختم کرنے کی تجویز دی ہے۔ آٹو مارکیٹ سے وابستہ ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر نئی ٹیکس شرحوں کا مکمل فائدہ صارفین تک منتقل کیا گیا تو 50 لاکھ روپے سے زائد مالیت کی درآمدی گاڑیوں کی قیمتوں میں تقریباً 8 سے 10 لاکھ روپے جبکہ 50 لاکھ روپے سے کم قیمت والی گاڑیوں میں 5 سے 6 لاکھ روپے تک کمی آنے کے امکانات ہیں۔ اگرچہ اصل کمی مختلف عوامل جیسے ڈالر کی شرح، شپنگ اخراجات اور جاپان میں خریداری کی قیمت پر بھی منحصر ہوگی، تاہم مجموعی رجحان قیمتوں میں کمی کی جانب اشارہ کر رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق درآمدی گاڑیوں کی قیمتوں میں ممکنہ کمی سے مقامی آٹو انڈسٹری پر بھی شدید دباؤ پڑے گا۔ اگر مقامی گاڑیاں بنانے والی کمپنیاں اپنی قیمتوں میں مناسب کمی نہ کر سکیں تو صارفین نسبتاً بہتر معیار اور مسابقتی قیمتوں پر دستیاب درآمدی گاڑیوں کا رخ کر سکتے ہیں، جس سے مقامی کمپنیوں کو اپنی قیمتوں اور پالیسیوں پر نظرثانی کرنا پڑ سکتی ہے۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ بجٹ کی منظوری سے قبل ہی متعدد آٹو کمپنیوں اور ڈیلرز نے مختلف پروموشنز، خصوصی آفرز اور آسان اقساط کے منصوبے متعارف کروا کر خریداروں کو اپنی جانب متوجہ کرنا شروع کر دیا ہے، جسے مارکیٹ میں بڑھتے ہوئے مسابقتی رجحان کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔ عوامی حلقوں نے حکومت کے اس اقدام کو مہنگائی کے دور میں ایک مثبت پیش رفت قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ اگر درآمدی ڈیوٹی میں دی گئی رعایت کا فائدہ مکمل طور پر صارفین تک منتقل کیا گیا تو معیاری گاڑیوں کی خریداری متوسط طبقے کے لیے پہلے کے مقابلے میں زیادہ آسان ہو سکے گی۔







