فارما کمپنیاں بھی پیچھے نہ رہیں، ادویات قیمتوں میں 241 فیصد تک اضافہ، مریض رل گئے

ملتان (نیوز رپورٹر)فارماکمپنیاں بھی پیچھےنہ رہیں۔ ادویات کی قیمتوں میں 241فیصدتک اضافہ کردیا۔غریبوں کیلئے علاج کرانابھی مشکل ہوگیا۔ پاکستان کیمسٹ اینڈ ڈرگسٹ ایسوسی ایشن سائوتھ پنجاب کے صدر محمد اختر بٹ نے ملک بھر میں ادویات کی قیمتوں میں حالیہ ہوشربا اضافے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ زندگی بچانے والی اور روزمرہ استعمال کی ادویات کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ عوام کیلئے ناقابل برداشت ہوتا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ صورتحال نہ صرف عام مریضوں بلکہ خاص طور پر کرونک بیماریوں میں مبتلا افراد کیلئے سنگین خطرہ بن چکی ہے۔انہوں نے بتایا کہ مختلف ادویات کے پرانے اور نئے بیچز کی قیمتوں کا تفصیلی جائزہ لینے سے واضح ہوا ہے کہ متعدد ادویات کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ کیا گیا ہے، جن میں بعض کیسز میں اضافہ 100 فیصد سے بھی تجاوز کر گیا ہے۔ اس حوالے سے تیار کردہ تفصیلی ڈیٹا کے مطابق تھائیرائیڈ کی دوا Thyronorm کی قیمت میں تقریباً 241 فیصد جبکہ انسولین ڈیوائس HumaPen Ergo II کی قیمت میں 114 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہےجو کہ انتہائی تشویشناک ہے۔مزید برآںدیگر عام استعمال کی ادویات میں بھی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ Bevidox میں 20 فیصد، CitroSoda میں 17 فیصد اور Tiovair میں تقریباً 15 فیصد اضافہ سامنے آیا ہےجبکہ Surbex-Z اور Lice-O-Mite Lotion جیسی ادویات میں نسبتاً کم اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ ماہرین کے مطابق اگرچہ بعض ادویات میں اضافہ کم ہےمگر مجموعی طور پر قیمتوں کا رجحان عوامی صحت کیلئے خطرناک اشارہ دے رہا ہے۔تفصیلات کے مطابق قیمتوں کا تقابلی جائزہ کچھ یوں ہے: CitroSoda کی قیمت 530 روپے سے بڑھ کر 620 روپے، Surbex-Z کی 480 سے 510 روپے، Bevidox کی 500 سے 600 روپے، HumaPen Ergo II کی 2200 سے بڑھ کر 4720 روپے، Thyronorm کی 85.10 سے بڑھ کر 290 روپے، Tiovair کی 805 سے 930 روپے جبکہ Lice-O-Mite Lotion کی 147.44 سے 152.06 روپے تک پہنچ گئی ہے۔ محمد اختر بٹ نے کہا کہ یہ اضافہ خاص طور پر ذیابیطس، تھائیرائیڈ اور سانس کی بیماریوں میں مبتلا مریضوں کیلئے نہایت نقصان دہ ہے کیونکہ یہ مریض مسلسل ادویات کے استعمال پر انحصار کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ انسولین اور تھائیرائیڈ جیسی بنیادی ادویات میں اس قدر شدید اضافہ مریضوں پر ناقابل برداشت مالی بوجھ ڈال رہا ہےجس کے نتیجے میں کئی مریض علاج ادھورا چھوڑنے پر مجبور ہو سکتے ہیں۔انہوں نے اس امر کی نشاندہی بھی کی کہ مختلف بیچز میں قیمتوں کا واضح فرق ادویات کی قیمتوں کے تعین اور ان کی نگرانی کے نظام میں موجود کمزوریوں کو ظاہر کرتا ہے۔ ان کے مطابق یہ صورتحال فوری توجہ اور مؤثر پالیسی اقدامات کی متقاضی ہے۔صدر پاکستان کیمسٹ اینڈ ڈرگسٹ ایسوسی ایشن ساؤتھ پنجاب نےحکومتِ پاکستان اور ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (DRAP) سے مطالبہ کیا ہے کہ ادویات کی قیمتوں میں اس غیر معمولی اضافے کا فوری نوٹس لیا جائے، قیمتوں کو کنٹرول کرنے کیلئے سخت اقدامات کیے جائیں اور عوام کو فوری ریلیف فراہم کیا جائے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر اس مسئلے کو نظرانداز کیا گیا تو یہ ایک بڑے عوامی صحت کے بحران کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کیمسٹ ایسوسی ایشن عوام کے حقوق کے تحفظ کیلئے ہر ممکن قانونی اور آئینی راستہ اختیار کرے گا اور اس حوالے سے pcda کے پلیٹ فارم سے آواز بلند کی جائے گی۔

شیئر کریں

:مزید خبریں