صادق یونیورسٹی، “قوم” کی نشاندہی پر انتظامیہ نے گھٹنے ٹیک دیئے، ڈپٹی خزانچی فارغ

ملتان (سٹاف رپورٹر) بالآخر مسلسل صحافتی دباؤ اور ٹھوس شواہد کے سامنے گورنمنٹ صادق کالج وومن یونیورسٹی بہاولپور کی انتظامیہ کو گھٹنے ٹیکنے پڑ گئے اور روزنامہ قوم کی مسلسل نشاندہی کے بعد متنازع ڈپٹی خزانچی منصور احمد خان کو ان کے عہدے سے فوری طور پر فارغ کر دیا گیا۔ اس اچانک مگر اہم پیش رفت کو تعلیمی حلقے ایک بڑی کامیابی اور احتسابی عمل کی پہلی کڑی قرار دے رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق منصور احمد خان کے خلاف طویل عرصے سے سنگین نوعیت کے الزامات زیرِ گردش تھے، جن میں مالی بے ضابطگیاں، خواتین کے ادارے میں ڈرگز کی ترسیل، انتظامی اختیارات کا ناجائز استعمال، ریکارڈ میں مبینہ ٹیمپرنگ اور غیر اخلاقی سرگرمیوں میں ملوث ہونے جیسے الزامات شامل تھے۔ ان الزامات کے باوجود یونیورسٹی انتظامیہ طویل عرصے تک خاموش تماشائی بنی رہی، بلکہ بعض اعلیٰ حکام کی جانب سے مبینہ طور پر انہیں مکمل تحفظ بھی فراہم کیا جاتا رہا۔ یاد رہے کہ روزنامہ قوم نے اس معاملے کو نہ صرف بھرپور انداز میں اجاگر کیا بلکہ دستاویزی شواہد کے ساتھ بارہا یہ سوال اٹھایا کہ آخر کیوں ایک ایسے افسر کے خلاف کارروائی نہیں کی جا رہی جس کے خلاف متعدد انکوائریاں زیرِ التواء ہیں اور جس کے خلاف ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب کی جانب سے واضح احکامات بھی جاری کیے جا چکے ہیں۔ دستاویزی ریکارڈ کے مطابق حکومتِ پنجاب کے ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ نے باقاعدہ حکم دیا تھا کہ منصور احمد خان کے خلاف PER میں مبینہ ٹیمپرنگ کے معاملے پر ڈی نوو فیکٹ فائنڈنگ انکوائری کی جائے، اور انہیں مکمل حقِ دفاع فراہم کیا جائے۔ تاہم حیران کن طور پر یونیورسٹی انتظامیہ نے اس واضح حکم کو نظرانداز کیے رکھا، جو سرکاری احکامات کی کھلم کھلا خلاف ورزی کے مترادف تھا۔ ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ یونیورسٹی کی عارضی رجسٹرار ڈاکٹر صائمہ انجم، جو خود بھی طویل عرصے تک متنازع اور مبینہ طور پر غیر قانونی حیثیت میں عہدے پر براجمان رہیں، منصور احمد خان کو مسلسل تحفظ فراہم کرتی رہیں۔ یہاں تک کہ ابتدائی مراحل میں انہوں نے کھل کر ان کے حق میں بیانات بھی دیے اور کارروائی کی مخالفت کی۔ دوسری جانب وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر شازیہ انجم نے بھی ابتدا میں اس معاملے سے لاتعلقی اختیار کرتے ہوئے یہ مؤقف اپنایا کہ “یہ کیس میرے دور سے پہلے کا ہے، اس لیے میں اس پر کارروائی نہیں کر سکتی” — جسے تعلیمی حلقوں نے شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور اسے اختیارات سے فرار قرار دیا۔ تاہم روزنامہ قوم کی مسلسل خبروں، عوامی دباؤ، اور اعلیٰ سطح پر بھیجی گئی شکایات کے بعد بالآخر یونیورسٹی انتظامیہ کو ہنگامی بنیادوں پر سنڈیکیٹ کا اجلاس طلب کرنا پڑا۔ ذرائع کے مطابق اس اہم اجلاس میں وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر شازیہ انجم اور رجسٹرار ڈاکٹر صائمہ انجم (بطور سیکرٹری سنڈیکیٹ) کی موجودگی میں فیصلہ کیا گیا کہ منصور احمد خان کو فوری طور پر عہدے سے ہٹا دیا جائے۔ اجلاس کے بعد نہ صرف ان کی برطرفی کا نوٹیفکیشن جاری کرنے کے احکامات دیے گئے بلکہ انہیں فوری طور پر سرکاری رہائش گاہ خالی کرنے کی ہدایت بھی جاری کر دی گئی۔ اس اقدام کو یونیورسٹی کی تاریخ میں ایک اہم اور غیر معمولی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق منصور احمد خان کے خلاف مختلف نوعیت کے شواہد اور رپورٹس صوبائی وزیر تعلیم تک بھی پہنچ چکی تھیں، مگر اس کے باوجود کارروائی میں تاخیر ہوتی رہی۔ اس صورتحال میں روزنامہ قوم کی مسلسل اور جارحانہ صحافت نے کلیدی کردار ادا کیا، جس نے نہ صرف معاملے کو زندہ رکھا بلکہ متعلقہ حکام کو عملی اقدام پر مجبور بھی کیا۔ تعلیمی و قانونی حلقوں کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی اگرچہ خوش آئند ہے، مگر اصل سوال اب بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ آخر اتنے سنگین الزامات کے باوجود ایک افسر کو اتنے طویل عرصے تک کیوں بچایا جاتا رہا؟ اور کیا اس کے پس پردہ موجود دیگر کرداروں کا بھی احتساب ہوگا؟ ماہرین نے مطالبہ کیا ہے کہ اس پورے معاملے کی آزادانہ اور شفاف تحقیقات کرائی جائیں، تاکہ نہ صرف حقائق سامنے آ سکیں بلکہ مستقبل میں کسی بھی سرکاری تعلیمی ادارے میں اس نوعیت کی بدعنوانی اور اختیارات کے ناجائز استعمال کا راستہ روکا جا سکے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں