شیخ زید میڈیکل کالج میں ایڈمن راج، طلبہ سے لوٹ مار، ملازمین خوف و ہراس کا شکار

رحیم یارخان(بیورو رپورٹ) پنجاب حکومت نے صوبہ بھر کے میڈیکل کالجوں میں ایڈمن افسر کی اجارہ داری کو ختم کرنےکیلئے ایڈمن کی پوسٹ ختم کردی، پرنسپل شیخ زید میڈیکل کالج نے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے اپنے کماؤ پتر کو ایڈمن افسر بنا کر میڈیکل کالج میں تعینات کرکے سیاہ و سپید کا مالک بنادیا،میڈیکل کالج میں زیر تعلیم طلباء و طالبات لوٹ مار کا بازار گرم،پروگراموں،فنکشنزکے نام پرطالب علموں سے پیسے وصول کئے جانے کا انکشاف،پرنسپل اور میڈیکل انتظامیہ کا موقف دینے سے صاف انکار۔تفصیل کے مطابق وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے اپنے منصب سنبھالتے ہی پنجاب بھر کے میڈیکل کالجوں میں ایڈمن کی پوسٹ کو ختم کرکے ریکارڈ افسر کی پوسٹ قائم کردی گئی ریکارڈ افسر کا کام میڈیکل کالج میں زیر تعلیم طلباء و طالبات کا اور ادارے کا ریکارڈ مین ٹین کرنا ہوتا ہے مگر رحیم یارخان میں پرنسپل شیخ زید میڈیکل کالج پروفیسر ڈاکٹر سلیم لغاری نے پنجاب حکومت کی رٹ کو چیلنج کرتے ہوئے اور اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے اپنے کماؤ پتر غلام مصطفیٰ کو غیر قانونی طور پر ایڈمن افسر کی پوسٹ پر تعینات کرنے کے بعد سیاہ سپید کا مالک بنادیا ہے۔ذرائع نے انکشاف کرتے ہوئے بتایا کہ غلام مصطفیٰ کے میڈیکل کالج میں ایڈمن افسر کے غیر قانونی آرڈر ہونے کے بعد کرپشن کا بازار گرم ہے اور میڈیکل کالج میں زیر تعلیم طلباءو طالبات سے پروگراموں،فنکشنزکے نام پر پیسوں کی لوٹ مار کرنے کے ساتھ ساتھ میڈیکل کالج کے اخراجات،وزٹر کے جعلی اور فرضی بل بنا کر ہر ماہ لاکھوں روپے کی لوٹ کھسوٹ کی جارہی ہے،ذرائع نے ہوشربا انکشاف کرتے ہوئے بتایا کہ غیر قانونی ایڈمن آفیسر کی سیٹ پر تعینات غلام مصطفیٰ جب سے میڈیکل کالج میں تعینات ہوا ہے خواتین کے ہراسمنٹ کے کیسز میں اضافہ ہو چکا ہے،موصوف کیخلاف میڈیکل کالج کی ایک سٹینو گرافر نے وزیر اعلیٰ پنجاب،چیئرمین پنجاب ویمن پروٹیکشن اتھارٹی اور پرنسپل شیخ زید میڈیکل کالج کو ایک درخواست بھی گزاری ہے جس میں انہوں نے الزامات کی بوچھاڑ کرتے ہوئے موقف اختیار کیا ہے کہ میڈیکل کالج میں خاتون کے ساتھ امتیازی سلوک کیا گیا ہے جس پر پرنسپل شیخ زید میڈیکل کالج پروفیسر ڈاکٹر سلیم لغاری نے ماہر نفسیات ڈاکٹر سمیت تین رکنی کمیٹی تشکیل دی جس میں خاتون ذہنی مریضہ قرار دیکر میڈیکل بورڈ بنا کر خاتون کی درخواست کو خارج کرنے کا پلان مرتب کیا گیا ہے تاکہ پرنسپل شیخ زید میڈیکل کالج اپنے کماؤ پتر غلام مصطفیٰ کو کاروائی سے بچا سکیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ پرنسپل شیخ زید میڈیکل کالج پروفیسر ڈاکٹر سلیم لغاری غیر قانونی ایڈمن افسر کی پوسٹ پر تعینات غلام مصطفیٰ کے بغیر اندھا اور میڈیکل کالج میں ہونے والے تمام کام غلام مصطفیٰ کی مرضی سے ہوتے ہیں،ذرائع نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ غلام مصطفیٰ اس سے قبل شیخ زید ہسپتال میں تعینات رہ چکا ہے جہاں وہ درجہ چہارم کی بھرتیوں میں لاکھوں روپے وصول کرنے کے الزامات میں مرکزی ملزم رہا ہے مگر پرنسپل شیخ زید میڈیکل کی ایما پر اس کیخلاف کوئی کاروائی عمل میں نہیں لائی گئی۔اس حوالے سے موقف جاننے کیلئے متعدد بار پرنسپل شیخ زید میڈیکل کالج پروفیسر ڈاکٹر سلیم لغاری سے رابطہ کرنا چاہا مگر انہوں نے فون کالز اٹینڈ کرنے کی بجائے نمبرز بند کر دئیے،سرکاری نمبر پر رابطہ کرنے پر معلوم ہوا ہے کہ موصوف ڈپٹی کمشنر آفس گئے ہیں واپس آئینگے تو رابطہ کروا دیا جائیگا جو تاحال نہ ہوسکا۔اس حوالے سے ایڈمن افسر کی غیر قانونی پوسٹ پر تعینات غلام مصطفیٰ نے اپنے موقف میں کہا کہ میری تعیناتی پرنسپل شیخ زید میڈیکل کالج پروفیسر ڈاکٹر سلیم لغاری نے کی۔ ایڈمن کی پوسٹ ہے یا نہیں اس کا جواب پرنسپل شیخ زید میڈیکل کالج دینگے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں