سہولتکار کامیاب، آر پی او، ڈی پی او ناکام، سابق ایس ایچ او دلبر حسین کی ضمانت کنفرم

بہاولپور ( کرائم سیل)آر پی او اور ڈی پی او بہاولپور کی سابقہ ایس ایچ او احمد پور شرقیہ دلبر حسین کو منشیات کے ایک کیس میں گرفتار کرنے کی کوششیں ناکام ہو گئیںجبکہ پیسے لے کر ایس ایچ او لگوانے والے ڈی پی او آفس کی لابی کی کوششیں رنگ لے آئیں اور تفتیش میں معاونت اور مکمل سہولت کاری سے ضمانتیں کنفرم ہونے والی روزنامہ قوم کی خبریں سچ ثابت ہو گئیں۔ لاہور ہائی کورٹ بہاولپور کے ڈبل رکنی بینچ نے منشیات کیس میں دلبر حسین کی عبوری ضمانتیں کنفرم کر لی۔ یاد رہے کہ دلبر حسین سب انسپکٹر نے 24 جنوری کو تھانہ مسافر خانہ میں ہونے والے منشیات 43 کلو سے زائد منشیات کے مقدمے میں سیشن کورٹ سے عبوری ضمانتیں کرائیں۔ 13 مارچ کو سیشن کورٹ سے عبوری ضمانت خارج ہونے اور ڈی ایس پی لیگل کے کو چکمہ دے کر عدالت سے فرار ہو گئے جس کی خبر روزنامہ قوم نے شائع کی۔ 18 مارچ کو خبر ہم نے دی کہ ڈی پی او بہاولپور میں عبوری ضمانتوں کے حصول کے لیے ہائی کورٹ سے پہلے ہی دلبر حسین کو گرفتار کرنے کے لیے ٹیمیں تشکیل دیں مگر یہ کوشش ناکام ہو گئی اور دلبر حسین فلمی سٹائل میں عدالت آیا اور عدالت عالیہ سے عبوری ضمانت حاصل کر لی۔ اس کے بعد بالاخر گزشتہ روز عدالت عالیہ کے ڈبل رکنی بینچ نے عبوری ضمانتوں کو کنفرم کرنے کے احکامات جاری کیے جس سے ڈی پی او اور آر پی او بہاولپور کے دلبر حسین کو گرفتار کرنے کے احکامات بھی بہاولپور پولیس مکمل نہ کر سکی۔ ان تمام تر حالات کی لمحہ بہ لمحہ انویسٹیگیشن رپورٹنگ روزنامہ قوم پہلے ہی افسران اور عوام کے سامنے لا چکا ہے۔ ایک حاضر سروس ایس ایچ او کے مکان سے اتنی بھاری مقدار میں منشیات برآمد ہونے کی بازگشت مقامی و قومی میڈیا پر زیر بحث رہی۔ اسی دوران دلبر کی جانب سے پانچ لاکھ روپے ڈی پی او آفس میں دے کر ایس ایچ او شپ حاصل کرنے کے دعوے بھی رہے، جس کی وجہ سے آر پی او بہاولپور اور ڈی پی او دلبر حسین کو گرفتار کر کے تفتیش کرنا چاہتے تھے، مگر روزنامہ قوم یہ پہلے ہی تحقیقاتی رپورٹ مقدمہ درج ہونے کے بعد شائع کر چکا ہے کہ مقدمے کی تحریر میں ملزم کے لیے بہت سی رعایتیں ہیں، جس کی وجہ سے عدالتوں سے اسے بہت بڑا ریلیف مل گیا، جو ایک حقیقت کا ثبوت ہے کہ ساڑھے 43 کلو منشیات کے مقدمے میں بغیر گرفتاری کے ضمانتیں کنفرم ہو جانا بہاولپور پولیس کی ناکامی کا بہت بڑا ثبوت ہے۔قانون کی سمجھ بوجھ رکھنے والے مختلف افراد اس بات پر پہلے سے ہی بضد ہیں کہ دلبر حسین اس مقدمے سے بری ہو جائے گا جو کہ ہو سکتا ہے اگے جا کے سچ ثابت ہو جائے۔ بہاولپور میں سینیئر صحافی کی انویسٹیگیشن کے مطابق دلبر حسین پر مقدمہ سی سی ڈی اور پنجاب پولیس کے افسران کی آپسی چپقلش کا نتیجہ ہے۔ ہم نے یہ بھی حقائق بتائے کہ برآمد ہونے والی منشیات اصل منشیات نہیں تھی، پولیس کے نہایت ذمہ دار ذرائع کے مطابق دلبر سے برآمد ہونے والی منشیات اور اس کے گھر سے برآمد ہونے والے دوسرے مواد سے یہ بات واضح ہے کہ اس میں مختلف چیزیں ملا کر دو نمبر منشیات تیار کی جاتی تھی، کیونکہ پولیس کی جانب سے جاری کی گئی منشیات برامد ہی کی تصویر اور ویڈیوز میں بھی دیکھا جا سکتا ہے کہ وہاں پر پرانے ٹائر لک وغیرہ موجود تھی جس سے مقدمے مال مقدمے کے لیے چرس تیار کی جاتی تھی۔ دوسرے نئے آنے والے تفتیشی افسران اس سے مال مقدمہ خریدتے اور کار گزاری کے مقدمات درج کرتے تھے۔ اب یہ تمام تفصیلات اور تفتیش کے اصل حقائق اسی وقت سامنے آ سکتے تھے کہ اگر دلبر حسین گرفتار ہوتا اور اس کی تفتیش کی جاتی۔ عوامی و سماجی حلقے دلبر حسین کی ان ضمانتوں کو بہاولپور پولیس کی بہت بڑی ناکامی قرار دے رہے ہیں۔

شیئر کریں

:مزید خبریں