ملتان (کرائم سیل) تھانہ شاہ شمس کی حدود میں واقع سنبل کالونی کی کچی آبادی سی بلاک مبینہ طور پر منشیات فروشوں کی محفوظ پناہ گاہ بنتی جا رہی ہے، جہاں چرس ، نشے کے انجکشن کی کھلے عام خرید و فروخت نے والدین کو خوفزدہ اور بچوں کے مستقبل کو داؤ پر لگا دیا ہے۔ مقامی شہریوں نے الزام عائد کیا ہے کہ پولیس کی ناک کے نیچے یہ کاروبار عرصے سے جاری ہےمگر کارروائیاں وقتی اور محدود دکھائی دیتی ہیں۔علاقہ کے ایک مکین بابا ریاض نے گفتگو کرتے ہوے بتایا شیری ولد ندیم عرف بھانبڑ اور آکاش ولد جگا اس غیر قانونی دھندے کے بڑے نام مانے جاتے ہیں جبکہ کم عمر بچوں کو مبینہ طور پر ترسیل کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔شہریوں نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ یہ صرف جرم نہیں بلکہ ایک پوری نسل کو تباہ کرنے کی منظم سازش ہے۔بابا ریاض کے مطابق گزشتہ روز پولیس نے فیضان نامی نوجوان کو ویگن سے چرس کے ساتھ گرفتار کیا، تاہم اہل علاقہ کا دعویٰ ہے کہ وہ صرف سپلائی کرنے والا تھا، اصل مال ایک مبینہ ملزم “کاش” کا تھا، جس نے فیضان کو ویگن میں بٹھایا جبکہ خود 125 موٹرسائیکل پر ساتھ ساتھ چلتا رہا۔ مقامی افراد کا سوال ہے کہ اگر اصل سرغنہ سامنے تھا تو گرفتاری صرف کمزور کڑی تک کیوں محدود رہی؟سماجی شخصیت بابا ریاض نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ علاقے میں منشیات فروشوں کی سرگرمیاں کسی سے پوشیدہ نہیں۔ ان کے بقول پولیس کو تمام اہم افراد، ان کے ٹھکانے اور سپلائی کے راستے معلوم ہیںمگر کارروائی سست روی کا شکار ہے۔ انہوں نے بتایا کہ یہاں کے بعض منشیات ڈیلر سادہ لوح افراد کو شادی کرانے کے جھانسے دے کر اپنے جال میں پھنساتے ہیں اور بعد ازاں انہی کے ذریعے منشیات کی ترسیل کراتے ہیں۔مکینوں نے نشاندہی کی کہ سرکاری پولٹری فارم سے ملحقہ مین گلی جو کچی آبادی کے اندر جاتی ہے، مبینہ طور پر منشیات فروشی کا مرکز بن چکی ہے۔ وہاں نوجوانوں کا مشکوک ہجوم، چھوٹے بچوں کی غیر معمولی نقل و حرکت اور رات گئے سرگرمیاں معمول بن چکی ہیں۔شہریوں نے سوال اٹھایا کہ اگر تھانہ چند قدم کے فاصلے پر ہے تو پھر یہ کاروبار اتنے اعتماد سے کیسے جاری ہے؟ کیا پولیس صرف سپلائر پکڑ کر اصل کرداروں کو بچا رہی ہے، یا کارروائیوں کی رفتار اتنی کمزور ہے کہ منشیات فروش دوبارہ نیٹ ورک فعال کر لیتے ہیں؟اہل علاقہ نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز اور آر پی او اور سی پی او ملتان سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔







