سرکاری یونیورسٹی میں 109 ماہ میں 25 ہزار صفحات کی پرنٹنگ، مبینہ بدعنوانی بے نقاب

ملتان (سٹاف رپورٹر) جب دنیا United Nations کے پائیدار ترقی اہداف اور “پیپر فری آفس” جیسے تصورات کی جانب تیزی سے بڑھ رہی ہے، وہیں ایک سرکاری صوبائی یونیورسٹی میں مبینہ طور پر کاغذوں کا سیلاب آ گیا۔ حیران کن انکشاف کے مطابق ایک ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ نے گزشتہ 9 سے 10 ماہ کے دوران تقریباً 50 پیپر رم استعمال کیے—اور ہر رم میں 500 صفحات کے حساب سے کُل 25 ہزار صفحات پرنٹ کیے گئے۔ سوال یہ ہے کہ آخر ایک ہی شعبے میں اتنی بڑی تعداد میں پرنٹس کیوں اور کیسے لیے گئے؟ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ یہ کاغذ صرف دفتری ضروریات تک محدود نہیں رہے بلکہ مبینہ طور پر طلبہ و طالبات کے پروجیکٹس، پریزنٹیشنز، اسائنمنٹس اور فائنل ایئر پروجیکٹس کی کاپیاں پرنٹ کر کے فراہم کی گئیںاور یہ سب ایک “فرنٹ مین” کے ذریعے بھاری رقوم وصول کر کے کیا جاتا رہا۔ یونیورسٹی حلقوں میں گردش کرنے والی شکایات کے مطابق بعض اساتذہ مختلف حیلوں بہانوں سے طلبہ سے اضافی اخراجات وصول کرتے ہیں۔ ایک خاتون ٹیچر کے بارے میں بھی سنگین دعویٰ سامنے آیا ہے کہ وہ اپنی ایم فل طالبات سے فی طالبہ 20 ہزار روپے تک وصول کرتی ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ چھ نام شامل کروا کر ایک لاکھ بیس ہزار روپے اکٹھے کیے جاتے ہیں جبکہ مبینہ طور پر صرف 20 ہزار روپے میں مقالہ شائع کروایا جاتا ہے۔ باقی رقم کہاں جاتی ہے؟ یہ سوال تاحال تشنۂ جواب ہے۔ تعلیمی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ الزامات درست ہیں تو یہ نہ صرف مالی بدعنوانی بلکہ علمی دیانت پر بھی کاری ضرب ہے۔ جامعات جہاں تحقیق، شفافیت اور میرٹ کی علامت سمجھی جاتی ہیں، وہاں اس نوعیت کے الزامات پورے نظام پر سوالیہ نشان ہیں۔ طلبہ تنظیموں نے مطالبہ کیا ہے کہ یونیورسٹی انتظامیہ فوری طور پر ان الزامات کی شفاف انکوائری کرائے، پرنٹنگ ریکارڈ، اسٹیشنری خریداری، اور ریسرچ پبلیکیشن اخراجات کی مکمل آڈٹ رپورٹ جاری کی جائے اور اگر کوئی فرد قصوروار ثابت ہو تو اس کے خلاف سخت تادیبی کارروائی عمل میں لائی جائے۔یہ امر بھی قابلِ غور ہے کہ جب دنیا ڈیجیٹلائزیشن کی طرف بڑھ رہی ہے تو ہمارے تعلیمی اداروں میں کاغذ اور قلم کے پردے میں اگر مبینہ مالی کھیل کھیلا جا رہا ہے تو یہ صرف انتظامی ناکامی نہیں بلکہ ایک اخلاقی بحران بھی ہے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں