سرکاری جامعات میں فارن نیشنلز سے شادیاں، قانونی اجازت پر نئی بحث

سرکاری جامعات میں ملتان (سٹاف رپورٹر)کیا پنجاب کی سرکاری یونیورسٹیوں میں ایسے پروفیسرز، وائس چانسلرز، رجسٹرارز، خزانچی، کنٹرولرز اور دیگر اعلیٰ افسران موجود ہیں جنہوں نے فارن نیشنلز سے شادیاں کر رکھی ہیں؟ اگر ہاں، تو کیا انہوں نے حکومت پنجاب سے قانون کے مطابق پیشگی اجازت حاصل کی؟ یہ سوالات تعلیمی اور سرکاری حلقوں میں ایک نئے قانونی و انتظامی مباحثے کو جنم دے رہے ہیں۔ حکومت پنجاب کے Punjab Civil Servants (Restriction Marriages with Foreign Nationals) Rules, 2011 کے مطابق کوئی بھی سرکاری ملازم اگر کسی غیر ملکی شہری سے شادی کرتا ہے یا شادی کا وعدہ کرتا ہے تو اسے حکومت کی پیشگی اجازت درکار ہوتی ہے، بصورت دیگر اسے “مس کنڈکٹ” تصور کیا جا سکتا ہے اور اس کے خلاف بڑی سزاؤں کی کارروائی ممکن ہے۔ تعلیمی حلقوں کا کہنا ہے کہ پنجاب کی متعدد یونیورسٹیوں میں برسوں سے ایسے کیسز زیرِ بحث رہے ہیں جن میں اعلیٰ عہدوں پر بیٹھے افراد کی غیر ملکی شہریت رکھنے والے افراد سے ازدواجی تعلقات کی باتیں سامنے آتی رہی ہیں، مگر کبھی کھل کر جامع تحقیقات نہیں ہوئیں۔ سب سے بڑا سوال یہ اٹھایا جا رہا ہے کہ اگر قانون واضح ہے تو کیا یہ قانون صرف نچلے درجے کے سرکاری ملازمین کے لیے ہے یا پھر یونیورسٹیوں کے طاقتور حلقوں، پروفیسرز، وائس چانسلرز، رجسٹرارز اور مالیاتی افسران پر بھی یکساں لاگو ہوتا ہے؟ دوسری جانب سرکاری حلقوں سے وابستہ بعض افراد کا مؤقف ہے کہ حکومت سے ایسی اجازت حاصل کرنا ایک طویل، پیچیدہ اور غیر معمولی طور پر سست عمل ہے، اور کئی کیسز میں درخواستیں طویل عرصہ تک التوا کا شکار رہتی ہیں۔ تاہم قانونی ماہرین کے مطابق اجازت کے حصول میں تاخیر قانون کی خلاف ورزی کا جواز نہیں بن سکتی۔ تعلیمی حلقے مطالبہ کر رہے ہیں کہ پنجاب حکومت، ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ اور متعلقہ ادارے واضح کریں کہ کیا سرکاری جامعات کے تمام اعلیٰ افسران کی سروس حیثیت اور قانونی اہلیت کی جانچ کی جاتی ہے؟ کیا فارن نیشنلز سے شادی کے کیسز میں حکومتی اجازت نامے باقاعدہ ریکارڈ پر موجود ہیں؟ اگر اجازت حاصل نہیں کی گئی تو کیا متعلقہ قواعد کے مطابق کارروائی ہوگی؟ یا پھر قانون صرف فائلوں کی زینت بنا رہے گا؟ ماہرین کے مطابق اس معاملے پر شفاف آڈٹ، واضح پالیسی اور غیر جانبدار تحقیقات ناگزیر ہیں تاکہ سرکاری اداروں میں قانون کی یکساں عملداری یقینی بنائی جا سکے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں