سخی سرور چیک پوسٹ عملہ ڈیزل مافیا بن گیا، ہر گاڑی سے تیل ضبط، ٹرانسپورٹر پریشان

ڈیرہ غازی خان (سپیشل رپورٹر) سخی سرور چیک پوسٹ یا سرکاری سرپرستی میں ڈیزل مافیا؟ غریب ڈرائیوروں کی خون پسینے کی کمائی پر مبینہ ڈاکہ، کروڑوں روپے کے کھیل نے کئی سوال کھڑے کر دیے”، ڈیرہ غازی خان میں واقعہ پولیس چیک پوسٹ سخی سرور مبینہ طور پر غریب ٹرانسپورٹرز، ڈرائیوروں اور مزدور طبقے کیلئے عذاب بن گئی ذرائع اور متاثرہ افراد کے مطابق قانون نافذ کرنے کے نام پر ایسا خوفناک کھیل جاری ہے جس نے نہ صرف پولیس کے کردار پر سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں بلکہ ” ایک ملک، دو قانون” کی بحث کو بھی شدت دے دی ہے۔ بلوچستان سے پنجاب آنے والی مال بردار گاڑیوں کو مبینہ طور پر سخی سرور چیک پوسٹ پر روک کر ان کی خوراکی ٹینکیوں سے زبردستی ڈیزل نکالنے کا انوکھا اور حیران کن “غیر تحریری قانون” نافذ کردیا گیا ہے۔ ٹرانسپورٹرز کا کہنا ہے کہ اگر کسی گاڑی کی خوراکی ٹینکی میں 400 سے 500 لیٹر ڈیزل موجود ہو تو مبینہ طور پر 90 سے 200 لیٹر تک ڈیزل موقع پر ہی نکال لیا جاتا ہے، جبکہ اس پورے عمل کی نہ کوئی سرکاری رسید دی جاتی ہے اور نہ ہی کسی قانونی ضابطے کی پیروی کی جاتی ہے۔ متاثرہ ڈرائیوروں کے مطابق بلوچستان میں ایرانی ڈیزل کی خریدوفروخت، ترسیل اور سپلائی ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں لیٹر میں جاری ہے، مگر جیسے ہی یہی گاڑیاں پنجاب کی حدود میں داخل ہوتی ہیں تو سخی سرور چیک پوسٹ پر انہیں مبینہ طور پر “جرم” بنا دیا جاتا ہے۔ سوال یہ اٹھ رہا ہے کہ آخر پاکستان میں دو الگ الگ قانون کیوں نافذ ہیں؟ اگر ایرانی ڈیزل غیر قانونی ہے تو بلوچستان میں کارروائیاں کیوں نہیں ہوتیں؟ اور اگر قانونی ہے تو پنجاب میں صرف غریب ڈرائیوروں اور ٹرانسپورٹرز کو کیوں نشانہ بنایا جا رہا ہے؟۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ رات کے اندھیرے میں مبینہ طور پر پرائیویٹ افراد کو ساتھ ملا کر گاڑیوں سے ڈیزل نکالنے کا دھندا جاری ہے۔ کئی ڈرائیوروں نے الزام لگایا ہے کہ چیک پوسٹ پر موجود بعض اہلکار نہ صرف ان سے بدتمیزی کرتے ہیں بلکہ احتجاج کرنے پر انہیں دھکے، تشدد اور سنگین نتائج کی دھمکیاں بھی دی جاتی ہیں۔ 550 میں گاڑی بند کردیں گے، “اندر کردیں گے”، “خاموشی سے تیل نکلواؤ ورنہ مقدمہ بنے گا” جیسے جملے مبینہ طور پر روز کا معمول بن چکے ہیں۔ چیک پوسٹ کے انچارج تھانیدار کریم بخش پر بھی شدید الزامات سامنے آئے ہیں متاثرین کا کہنا ہے کہ وہ خود کو ایماندار ظاہر کرتے ہیں مگر عملی طور پر غریب مزدوروں اور ڈرائیوروں کیلئے خوف کی علامت بن چکے ہیں۔ قانونی کارروائی کرنے کے بجائے مبینہ طور پر خود جج، جیوری اور جلاد کا کردار ادا کرتے ہوئے گاڑیوں سے ڈیزل نکالنے کے عمل کو “قانون” کا نام دیا جا رہا ہے۔ سوال یہ بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ آخر کس قانون کے تحت کسی شہری کی گاڑی کی خوراکی ٹینکی سے زبردستی تیل نکالنے کی اجازت دی گئی ہے؟۔ ذرائع کے مطابق روزانہ 60 سے 70 ہزار لیٹر تک ڈیزل نکالے جانے کا انکشاف ہوا ہے، جس کی مالیت کروڑوں روپے بنتی ہے۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر اس مبینہ لوٹ مار کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں تو حیران کن حقائق سامنے آسکتے ہیں۔ ٹرانسپورٹرز کے مطابق کئی ڈرائیور قرض لے کر گاڑیاں چلاتے ہیں، دن رات محنت کرتے ہیں، مگر چیک پوسٹ پر پہنچتے ہی ان کی محنت پر پانی پھیر دیا جاتا ہے ڈرائیوروں نے الزام عائد کیا ہے کہ مبینہ طور پر مخصوص گاڑیوں کو مکمل رعایت دی جاتی ہے جبکہ غریب اور کمزور افراد کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔ کئی متاثرین کا کہنا ہے کہ وہ خوف کے باعث کھل کر سامنے نہیں آتے کیونکہ انہیں انتقامی کارروائی، جھوٹے مقدمات اور گاڑیاں بند کرنے کی دھمکیوں کا سامنا رہتا ہے۔ عوامی و سماجی حلقوں نے آئی جی پنجاب، آر پی او ڈیرہ غازی خان، ڈی پی او ڈیرہ غازی خان اور وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ سخی سرور چیک پوسٹ پر مبینہ اختیارات کے ناجائز استعمال، کرپشن، غریب مزدوروں کے معاشی استحصال اور قانون کی کھلی خلاف ورزیوں کی اعلیٰ سطحی تحقیقات کی جائیں۔ شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ چیک پوسٹ پر نصب سی سی ٹی وی فوٹیج، رات کے اوقات میں ہونے والی سرگرمیوں، ڈیوٹی پر موجود اہلکاروں اور مبینہ طور پر شامل پرائیویٹ افراد کی مکمل چھان بین کی جائے۔ ساتھ ہی یہ بھی مطالبہ سامنے آیا ہے کہ متاثرہ ڈرائیوروں اور ٹرانسپورٹرز کے بیانات ریکارڈ کرکے اس مبینہ ڈیزل اسکینڈل میں ملوث اہلکاروں کے خلاف فوری محکمانہ اور قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر ریاستی ادارے واقعی قانون کی بالادستی چاہتے ہیں تو پھر قانون سب کیلئے ایک ہونا چاہیے۔بلوچستان میں خاموشی اور پنجاب میں غریب ڈرائیوروں پر سختی نے کئی خطرناک سوالات کو جنم دے دیا ہے۔ اگر فوری نوٹس نہ لیا گیا تو یہ معاملہ نہ صرف ٹرانسپورٹرز کے احتجاج بلکہ ایک بڑے عوامی بحران کی شکل اختیار کرسکتا ہے۔ دوسری جانب انچارج چیک پوسٹ سخی سرور کریم بخش سے موقف لینے کی کوشش کی لیکن انہوں نے موقف دینے سے انکار کر دیا۔

شیئر کریں

:مزید خبریں