ستھرا پنجاب مظفر گڑھ میں کوڑا گردی، “قوم” کی نشاندہی پر جی ایم کا ایکشن، 11 ملازم فارغ

مظفرگڑھ(بیورو رپورٹ) ستھرا پنجاب مظفرگڑھ کی پختہ کرپشن کے بخیے ادھڑنے لگے۔قوم کی خبروں پر ایکشن،عید کے دوسرے روز جی ایم ستھرا پنجاب کے دورے کے دوران نئے آنے والے ایڈمن سمیت 11 ملازمین نوکری سے فارغ کر دیئے گئے۔ڈی سی مظفرگڑھ کا ڈمپ ایریا مظفرگڑھ کا اچانک وزٹ،38 ٹن ریت سے بھرے ڈمپر کے بذات خود معائنے نے تمام راز فاش کر دیئے۔سپیشل برانچ کے اچانک وزٹ پر عملہ رات گئے مشینری چھوڑ کر بھاگ گیا۔کوڑے کا مطلوبہ ہدف ابھی تک پورا کرنا ممکن نہیں ہو پا رہا۔تفصیلات کے مطابق گزشتہ ماہ کے دوران ڈی سی مظفرگڑھ عثمان طاہر جپہ نے اچانک ستھرا پنجاب کے ڈمپ ایریا ایف ایس ایل کا وزٹ کیا انہوں نے کوڑے کے بھرے ڈمپر کو روک کر خود ڈمپ کروایا اور ریت کے اوپر سجائے گئے کوڑے کا خود جائزہ لیا وہاں سے ڈی سی مظفرگڑھ ایکو بس سروس کے اڈے کے قریب ٹی سی پی ایریا میں پہنچے تھے تو وہاں حسب معمول کھدائی ہو رہی تھی جبکہ ڈی سی مظفرگڑھ طاہر عثمان جپہ کی آمد کی اطلاع پہلے سے عملے کو مل چکی تھی اس لیے عملہ ان کے پہنچنے سے قبل ہی کھدائی میں استعمال ہونے والی کرین اور دیگر مشینری میدان میں چھوڑ کر قریبی ریت کے ٹیلوں میں چھپ گیا۔ ڈی سی مظفرگڑھ نے ایڈمنسٹریٹر مظفرگڑھ ستھرا پنجاب یوسف چھینہ کو وہاں بلایا اور تمام صورتحال پر بات چیت کی۔اس کے بعد ٹی سی پی ایریا جہاں تمام تحصیلوں کا کوڑا اکٹھا ہوتا تھا اسے مستقل طور پر ختم کر دیا گیا۔دوسرے روز رات 10 بجے جبکہ ڈمپر ڈمپ ایریا میں پہلے سے ڈمپ کیے گئے کوڑے کو لائٹیں بند کر کے دوبارہ کرین کے ذریعے ڈمپر میں ڈال رہے تھے تو سپیشل برانچ کے کچھ افسران کے آنے پر عملہ مشینری وہیں چھوڑ کر بھاگ گیا۔عید کے دوسرے روز طے شدہ شیڈول کے مطابق جی ایم ستھرا پنجاب حبیب اللہ ظفر کا ڈمپ ایریا پر وزٹ تھا۔وہاں مکمل انتظامات نہ ہونے اور دیگر معاملات پر نئے آنے والے ایڈمن محمد شہباز سمیت دیگر 11 ستھرا پنجاب ٹیم کے ورکرز کو انہوں نے موقع پر ہی معطل کر دیا ۔گزشتہ ماہ ریجنل منیجرمظفرگڑھ شاہ زمان،تحصیل منیجر عادل سپہ اور اے ایم رانا نعیم کو پہلے ہی معطل کر دیا گیا ہے۔رانا نعیم عارضی طور پر ستھرا پنجاب مظفرگڑھ میں اپنے فرائض سر انجام دے رہے ہیں ۔باوثوق ذرائع کے مطابق ابھی تک کوڑا کا روزانہ کا مطلوبہ ہدف پورا کرنے کے لیے ستھرا پنجاب مظفرگڑھ کی ٹیم کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں