ملکی مسائل کی جڑ آئین پر عمل نہ ہونا ہے، موجودہ نظام ہی مؤثر ہے: رانا ثنا اللہ-ملکی مسائل کی جڑ آئین پر عمل نہ ہونا ہے، موجودہ نظام ہی مؤثر ہے: رانا ثنا اللہ-"مسلمان ہونے پر فخر ہے، پانچ وقت کی نماز باقاعدگی سے ادا کرتی ہوں"، راکھی ساونت-"مسلمان ہونے پر فخر ہے، پانچ وقت کی نماز باقاعدگی سے ادا کرتی ہوں"، راکھی ساونت-تھانے کے اندر خاتون سے مبینہ زیادتی، اے ایس آئی گرفتار، ایس ایچ او سمیت 78 اہلکار معطل-تھانے کے اندر خاتون سے مبینہ زیادتی، اے ایس آئی گرفتار، ایس ایچ او سمیت 78 اہلکار معطل-کشمیر میں حکومت سازی، نواز شریف نے کابینہ سے متعلق پارٹی پالیسی واضح کر دی-کشمیر میں حکومت سازی، نواز شریف نے کابینہ سے متعلق پارٹی پالیسی واضح کر دی-ڈپٹی کمشنر ملتان کا بڑا ایکشن، چیف وارڈن سول ڈیفنس اسد اللہ کھیڑا ڈی نوٹیفائی، اختیارات کے مبینہ غلط استعمال پر کارروائی-ڈپٹی کمشنر ملتان کا بڑا ایکشن، چیف وارڈن سول ڈیفنس اسد اللہ کھیڑا ڈی نوٹیفائی، اختیارات کے مبینہ غلط استعمال پر کارروائی

تازہ ترین

ساہیوال: آٹھویں کلاس کا ٹک ٹاکر طالبعلم اجتماعی زیادتی کے بعد قتل، لاش جانور کھا گئے

ساہیوال(نمائندہ خصوصی) تین نامعلوم ملزمان کی آٹھو یں جماعت کے طالب علم کو اجتماعی زیادتی کے بعد اس کی تیز دھار آلے سے گردن جسم سے علیحدہ کر کے قتل کر دیا اور فرار ہو گئے۔ پولیس نے ایک ہفتے کے بعد طالب علم کے جسم کی باقیات کو برآمد کر لیا مقتول کی لاش کو جانور کھیتوں میں نوچ نوچ کر کھاتے رہے اور مقتول کا صرف تھوڑا سا سر کا حصہ اور ایک ٹانگ کی چھوٹی سی ہڈی ملی ہے جبکہ باقی جسم کا حصہ غائب تھا مقتول چار بہنوں کا اکلوتا بھائی تھا پولیس نے مقدمہ درج کر لیا ہے ایس ایچ او تھانہ غلہ منڈی کنور صمیم الرحمان کے مطابق طالب علم حسن قیصر 7 مئی کی صبح اپنے گاؤں 94 نائن ایل سے حسب معمول اپنی بڑی بہن کو سرکی بازار غلہ منڈی گورنمنٹ گرل ہائی سکول میں چھوڑنے کے لیے آیا اور وہ لاپتہ ہو گیا مقتول جو کہ ٹک ٹاک بنانے کا شوقین تھا وہ اپنی بہن کو سکول چھوڑنے کے بعد کنعان پارک چلا گیا ہے جہاں پر ٹک ٹاک بنا رہا تھا کہ تین ملزمان اسے ٹریپ کر کے اپنے ہمراہ ہڑپہ لے گئے وہاں پر انہوں نے مقتول کے کپڑے اتار کر انہی کپڑوں کے ساتھ اس کے ہاتھ پاؤں باندھے اور اس کے ساتھ باری باری کئی مرتبہ مسلسل زیادتی کرتے رہے جب اس کی حالت غیر ہو گئی اور اس نے شور مچایا تو ملزمان نے چھری نکال کر اس کی گردن کاٹ کر جسم سے جدا کر دی اور اسے گاؤں دو 10 ایل کے کھیتوں میں پھینک کر فرار ہو گئے جہاں اس کی لاش ایک ہفتے تک پڑی رہی جسے جانور کھا گئے۔ ایس ایچ او کنور صمیم الرحمان کے مطابق ملزمان کا ایک منظم گینگ ہے جو کہ نو عمر بچوں کو ٹریپ کر کے اپنے ہمراہ لے جاتے ہیں اور ان سے زیادتی کرتے ہیں۔ پولیس نے 10 مئی کو طالب علم مقتول کے لاپتہ ہونے کا مقدمہ درج کیا تھا اب پولیس نے لاش ملنے کے بعد قتل کا بھی مقدمہ درج کر لیا ہے۔ بچے کی شناخت اس کے جوتوں، بیگ اور موٹر سائیکل سے ہوئی ایس ایچ او نے مزید بتایا کہ ملزموں کو جلد گرفتار کر کے کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا اور مقتول کے والدین کو انصاف مہیا کیا جائے گا پولیس نے مقتول کے جسم کی باقیات کو اکٹھا کر کے ایک تھیلے میں ڈال کر پوسٹ مارٹم کے لیے ہسپتال منتقل کر دیا ہے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں