رحیم یار خان: رجسٹری برانچ میں کھلی بھتہ خوری، بیان 20 ہزار، رجسٹری کے 50 ہزار وصول

رحیم یارخان(بیورو رپورٹ) رجسٹری برانچ رحیم یارخان میں محرروں کی آشیر باد سے ایجنٹوں اور پرائیویٹ افراد نے ڈیرے ڈال لئے،زرعی اور کمرشل زمینوں کی خریدو فروخت کے بعد زمینوں کے انتقال،بیانات اور رجسٹریوں کیلئے رجسٹری برانچ آنیوالے سائلین کی سب رجسٹرار اور دفتری عملے تک رسائی انتہائی مشکل ترین ہوگئی،رجسٹری برانچ کے اندر اور باہر موجود ایجنٹس سائلین کو گیٹس،احاطوں میں روک کر فوری بیان،انتقالات اور رجسٹریاں کروانے کا جھانسہ دیکر سب رجسٹرار کے نام پر روزانہ کی بنیاد پر لاکھوں روپے کی لوٹ مار کرنے میں مصروف ہیں،ذرائع نے بتایا کہ رجسٹری محرروں نے سرکاری اکاؤنٹس کی لاگ ان رسئی اور سرکاری ریکارڈ تک ایجنٹوں اور پرائیویٹ افراد کو مہیا کر رکھا ہے جو من مرضی سے زرعی اور کمرشل زمینوں کے سرکاری ریٹس میں ردو بدل کرنے کے ساتھ ساتھ زرعی اور کمرشل زمینوں کے انتقالات میں ٹمپرنگ کرنے سمیت رجسٹریوں میں حدود اور پیمائش کو تبدیل کرکے لینڈ مافیا سے لاکھوں روپے وصول کررہے ہیں اور شہری اراضی کو اربن اراضی میں منتقل کرکے سرکاری خزانے کو ہر ماہ کروڑوں روپے کا نقصان پہنچا رہے ہیں،ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ محرر، ایجنٹس اور پرائیویٹ افراد کا’’ٹرائیکا‘‘ بلدیہ، ایف بی آر فیسوں کی مد میں لاکھوں روپے کا ہیر پھیر کرنے میں ملوث ہے، محرران بلدیہ فیس،ایف بی آر فیس کے جعلی چالان بناتے ہیں اور سائلین سے فیسوں کی مد میں رقم وصول کرنے کے بعد نیشنل بنک میں چالان جمع کروانے کی بجائے چالان غائب کرکے لاکھوں روپے رقم خود ہڑپ کرنے کے ماہر ہیں، ذرائع نے بتایا کہ رجسٹری برانچ رحیم یارخان کا صرف سال 2025ء کا آڈٹ کروا لیا جائے ،سال 2025ء میں ہونیوالی رجسٹریوں میں بلدیہ اور ایف بی آر فیسوں کی ریکارڈ نیشنل بنک سے لیا جائے تو حقیقت سامنے آ جائیگی کہ پورے ایک سال میں گنتی کی رجسٹریوں کی ایف بی آر فیس اور بلدیہ فیس جمع کروائی گئی ہے جبکہ سال 2025ء میں تقریباً رحیم یارخان تحصیل میں 1000 سے زائد زرعی و کمرشل رجسٹریاں ہوئی ہیں جن کی ایف بی آر اور بلدیہ فیسیں سرکاری خزانے میں جمع نہیں ہوئی اور یہ کروڑوں روپے کی رقم محرروں سمیت دیگر سرکاری افسران کے پرائیویٹ کھاتوں میں جمع ہوئی ہیں، سائل محمد ایوب نے بتایا کہ اس نے اپنی زرعی زمین کا انتقال کروانا تھا جس کیلئے وہ رجسٹری برانچ گیا تو وہاں پر موجود محرر نے انہیں ایک پرائیویٹ شخص کا ایڈریس بتایا کہ فلاں شخص کے پاس جاؤ وہ تمہارا کام پیسوں کے عوض فوراً کروا دیگا، سائل محمد ایوب کے مطابق انتقال کروانے کی مد میں 25 ہزار رشوت وصول کی گئی اور 3 دن میں انتقال کروا دیا گیا جس کیلئے ایک مہینے سے سرکاری دفتر کے چکر لگا لگا کر تھک چکا تھا،ایک سائلہ نائلہ اسلم نے بتایا کہ اس نے مکان کی رجسٹری کروانے کیلئے جبکہ رجسٹری برانچ گئی تو وہاں موجود محرر نے انہیں تین ماہ تک ذلیل کیا بعد میں ماجد نامی ایجنٹ سے رابطہ کیا تو انہوں نے فوری رجسٹری کروانے کی مد میں 50 ہزار روپے رشوت وصول کی اور ایک ہفتے میں رجسٹری بیان سب کچھ ہو گئے۔متاثرین نے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز،چیف سیکرٹری پنجاب،کمشنر بہاولپور اور ڈپٹی کمشنررحیم یارخان سے مطالبہ کیا ہے کہ رجسٹری برانچ سے ایجنٹ مافیا کا خاتمہ کیا جائے اور کرپٹ محرروں کیخلاف قانون کے مطابق کاروائی عمل میں لائی جائے۔اس حوالے سے جب موقف جاننے کیلئے سب رجسٹرار عمران حفیظ سے متعدد بار رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی مگر انہوں نے فون کالز اٹنڈ نہیں کیں، جبکہ رجسٹری محرروں کا کہنا تھا کہ رجسٹری برانچ سرکاری دفتر ہے یہاں پر وہ کسی کو آنے سے روک نہیں سکتے ، سائلین ایجنٹ مافیا کی بجائے ڈائریکٹ سرکاری ملازمین سے رابطہ کریں تمام کام میرٹ کی بنیادوں پر ہونگے۔

Rahim Yar Khan, Registry Branch Rahim Yar Khan, land corruption Pakistan

شیئر کریں

:مزید خبریں