دنیاپور (کرائم رپورٹر)دنیاپور کی مویشی منڈی میں کیٹل مینجمنٹ اتھارٹی اور متعلقہ عملے کی مبینہ ملی بھگت سے مقررہ نرخوں سے زائد وصولیوں کے الزامات سامنے آگئے ہیں۔بیوپاریوں اور مویشی پال حضرات کا کہنا ہے کہ سرکاری نرخ نامے کے برعکس اضافی رقم وصول کی جا رہی ہے جبکہ متعلقہ حکام خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔متاثرہ افراد کے مطابق منڈی میں بڑے جانور پر 2500 روپے جبکہ چھوٹے جانور پر 400 روپے وصول کیے جا رہے ہیں حالانکہ تمام سرکاری ٹیکسوں اور فیسوں کو ملا کر بڑے جانور کی فیس 1800 سے 2000 روپے اور چھوٹے جانور کی فیس تقریباً 300 روپے بنتی ہے۔ اس حوالے سے مبینہ طور پر دو ویڈیوز منظر عام پر آگئیں۔پہلی ویڈیو میں ٹھیکیدار کے مبینہ نمائندے کو واضح طور پر یہ کہتے سنا جا سکتا ہے کہ 10 جانوروں کے عوض 25 ہزار روپے ادا کئے جائیں جبکہ بیوپاریوں کا مؤقف ہے کہ سرکاری نرخوں کے مطابق 10 بڑے جانوروں کی فیس تقریباً 18 ہزار سے 20 ہزار روپے بنتی ہے۔دوسری ویڈیو میں ایک بیوپاری الزام عائد کرتا نظر آتا ہے کہ اس کے پانچ چھوٹے جانوروں کی سرکاری پرچی 1500 روپے کی بنائی گئی تاہم اس سے 2000 روپے وصول کئے گئے۔بیوپاری کا کہنا ہے کہ اضافی وصول کی جانے والی رقم کی کوئی رسید یا قانونی جواز فراہم نہیں کیا گیا۔متاثرین کا مزید کہنا ہے کہ اضافی وصولیوں کا یہ عمل کھلے عام جاری ہے اور جس مقام پر یہ رقوم وصول کی جا رہی ہیں وہاں سے کچھ ہی فاصلے پر کیٹل مینجمنٹ اتھارٹی کا اہلکار موجود رہتا ہے تاہم وہ کسی قسم کی مداخلت یا کارروائی نہیں کرتا ۔مزید برآں ایک اور ویڈیو میں مبینہ طور پر دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک غریب جانور پال شخص اپنا جانور فروخت نہ ہونے کے باعث واپس لے جانے لگا۔ ویڈیو کے مطابق اس شخص نے مقررہ فیس کے طور پر 2000 روپے ادا کرنے کی کوشش کی، تاہم وہاں موجود افراد نے یہ رقم لینے سے انکار کر دیا۔ متاثرہ شخص کی منت سماجت اور بار بار درخواستوں کے باوجود اس سے 2400 روپے وصول کیے گئے، جس کے بعد اسے جانے کی اجازت دی گئی۔ ۔بیوپاریوں، مویشی پال حضرات اور شہری حلقوں نے ڈپٹی کمشنر لودھراں، اسسٹنٹ کمشنر دنیاپور اور دیگر اعلیٰ حکام سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ویڈیوز کی فرانزک اور انتظامی تحقیقات کرائی جائیں، وصولیوں کا مکمل آڈٹ کیا جائے اور اگر الزامات درست ثابت ہوں تو ذمہ دار عناصر کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔







