پی ٹی آئی اور تحریک تحفظ آئین پاکستان کا عمران خان کی رہائی کے لیے جلسے جلوسوں کا اعلان-پی ٹی آئی اور تحریک تحفظ آئین پاکستان کا عمران خان کی رہائی کے لیے جلسے جلوسوں کا اعلان-ٹرمپ کا پاکستان کے ذریعے ایرانی تجاویز پر ردعمل، مذاکرات پر عدم اطمینان کا اظہار-ٹرمپ کا پاکستان کے ذریعے ایرانی تجاویز پر ردعمل، مذاکرات پر عدم اطمینان کا اظہار-ججز ٹرانسفر کے بعد اسلام آباد ہائیکورٹ کی سنیارٹی لسٹ تبدیل، نیا ڈیوٹی روسٹر جاری-ججز ٹرانسفر کے بعد اسلام آباد ہائیکورٹ کی سنیارٹی لسٹ تبدیل، نیا ڈیوٹی روسٹر جاری-پیٹرول اور ڈیزل پر 153 اور 116 روپے تک ٹیکسز و مارجنز کا انکشاف، اصل قیمت سامنے آگئی-پیٹرول اور ڈیزل پر 153 اور 116 روپے تک ٹیکسز و مارجنز کا انکشاف، اصل قیمت سامنے آگئی-جعلی شہریت: ایف آئی اے تحقیقات مکمل، 9 یو سی سیکرٹریز ملوث، اینٹی کرپشن کو رپورٹ ارسال-جعلی شہریت: ایف آئی اے تحقیقات مکمل، 9 یو سی سیکرٹریز ملوث، اینٹی کرپشن کو رپورٹ ارسال

تازہ ترین

دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک کی مسجد میں خودکش دھماکا، مولانا حامد الحق سمیت 5 افراد شہید

نوشہرہ: دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک کی جامع مسجد میں نماز جمعہ کے دوران ہونے والے خود کش دھماکے میں جے یو آئی (س) کے مرکزی رہنما اور مدرسے کے نائب مہتمم مولانا حامد الحق حقانی سمیت 5 افراد شہید ہوگئے۔

آئی جی خیبرپختونخوا ذوالفقار حمید نے جامعہ حقانیہ کی مسجد میں نماز جمعہ کے دوران خودکش دھماکے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ دھماکے میں ابتدائی طور پر 4 افراد جاں بحق ہوئے اور متعدد افراد شدید زخمی ہیں۔

آئی جی کے پی نے مزید بتایا کہ حملے کا ہدف جامعہ حقانیہ کے سربراہ مولانا حامد الحق حقانی ہی تھے۔ آئی جی خیبر پختونخوا ذوالفقار حمید اور چیف سیکرٹری کے پی شہاب علی شاہ نے دھماکے میں مولانا حامد الحق کے شہید ہونے کی تصدیق کر دی ہے۔

ڈپٹی کمشنر نوشہرہ عرفان اللہ محسود کا کہنا ہے کہ مولانا حامد الحق حقانی کے جسد خاکی کو سی ایم ایچ نوشہرہ منتقل کر دیا گیا ہے، دھماکے میں اب تک 5 افراد کے جاں بحق ہونے کی تصدیق ہو چکی ہے۔

عرفان اللہ محسود کا کہنا تھا کہ دھماکا مسجد کے اس خارجی راستے پر کیا گیا جس سے مولانا حامد الحق نماز کے بعد گھر جاتے تھے۔ دھماکا اس وقت کیا گیا جب مولانا حامد الحق رہائش گاہ کے لیے جا رہے تھے۔

اکوڑہ خٹک میں ہونے والے دھماکے کے بعد پشاور کے لیڈی ریڈنگ اسپتال میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے اور اس حوالے سے ترجمان ایل آر ایچ کا کہنا ہے کہ انتظامیہ اور طبی عملے کو الرٹ رہنے کی ہدایت کر دی گئی ہے اور ہر قسم کی صورتحال کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہیں۔

واقعے کے بعد سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے، جبکہ قانون نافذ کرنے والے ادارے ممکنہ دہشت گردی کے خطرات کے پیش نظر مختلف شہروں میں سیکیورٹی ہائی الرٹ کر رہے ہیں۔

شیئر کریں

:مزید خبریں