بہاولپور ( کرائم سیل)روزنامہ قوم کی صحافتی کوششیں رنگ لے آئیں، سیاستدانوں کے چہیتے اور پولیس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر منشیات فروخت کرنے والے خیرپور ٹامیوالی کے ریکارڈ یافتہ منشیات فروش علی شاہ اور جنید شاہ سی سی ڈی کے ہاتھوں لاہور سے گرفتار ذرائع،جبکہ سی سی ڈی طرز کی ممکنہ فرائی یا ہاف فرائی کارروائی سے بچنے کے لیے عدالتی سہارا لینے کے لیے عدالت عالیہ بہاولپور میں رٹ دائر، آر او سی سی ڈی بہاولپور کو عدالت عالیہ نے طلب کرلیا۔ پولیس ذرائع کے مطابق بہت بڑی بین الصوبائی منشیات فروشوں کی ایک چین کی گرفتاری بھی متوقع ہے۔ عوامی و سماجی حلقوں کا سی سی ڈی کی کارروائی پر اطمینان کا اظہار۔تفصیلات کے مطابق دسمبر 2025 سے روزنامہ قوم نے خیرپور ٹامیوالی کے سید برادر دو بھائیوں علی شاہ اور جنید شاہ منشیات فروشی کے متعلق انکشافات کیے، جس کے بعد فوری طور پر منشیات فروشوں نے سیاسی پناہ حاصل کی اور ایک سیاستدان کے قریبی عزیز کے ڈیرے پر پڑاؤ ڈال لیا ۔انہی منشیات فروشوں کے ڈالے سیاستدانوں کے استعمال کی خبر روزنامہ قوم نے شائع کی تو اس سیاستدان نے ان منشیات فروشوں کی چھٹی کروا دی، بہاولپور میں رہائش رکھی اور پولیس کو چکمہ دیتے رہے مگر ہاتھ نہ آئے، جو کہ سی سی بی کے سربراہ سہیل ظفر چٹھہ کے لیے چیلنج سے کم نہ تھا۔اسی وجہ سے سی سی ڈی نے ان منشیات فروشوں کا تعاقب جاری رکھا اور اطلاعات کے مطابق انہیں اب لاہور سے مضبوط انٹیلیجنس بیس آپریشن کرتے ہوئے بھاری مقدار میں منشیات برآمد کر لی اور انہیں گرفتار کر لیا ہے، جس کے بعد منشیات فروشوں کو بچانے کے لیے ان کے سہولت کار میدان میں آ گئے ہیں اور عدالتوں کا سہارا لیا جا رہا ہے۔جبکہ عوامی و سماجی حلقوں نے دیگر کیسوں کی طرح ان منشیات فروشوں کے خلاف بھی بھرپور ایکشن لینے کا مطالبہ کیا ہے اور بہاولپور پولیس ذرائع یہ انکشاف کر رہے ہیں کہ اگر سی سی ڈی کو تفتیش کرنے کے لیے وقت مل گیا تو بہاولپور سی سی ڈی کے موجودہ افسران میں یہ صلاحیت ہے کہ وہ بین الصوبائی منشیات فروشوں کی ایک چین، جو کہ علاقے غیر کے منشیات فروشوں سے ملتی ہے، اس کے علاوہ بہاولنگر، ہارون آباد، وہاڑی، میلسی، چشتیاں سمیت بہاولپور، لودھراں سے بڑے بڑے منشیات کے ڈیلرز گرفتار کر سکتے ہیں، جنہیں یہ سید برادران منشیات سپلائی کرتے تھے اور ایک منشیات کا بہت بڑا نیٹ ورک بریک ہو سکتا ہے۔اب دیکھنا یہ ہے کہ سی سی ڈی کیا کر پائے گی کیونکہ چند سال قبل ڈی پی او عبادت نثار کے دور میں پولیس ٹیم نے ان منشیات فروشوں کو پشاور سے گرفتار کر کے مقدمات میں بھی عدالت عالیہ سے ضمانتیں منظور کروا لی تھیں۔ اب سی سی ڈی نے سزا دے پائے گی یا نہیں۔مزید انکشافات کا سلسلہ جاری ہے۔







