خواتین یونیورسٹی ملتان: وی سی نے تعیناتی کے چند دنوں میں ہی ریکارڈ بے ضابطگیاں بےنقاب کردیں

ملتان ( سٹاف رپورٹر) خواتین یونیورسٹی ملتان کی نئی تعینات ہونے والی وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر سیدہ شاہدہ بتول نے عہدہ سنبھالنے کے مختصر ترین عرصے میں ہی اپنی انتظامی گرفت، تجربہ، معاملہ فہمی اور دستاویزی امور پر غیر معمولی نظر کا عملی ثبوت دیتے ہوئے یونیورسٹی کے بعض انتظامی معاملات کا تفصیلی جائزہ شروع کیا اور اس کے دوران دستاویزات اور دستیاب ریکارڈ کے مطابق رجسٹرار آفس میں ہونے والی سابقہ وائس چانسلر کے ٹیم ممبران کی ملی بھگت سے پرانی تاریخوں میں سابقہ وائس چانسلر سے دستخط کروا کر ڈاک جاری کرنے کے عمل کو بے نقاب کر دیا۔ ذرائع اور متعلقہ دستاویزات کے مطابق اسٹیبلشمنٹ-I اور اسٹیبلشمنٹ-II کے ڈسپیچ رجسٹرز کے معائنے کے دوران بعض اندراجات، خالی چھوڑے گئے صفحات اور دفتری کارروائیوں کے تسلسل سے متعلق ایسے نکات سامنے آئے جنہوں نے انتظامی شفافیت، ریکارڈ مینجمنٹ اور داخلی نگرانی کے نظام پر بحث چھیڑ دی۔ پروفیسر ڈاکٹر شاہدہ بتول نے مختلف دستاویزات اور ریکارڈ کا جائزہ لیتے ہوئے بعض انٹریز کے حوالے سے سوالات اٹھائےجس کے بعد متعلقہ رجسٹرز کو طلب کر کے ان کا گہرائی سے معائنہ کیا گیا۔ دستاویزات کےمطابق معائنے کے دوران بعض ایسی انٹریز سامنے آئیں جن کے بارے میں معائنے سے معلوم ہوا کہ یہ انٹریز بیک ڈیٹڈ کی گئی تھیں۔ یہ معاملہ تب سامنے آیا جب بائیو ٹیکنالوجی کی ایک ٹیچر جنہوں نے 25 نومبر 2025 کو چھٹیوں کے بعد دوبارہ جوائننگ کی درخواست دی تو پہلے ڈاکٹر کلثوم پراچہ کے دور میں جوائننگ کے لیے لیت و لعل سے کام لیا گیا ۔ بعد ازاں 4 ماہ بعد جب ڈاکٹر عظمیٰ قریشی نے بھی اعتراض اٹھائے تو بنیادی طور پر ایڈمن آفیسر اور ڈاکٹر کلثوم پراچہ کے دور میں غیر قانونی تعینات ڈپٹی رجسٹرار محمد شفیق نے ڈاکٹر عظمیٰ قریشی کے دور میں ڈاکٹر کلثوم پراچہ سے دستخط کروا کر اس ٹیچر کی جوائننگ کروا دی۔ اور اسی طرح مزید انٹریز بھی خالی چھوڑی گئیں جن کو دوران معائنہ وائس چانسلر نے پکڑ لیا۔ یونیورسٹی کے بعض حلقوں کے مطابق اس معاملے نے نا تجربہ کار عارضی رجسٹرار ڈاکٹر دیبا شہوار کے زیر نگرانی دفتری نظام اور ریکارڈ کنٹرول کے طریقۂ کار پر بھی سوالات پیدا کیے ہیں اور اگر ریکارڈ میں کسی نوعیت کی بے ضابطگی، ابہام یا نامکمل اندراجات موجود تھے تو داخلی نگرانی کے نظام کو انہیں بروقت درست یا واضح کرنا چاہیے تھا۔اسی طرح اس سکینڈل کے مرکزی کردار جو کہ بنیادی طور پر ایڈمن آفیسر و ڈپٹی رجسٹرار محمد شفیق اس انکشاف کے سامنے آنے کے بعد بذات خود وائس چانسلر کے سامنے پیش ہو کر تمام کاروائیاں بتا گئے۔ دستیاب معلومات اور ذرائع کے مطابق بعض وضاحتیں اس وقت سامنے آئیں جب ریکارڈ کا تفصیلی معائنہ شروع ہو چکا تھا۔ یونیورسٹی ملازمین یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ اگر متعلقہ امور کے بارے میں معلومات پہلے سے موجود تھیں تو انہیں نئی انتظامیہ کے سامنے ابتدا ہی میں مکمل شفافیت کے ساتھ کیوں نہ رکھا گیا۔ تاہم اس تمام صورتحال میں جس پہلو نے سب سے زیادہ توجہ حاصل کی، وہ نئی وائس چانسلر کا اندازِ قیادت ہے۔ یونیورسٹی حلقوں کے مطابق ڈاکٹر شاہدہ بتول نے تعیناتی کے دوسرے ہی ہفتے میں یہ ثابت کر دیا کہ وہ محض ایک ممتاز ماہرِ تعلیم ہی نہیں بلکہ ایک انتہائی باریک بین، تجربہ کار اور قواعدی معاملات پر مضبوط گرفت رکھنے والی منتظم بھی ہیں۔ اب یونیورسٹی حلقوں کی نظریں اس سوال پر مرکوز ہیں کہ ڈاکٹر شاہدہ بتول اس معاملے میں آئندہ کیا حکمت عملی اختیار کرتی ہیں۔ کیا وہ مکمل انتظامی آڈٹ، انکوائری اور ذمہ داریوں کے واضح تعین کی طرف بڑھیں گی، یا موجودہ انتظامی ڈھانچے میں اصلاحی اقدامات کے ذریعے معاملات کو آگے لے جائیں گی؟

شیئر کریں

:مزید خبریں