خواتین یونیورسٹی ملتان: طالبات سے تھیسز کیلئے 25 ہزار روپے “بھتہ وصول”، ٹرانزیکشن شواہد پیش

ملتان (سٹاف رپورٹر) ویمن یونیورسٹی ملتان میں تھیسز کے نام پر مبینہ بلیک میلنگ اور طالبات سے غیر قانونی رقوم وصولی کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ ذرائع کے مطابق خواتین یونیورسٹی کے ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ میں ٹی ٹی ایس پر تعینات اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر فریحہ سہیلمبینہ طور پر ایم فل اور پی ایچ ڈی طالبات سے تھیسز کے نام پر فی تھیسز 25 ہزار روپے زبردستی وصول کرنے میں مصروف ہیںجس کے بعد تعلیمی حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ روزنامہ قوم میں خبر شائع ہونے کے بعد متعدد سٹوڈنٹس نے اخبار سے رابطہ کرتے ہوئے مبینہ طور پر اساتذہ کو بھیجی جانے والی رقوم کی رسیدات اور بینک ٹرانزیکشنز کے شواہد فراہم کرنا شروع کر دیئے ہیں۔ ان انکشافات کے بعد نہ صرف متعلقہ یونیورسٹی بلکہ دیگر جامعات میں بھی چیئرپرسنز نے ہنگامی اجلاس طلب کر لیے جہاں اساتذہ کو سختی سے ہدایت جاری کی گئی کہ تمام طلباء و طالبات بشمول ایم فل اور پی ایچ ڈی طلباء و طالبات سے کسی بھی مد میں رقم وصول کرنا فوری طور پر بند کیا جائے۔ معتبر ذرائع کے مطابق کئی ڈیپارٹمنٹس میں اساتذہ کو یہ بھی باور کرایا گیا کہ سٹوڈنٹس سے مہمان نوازی، کھانے پینے یا دیگر اخراجات کی مد میں پیسے لینا نہ صرف غیر اخلاقی بلکہ قابل سزا عمل ہے۔ تاہم حیران کن طور ایک طالبہ کے والدین نے روزنامہ قوم سے رابطہ کرنے پر بتایا کہ خواتین یونیورسٹی کے ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ میں ہونے والی میٹنگ میں چیئرپرسن نے مبینہ طور پر صرف زبانی’’نصیحت‘‘پر اکتفا کیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ چیئرپرسن نے متعلقہ ٹیچر کو تنبیہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’’براہِ کرم اس قسم کی سرگرمیوں سے گریز کریں، اس سے ہماری بدنامی ہو سکتی ہے۔ یہ تو اخبار والوں کی مہربانی ہے کہ انہوں نے نام ظاہر نہیں کیا ورنہ صورتحال بگڑ سکتی تھی۔‘‘ تاہم اس تمام تر تنبیہ کے باوجود مبینہ طور پر صورتحال میں کوئی بہتری نہ آ سکی۔ روزنامہ قوم کو موصول ہونے والی تازہ معلومات کے مطابق میٹنگ کے بعد بھی ایک ایم فل سٹوڈنٹ سے مزید 25 ہزار روپے وصول کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے جس کے متعلقہ بینک اکاؤنٹ میں ٹرانزیکشن کے ناقابلِ تردید شواہد بھی سامنے آ گئے ہیں۔ یہ پیش رفت نہ صرف انتظامی احکامات کی کھلی خلاف ورزی قرار دی جا رہی ہے بلکہ یونیورسٹی نظم و ضبط اور شفافیت پر بھی بڑا سوالیہ نشان بن چکی ہے۔ تعلیمی ماہرین نے اس صورتحال کو تعلیمی نظام کی سنگین ناکامی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر فوری اور سخت کارروائی نہ کی گئی تو ایسے رجحانات دیگر اداروں میں بھی سرایت کر سکتے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ شواہد سامنے آنے کے باوجود محض زبانی ہدایات دینا انتظامیہ کی کمزوری کو ظاہر کرتا ہےجس سے مبینہ طور پر ایسے عناصر کے حوصلے مزید بلند ہو رہے ہیں۔ دوسری جانب متاثرہ طالبات میں بے چینی پائی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر واضح شواہد کے باوجود بھی کارروائی نہ ہوئی تو یہ پورے تعلیمی نظام کے لیے ایک بدنما داغ ہوگا۔ طالبات نے وائس چانسلر سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ذاتی مداخلت کرتے ہوئے اس معاملے کی شفاف تحقیقات یقینی بنائیں اور اگر الزامات درست ثابت ہوں تو ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے۔ اس بارے میں خواتین یونیورسٹی ملتان کی ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کی اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر فریحہ سہیل کا کہنا تھا کہ انہوں نے جرنل کی فیس چارج کی تھی اور اس میں کچھ غلط نہیں ہےجبکہ وائس چانسلر آفس کے ذرائع کے مطابق مختلف طالبات نے وائس چانسلر سے براہ راست ملاقات کر کے بھی شکایت کی ہے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں