خانپور میں مبینہ جعلی پولیس مقابلہ، دو سگے بھائی ہلاک، شہری سراپا احتجاج

جتوئی (نامہ نگار) خانپور پولیس تھانہ صدر نے شہر سلطان کے دو معصوم بھائیوں کو ڈکیت شو کرکے مبینہ جعلی پولیس مقابلے میں ہلاک کردیا علاقہ میں شہریوں کا غم و غصہ دونوں بھائی مختلف تھانوں میں بطور رائٹر کام کرتے تھے، وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز سے کاروائی کا مطالبہ، تفصیلات کے مطابق گزشتہ روز صدر تھانہ خانپور کی پولیس نے شہر سلطان موضع وینس سے تعلق رکھنے والے دو سگے بھائیوں حسیب آصف بھٹی اور توحید آصف بھٹی کو مبینہ جعلی پولیس مقابلے میں ہلاک کردیا ذرائع کے مطابق دونوں بھائیوں کو ہیڈ پنجند سے گرفتار کر کے شدید تشدد کیا گیا جس سے اٹھارہ سالہ توحید پولیس تشدد برداشت نہ کرسکا اور تھانہ میں ہی تشدد سے ہلاک ہوگیا جس کے بعد پولیس نے عینی شاہد بڑے بھائی حسیب آصف بھٹی کو بھی مبینہ جعلی مقابلہ دکھاتے ہوئے گولیاں ماردیں یاد رہے کہ یہ دونوں بھائی توحید آصف بھٹی بعمر 18 سال اور حسیب آصف بھٹی بعمر 26 سال ضلع مظفرگڑھ کے مختلف تھانوں میں تفتیشی افسران کی مثلیں ضمنیاں لکھتے تھے پولیس تھانہ صدر خانپور کے مرتب کردہ کریمنل ریکارڈ کے مطابق یہ دونوں بھائی پولیس کو 46 ڈکیتی اغواء اور قتل کے مقدمات میں مطلوب تھے اور خانپور کے علاقے سے ڈکیتی کرکے جارہے تھے کہ پولیس کے روکنے پر ملزمان نے فائرنگ کر دی اور یہ دونوں بھائی اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک ہو گئے یہاں پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر ان بھائیوں پر اتنے سنگین مقدمات تھے تو پولیس نے انہیں آج تک گرفتار کیوں نہیں کیا تھا اگر یہ دونوں بھائی جو تھانوں میں ضمنیاں لکھتے تھے قانون جانتے تھے تو وہ تھانوں میں کیوں موجود ہوتے تھے یہاں پر یہ امر قابل غور ہے کہ توحید آصف بھٹی کو پانچ سال پہلے کے ایک سنگین مقدمہ میں نامزدگی ظاہر کی گئی کیا توحید آصف بھٹی نے 13 سال کی عمر میں ڈکیتیاں شروع کردی تھیں شہریوں مقامی لوگوں اور وکلاء کے مطابق یہ دونوں بھائی بے قصور تھے خانپور صدر پولیس نے بے قصور دونوں معصوم بھائیوں کو مبینہ جعلی پولیس مقابلے میں ہلاک کردیا ہے یاد رہے کہ ان دونوں کی ہلاکت پر جتوئی بار ایسوسی ایشن اور علی پور بار ایسوسی ایشن نے ہڑتال بھی کی تھی۔ عوامی سماجی حلقوں نے اس ظلم پر وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز اور آئی جی پنجاب عبدالکریم خان سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں