ملتان (سٹاف رپورٹر) شدت کی گرمی اور کپاس کی بوائی کے سیزن میں حیران کن طور پر جنوبی پنجاب کی نہروں کے پانی میں مجموعی طور پر پانچ سے چھ ہزار کیوسک کی کمی کر دی گئی ہے جس کی وجہ سے پانی کی شدید قلت والے علاقوں میں صورتحال مزید ابتر ہو گئی ہے۔ محکمہ انہار اس حوالے سے بالکل خاموش ہے اور کسی سوال کا کوئی جواب دینے کو تیار نہیں کہ پانی کی اتنی بڑی مقدار میں کمی کیوں کی گئی ہے۔ روزنامہ قوم کو ملنے والی معلومات کے مطابق پانی کی اس کمی کا سب سے زیادہ نقصان ہیڈ سدھنائی اور ہیڈ پنجند سے نکلنے والی نہروں کو پہنچا ہے۔ روزنامہ قوم کو ملنے والی معلومات کے مطابق تریموں سدھنائی لنک کنال کی کپیسٹی 12 ہزار کیوسک ہے جبکہ اسے 10 ہزار 500 پر چلایا جا رہا ہے۔ عباسیہ کینال سے بھی 500 کیوسک پانی کم کر دیا گیا ہے جو کہ رحیم یار خان کے لیے ہیڈ پنجند سے پانی لے کر جاتی ہے۔ یہاں یہ امر توجہ طلب ہے کہ ہیڈ سدھنائی جنوبی پنجاب کا واحد بیراج ہے جس سے خانیوال وہاڑی بہاولپور لودھراں ملتان سمیت متعدد علاقوں کو پانی ملتا ہے اور ہیڈ سدھنائی کی پانی کی طے شدہ مقدار 16 ہزار کیوسک ہے مگر اس وقت وہ ساڑھے 12 ہزار سے 13 ہزار کیوسک پر چل رہا ہے اور اس پانی کی کمی کا تمام تر بوجھ جنوبی پنجاب کے کاشتکاروں پر پڑ رہا ہے جبکہ تریموں سدھنائی لنک کینال میں بھی 1500 کیوسک پانی کم چل رہا ہے۔ طے شدہ فارمولے کے مطابق ہیڈ بلوکی سے لے کر ہیڈ سدھنائی تک پانی کا بہاؤ دو ہزار سے 25 سو تک ہوتا ہے مگر یہ گزشتہ دو ماہ سے بالکل صفر جا رہا ہے اور یہاں ایک بھی کیوسک پانی کا بہاؤ نہیں رہا اور یہ پانی جو کہ جنوبی پنجاب کا حق تھا ہیڈ بلوکی سے ہیڈ سلیمانکی کو دے دیا گیا ہے جس کا محکمہ انہار کے پاس کوئی جواب نہیں اور کوئی ذمہ دار آفیسر یہ بتانے کو تیار نہیں کہ ہیڈ سلیمانکی کو اضافی پانی کیوں دیا جا رہا ہے۔







