ملتان (عوامی رپورٹر) ابوذر غفاری پر چھاپے 40 ہزار بوری گندم کی برآمدگی کے بعد ضلعی انتظامیہ اور پولیس شدید دباؤ میں آ گئی ہے اور معاملے کو گول کیا جا رہا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ ابوذر غفاری پچھلے سال پاسکو سے چھ کروڑ روپے مالیت کا باردانہ لے کر ہضم کر چکا ہے جس کی ایف آئی اے میں تحقیقات جاری ہیں اور پاسکو جیسا مضبوط ادارہ بھی ابوذر غفاری کے کرپشن پر مشتمل مضبوط نیٹ ورک کے سامنے بے بس اور لاچار ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ ابوذر غفاری چھجڑا کو بعض سیاسی گھروں کی پشت پناہی حاصل ہے۔ ضلع مظفرگڑھ کی تحصیل جتوئی کے علاقے کلروالی میں قائم فرحان فیکٹری پر فوڈ ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے پیرا فورس کے ہمراہ اچانک چھاپے نے کئی قانونی اور انتظامی سوالات کو جنم دے دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق بعض اطلاعات میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ فیکٹری سے تقریباً 40 ہزار بوری گندم برآمد کی گئی جبکہ دیگر ذرائع کا کہنا ہے کہ فیکٹری مالک کے پاس فلور مل کے قیام اور گندم ذخیرہ کرنے کے لیے قانونی اجازت موجود ہے اور نئی فلور مل کی تنصیب کے باعث گندم کا ذخیرہ کیا گیا تھا۔حیران کن امر یہ ہے کہ اتنے بڑے آپریشن کے باوجود ضلعی فوڈ انتظامیہ کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ پریس ریلیز جاری نہیں کی گئی۔ عوام یہ جاننے کا حق رکھتے ہیں کہ اگر واقعی چھاپہ مارا گیا تو اس کی قانونی بنیاد کیا تھی؟ کتنی گندم برآمد ہوئی؟ کیا گندم سرکاری تحویل میں لی گئی یا نہیں؟ اور اگر کوئی خلاف ورزی پائی گئی تو اس کے خلاف کون سی قانونی کارروائی عمل میں لائی گئی؟اس معاملے میں اسسٹنٹ کمشنر جتوئی سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے معاملے کی ذمہ داری ڈسٹرکٹ فوڈ کنٹرولر اور فوڈ ڈیپارٹمنٹ پر ڈال دی۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر ڈسٹرکٹ فوڈ انتظامیہ کس اطلاع، کس شکایت یا کس قانونی اختیار کے تحت فیکٹری پر پہنچی؟ کیا یہ کارروائی معمول کی انسپکشن تھی یا کسی مخصوص شخصیت کو نشانہ بنانے کی کوشش؟قانونی ماہرین کے مطابق اگر کسی نئی فلور مل کے پاس متعلقہ حکومتی لائسنس، رجسٹریشن اور خریداری کی اجازت موجود ہو تو اسے اپنی پیداواری ضروریات کے مطابق گندم خریدنے اور ذخیرہ کرنے کا حق حاصل ہوتا ہے۔ تاہم ذخیرہ کی مقدار، محکمہ خوراک پنجاب کی پالیسی، لائسنس کی شرائط اور مقامی قواعد و ضوابط کے مطابق طے ہوتی ہے۔ اگر فیکٹری کے پاس تمام قانونی دستاویزات موجود تھیں تو پھر چھاپے کی قانونی حیثیت کیا بنتی ہے؟ اور اگر دستاویزات موجود نہیں تھیں تو فوڈ ڈیپارٹمنٹ عوام کو حقائق سے آگاہ کیوں نہیں کر رہا؟عوامی حلقوں میں یہ سوال بھی گردش کر رہا ہے کہ آیا سال 2025 میں گندم کی مبینہ بڑے پیمانے پر ذخیرہ اندوزی اور بعد ازاں مہنگے داموں فروخت کے معاملات کی تحقیقات کبھی کی گئیں یا نہیں۔ اگر ماضی میں بھی اسی مقام پر گندم کا وسیع ذخیرہ موجود تھا تو متعلقہ ادارے اس وقت کہاں تھے؟مزید برآں پیرا فورس تحصیل انتظامیہ کے زیر انتظام کام کرتی ہے۔ اگر کارروائی مکمل طور پر قانونی اور شفاف تھی تو ضلعی فوڈ انتظامیہ کو فوری طور پر تفصیلات عوام کے سامنے رکھنی چاہئیں۔ لیکن اگر ابھی تک خاموشی برقرار ہے تو شکوک و شبہات مزید بڑھ رہے ہیں۔عوامی و سماجی حلقے یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیا ضلعی اور تحصیل انتظامیہ واقعی وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے شفاف طرز حکمرانی اور قانون کی بالادستی کے ویژن پر عمل پیرا ہیں یا پھر مقامی سیاسی اثر و رسوخ اس معاملے میں رکاوٹ بن رہا ہے؟ کیا اس واقعہ کی مکمل اور خفیہ رپورٹ وزیر اعلیٰ پنجاب تک پہنچا دی گئی ہے؟ اور اگر پہنچ گئی ہے تو اس پر کیا کارروائی متوقع ہے؟جب تک فوڈ ڈیپارٹمنٹ، ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ حکام واضح اور تحریری مؤقف جاری نہیں کرتے، اس کارروائی کے گرد موجود سوالات برقرار رہیں گے اور عوام کے ذہنوں میں یہ تاثر مضبوط ہوتا رہے گا کہ کہیں نہ کہیں حقائق کو پردۂ اخفا میں رکھا جا رہا ہے۔







