تین تا 5 سال کے بچوں کے سکولوں میں داخلے کی شرح میں 9.9 فیصد کمی: قومی اقتصادی سروے

ملتان (وقائع نگار)ابتدائی بچپن کی تعلیم میں بحران کا سامان ہے۔ 3 سے 5 سال کے بچوں کے سکولوں میں داخلے کی شرح میں 9.9 فیصد کی کمی ہوئی ہے، قومی اقتصادی سروے 2025-26 کے مطابق پاکستان میں تعلیم کا ایک خطرناک رجحان سامنے آیا ہے۔ جہاں پرائمری، مڈل، سیکنڈری اور کالج کی سطح پر داخلوں میں اضافہ ہوا ہے، وہیں ابتدائی بچپن کی تعلیم (3 سے 5 سال) کے اہم ترین مرحلے میں داخلوں کی شرح میں 9.9 فیصد کی نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ 2023-24 میں جہاں اس عمر کے گروپ میں ایک کروڑ 61 ہزار بچے سکولوں میں داخل تھے، وہیں 2024-25 میں یہ تعداد گھٹ کر ایک کروڑ 40 ہزار رہ گئی۔ یعنی تقریباً 21 ہزار بچے اس اہم عمر میں تعلیم کے عمل سے باہر ہو گئے۔دوسری جانب، دیگر سطحوں پر بہتری ہوئی ہے پرائمری داخلوں میں 3.3 فیصد اضافہ، طلبہ کی تعداد 2 کروڑ 46 لاکھ سے بڑھ کر 2 کروڑ 57 لاکھ تک پہنچ گئی۔· مڈل کلاس داخلوں میں 7.4 فیصد اضافہ، طلبہ کی تعداد ایک کروڑ 8 لاکھ سے بڑھ کر ایک کروڑ 16 لاکھ ہو گئی۔· سیکنڈری کلاس کے داخلوں میں 6.5 فیصد اضافہ، متوقع تعداد 47 لاکھ سے بڑھ کر 54 لاکھ ہو گئی · کالج کی سطح سب سے زیادہ 27 فیصد کا اضافہ، طلبہ کی تعداد 29 لاکھ سے بڑھ کر 31 لاکھ تک پہنچنے کی توقع ہےاس کے علاوہ ملک بھر میں ڈگری کالجز میں 9 لاکھ سے زائد طلبہ تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔لیکن مجموعی شرح خواندگی اور آؤٹ آف اسکول بچوں کے اعداد و شمار تشویشناک ہیں سروے کے مطابق پاکستان میں مجموعی شرح خواندگی صرف 63 فیصد ہے۔ جہاں مردوں میں یہ شرح 73 فیصد ہے، وہیں خواتین میں یہ صرف 54 فیصد ہے جو صنفی عدم مساوات کی شدید عکاسی کرتا ہے۔ملک بھر میں 28 فیصد بچے (یعنی تقریباً ہر چوتھا بچہ) سکولوں سے باہر ہے۔ شہری علاقوں میں شرح خواندگی 74 فیصد ہے جبکہ دیہی علاقوں میں یہ صرف 55 فیصد ہے۔ پنجاب میں شرح خواندگی 68 فیصد لیکن پھر بھی 32 فیصد بچے اور 21 فیصد بچیاں سکولوں سے باہر ہیں۔ سندھ شرح خواندگی 58 فیصد، لیکن خواتین کے حوالے سے سب سے زیادہ تشویشناک صورت حال 47 فیصد بچیاں اور 39 فیصد بچے سکولوں سے باہر ہیں۔خیبر پختونخواہ شرح خواندگی 58 فیصد۔ بلوچستان شرح خواندگی 49 فیصد ہے قومی سطح پر 25 فیصد بچے اور 31 فیصد بچیاں تعلیم سے محروم ہیں۔تعلیمی ماہرین کا کہنا ہے کہ ابتدائی بچپن کی تعلیم میں کمی ایک “ٹک ٹک کرتا بم” ہے۔ اگر 3 سے 5 سال کے بچوں کو سکول نہ بھیجا گیا تو یہی بچے مستقبل میں پرائمری اور سیکنڈری سطح کے اعداد و شمار کو گرائیں گے۔ حکومت سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ ابتدائی بچپن کی تعلیم کے لیے قومی پالیسی بنائی جائے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں