تازہ ترین

تنخواہ دار طبقے کے نچلے حصے کو ریلیف دینے کا مقصد، کئی شعبوں کو بجٹ میں سہولتیں دی گئیں: وزیر خزانہ

اسلام آباد: وفاقی وزیر خزانہ نے کہا ہے کہ آئندہ مالی سال کے بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کے نچلے حصے کو خصوصی ریلیف اور سبسڈی فراہم کرنا بنیادی مقصد ہے، جبکہ مختلف معاشی شعبوں کو بھی سہولتیں دی گئی ہیں۔
پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس میں وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ، وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی، سیکرٹری خزانہ امداد اللہ بوسال، چیئرمین ایف بی آر راشد محمود لنگڑیال اور دیگر حکام بھی موجود تھے۔
وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ گزشتہ برس معاشی استحکام کے بعد اب حکومت کی توجہ معیشت کو گروتھ کی طرف لے جانے پر مرکوز ہے۔ ان کے مطابق بجٹ میں برآمدات کے فروغ کے لیے خصوصی اقدامات کیے گئے ہیں اور کئی شعبوں میں ریلیف فراہم کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایڈوانس ٹیکس اور سپر ٹیکس کے خاتمے سمیت برآمد کنندگان کے لیے تقریباً 70 سے 71 ارب روپے کی سبسڈی رکھی گئی ہے تاکہ کاروباری ماحول کو بہتر بنایا جا سکے۔
وزیر خزانہ کے مطابق برآمد کنندگان کے لیے فنانسنگ کی شرح ساڑھے 4 فیصد تک لائی گئی ہے جبکہ خام مال کی درآمد پر ڈیوٹی میں کمی کرکے پیداواری لاگت کم کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ تعمیرات اور ہاؤسنگ سیکٹر کے لیے بھی ٹیکس ریلیف فراہم کیا گیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ زرعی کریڈٹ اور فنانسنگ میں 15 فیصد اضافہ کیا گیا ہے جبکہ چھوٹے کسانوں کے لیے نئی اسکیم بھی زیر غور ہے۔ نوجوانوں کے لیے یوتھ لون پروگرام کے تحت 262 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔
محمد اورنگزیب نے کہا کہ پاکستان کی معاشی پالیسی کا فوکس ایکسپورٹ لیڈ گروتھ ہے اور گڈز و سروسز کی برآمدات معیشت کے لیے اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ پیٹرولیم لیوی میں کوئی بڑا اضافہ نہیں کیا جا رہا، جبکہ ایس آئی ایف سی اور سرمایہ کاری بورڈ کے انضمام پر بھی پیش رفت جاری ہے۔ وزیر خزانہ کے مطابق اس اقدام کا مقصد ادارہ جاتی دہراؤ کو ختم کرنا ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ پاکستان آئی ایم ایف پروگرام میں ہے اور مسلسل مشاورت جاری ہے، جبکہ معاشی استحکام کو حکومت نے ایک بنیادی ہدف قرار دیا ہے۔
وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی نے کہا کہ یہ بجٹ تنخواہ دار طبقے، صنعتکاروں اور تاجروں کے لیے ریلیف پر مبنی ہے اور حکومت نے عوام سے کیا گیا وعدہ پورا کیا ہے۔
وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ موجودہ مالی گنجائش دو سال کی محنت کا نتیجہ ہے اور ایف بی آر میں سفارش کلچر کا خاتمہ کر دیا گیا ہے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں