بہاولپور (سپیشل رپورٹر) تحصیل بہاولپور کی رجسٹری برانچ میں کرپشن، جعل سازی اور قومی خزانے کو نقصان پہنچانے کا مبینہ میگا سکینڈل سامنے آگیا ہے ذرائع کے مطابق رجسٹری محرر نوازش علی نے مبینہ طور پر مفاد پرست عناصر کے ساتھ گٹھ جوڑ کر کے سرکاری فیسوں کی چوری اور جعلسازی کا ایک منظم نیٹ ورک بنا رکھا ہےتفصیلات کے مطابق، یہ مبینہ انکشاف ہوا ہے کہ رجسٹری محرر نوازش علی پارٹیوں سے ساز باز کر کے متعلقہ پٹواری کی مبینہ جعلی رپورٹ خود ہی تیار کر لیتا ہے جس پر پٹواری کے جعلی دستخط بھی کر دیے جاتے ہیں۔ اس گھناؤنے کھیل میں رجسٹری کے نقشے میں تعمیر شدہ مکانات کو جان بوجھ کرخالی پلاٹ ظاہر کیا جاتا ہے تاکہ ایف بی آر کی کم شیڈول فیسیں جمع کروا کر سرکاری خزانے کو نقصان پہنچایا جائے اور بچائی گئی رقم مبینہ طور پر اپنی جیبوں میں ڈالی جا سکے۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ اس مبینہ مافیا کی جانب سے کم شیڈول فیسوں سے حاصل ہونے والی یہ حرام کمائی اوپر سے نیچے تک مبینہ طور پر تقسیم کی جاتی ہےاس تشویشناک صورتحال کے حوالے سے متعلقہ پٹواری نے واضح موقف اختیار کیا ہے کہ اس نے نہ تو کوئی ایسی رپورٹ کی ہے اور نہ ہی اسے اس متنازعہ رجسٹری کے بارے میں کوئی علم ہے۔ قانونی ماہرین کے مطابق، یہ صریحاً دھوکہ دہی، جعلسازی اور دو نمبری ہے جس پر باقاعدہ ایف آئی آر (FIR) درج ہونی چاہیے۔ قانون کے مطابق یہ رجسٹری محرر کی بنیادی ذمہ داری ہے کہ وہ پٹواری کی رپورٹ کو باقاعدہ چیک کرے، لیکن مبینہ گٹھ جوڑ کی وجہ سے نہ تو رپورٹ کی تصدیق کی جاتی ہے اور نہ ہی موقع کا ملاحظہ کیا جاتا ہے۔ذرائع نے انتہائی تشویشناک انکشاف کرتے ہوئے بتایا ہے کہ جب یہ سنگین معاملہ ہائی لائٹ ہوا تو مبینہ طور پر حقائق کو دبانے کے لیے اس کی انکوائری تحصیلدار وسیم اکرم کیفی کے سپرد کر دی گئی۔ واضح رہے کہ پوری تحصیل میں عرضی نویسوں سے لے کر ملازمین تک یہ بات زبان زدِ عام ہے کہ گزشتہ ایک ماہ کے دوران تحصیلدار وسیم اکرم کیفی کے خلاف بھی متنازعہ رجسٹریاں منظور کرنے پر بڑے پیمانے پر خورد برد کی شکایات سامنے آ رہی تھیں جو کہ مختلف فورمز پر اٹھائی گئیں۔مبینہ ملی بھگت سے یہ سازش کی جا رہی ہے کہ کرپشن کا سارا ملبہ متعلقہ بے گناہ پٹواری پر ڈال دیا جائے تاکہ اصل ماسٹر مائنڈ رجسٹری محرر نوازش علی کو ہر صورت بچایا جا سکے۔ عوامی، سماجی اور قانونی حلقوں نے اعلیٰ حکام، اینٹی کرپشن اور چیئرمین ایف بی آر سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ اس مبینہ میگا سکینڈل کی اعلیٰ سطحی غیر جانبدارانہ انکوائری کروائی جائے اور ملوث عناصر کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔







