خانیوال (نمائندہ خصوصی)بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی ملتان اور گورنمنٹ گریجوایٹ کالج برائے خواتین کی مبینہ غفلت سے اے ڈی پی انگلش سیشن 2021-23 کی درجنوں طالبات پریشان ہیں۔ سیشن ختم ہوئے 3 سال گزر گئے، لیکن اب تک طالبات کو فائنل رزلٹ اور ڈگری نہیں ملی۔طالبات کا کہنا ہے کہ کالج کہتا ہے یونیورسٹی رزلٹ نہیں دے رہی” اور یونیورسٹی کہتی ہے “کالج نے مڈ ٹرم رزلٹ نہیں بھیجا”۔ اس چپقلش میں پھنسی طالبات نہ آگے پڑھ سکتی ہیں اور نہ نوکری کے لیے اہل ہیں۔ آدھی سے زیادہ طالبات پڑھائی چھوڑ چکی ہیں۔طالبات کے مطابق ہر سمسٹر فیس 5,500 روپے تھی۔ 2 سال میں 22,000 روپے دیے۔ اگر ایک پیپر میں سپلی آ جائے تو اسے کلیئر کرنے کے لیے بھی 5,500 روپے دوبارہ لیے گئے۔ کئی طالبات 2-3 بار فیس دے چکی ہیں۔ جامع ٹیسٹ اور ڈگری کے نام پر بھی 2,000 اور 1,000 روپے اضافی لیے گئے۔ اب تک ہر طالبہ 35 سے 40 ہزار روپے خرچ کر چکی ہے۔6 نومبر 2025 کو جامع ٹیسٹ دے چکی طالبات کا رزلٹ بھی اب تک جاری نہیں ہوا۔متاثرہ طالبات سیدہ مبشرہ پلوشہ اور دیگر نے وزیراعلیٰ پنجاب، وزیر تعلیم اور بی زیڈ یو کے وائس چانسلر سے مطالبہ کیا ہے کہ کالج اور یونیورسٹی کے درمیان مسئلہ فوراً حل کر کے ان کا رزلٹ اور ٹرانسکرپٹ جاری کی جائے تاکہ ان کا مستقبل برباد ہونے سے بچ سکے۔






