ملتان(سٹاف رپورٹر ) بہاالدین زکریا یونیورسٹی ملتان میں بھرتیوں پر ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب نے سینڈیکیٹ منٹس کو پر اعتراض لگا دیے، پرانے اشتہارات پر تقرریاں ہائیر ایجوکیشن کمیشن کی پالیسی اور ہدایات کے خلاف قرار دے دیں۔ بہاؤ الدین زکریا یونیورسٹی ملتان میں مبینہ غیرقانونی اور بھرتیوں کا سلسلہ اب سامنے آ گیا ہے اس کی تفصیلات روزنامہ قوم بہت عرصہ پہلے شائع کر چکا ہے۔ ہائیر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب نے یونیورسٹی انتظامیہ کی 16 اگست 2025 کے متنازعہ سینڈیکیٹ اجلاس کی کارروائی کو یک طرفہ قرار دے دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق 14 اکتوبر 2025 کو جاری کردہ ترین مراسلے میں HED نے لکھا کہ سینڈیکیٹ منٹس میں اجلاس کی حقیقی بحث، ممبران کے اختلافات اور اہم اداروں کے واضح احتجاج کو چھپایا گیا جو کہ نہ صرف ریکارڈ کی خلاف ورزی ہے بلکہ تعلیمی ادارے میں میرٹ کی خلاف ورزی کی مثال بھی ہے۔ ہائیر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ اور فنانس ڈیپارٹمنٹ کے نمائندوں نے اجلاس میں کہا کہ 8 سال پرانے اشتہارات پر کوئی تقرری قبول نہیں کی جا سکتی مگر اس کے باوجود یونیورسٹی انتظامیہ نے سلیکشن بورڈ کی سفارشات منظور کروا لیں۔ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے نمائندے نے اس متنازعہ ایجنڈے کی توثیق تک نہیں کی، مگر منٹس میں سب کچھ “ہموار” دکھایا گیا۔ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ نے یونیورسٹی کے اس عذر کو بھی مسترد کر دیا کہ “مستقل وائس چانسلر نہیں تھا اس لیے ہائر ایجوکیشن کمیشن کی ہدایات ماننے کی ضرورت نہیں تھی”۔ مراسلے میں لکھا گیا ہے کہ مستقل وائس چانسلر کی عدم موجودگی HEC کی یکم مارچ 2024 اور 21 مئی 2024 کی ہدایات کی خلاف ورزی کا کوئی جواز نہیں بنتی۔ اس سے قبل روزنامہ قوم کی نشاندہی پر 21 فروری 2025 کا سلیکشن بورڈ روکا گیا تھا، مگر اسے ٹکڑوں میں تقسیم کرکے 19 اپریل اور 12 جولائی 2025 کو خاموشی سے مکمل کر لیا گیا۔ 16 اگست کے سینڈیکیٹ اجلاس میں HEC، HED اور فنانس کے شدید اختلافات کے باوجود ایجنڈا پاس کرا لیا گیا۔ یہ ریگولیٹری اداروں کی بے توقیری ہے۔ تعلیمی حلقوں کا کہنا ہے کہ یہ صرف چند تقرریوں کا معاملہ نہیں بلکہ پنجاب کی اکٹر جامعات میں ریگولیٹری اداروں کو ایک ووٹ سمجھ کر نظر انداز کرنے کا رجحان بن چکا ہے۔Referees رپورٹس میں ردوبدل،نامکمل ڈوزیئرز بھیجنا،پسندیدہ امیدواران کے لیے مثبت اور ناپسندیدہ کے لیے منفی رپورٹس حاصل کرنا،سینئر امیدواران کو نظر انداز کر کے جونیئرز کو ترقیاں دینا معمول بن چکا ہے ۔اب سوال یہ ہے کہ جب خود ہائیر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب نے اعتراض اٹھا لیا ہے تو یہ متنازعہ تقرریاں کیسے قائم رہ سکتی ہیں کیا حکومت پنجاب اور گورنر ہاؤس اس کے خلاف کوئی بڑا ایکشن لے گی یا پھر یہ معاملہ بھی فائل میں دبا دیا جائے گا۔زکریا یونیورسٹی ملتان کے اس معاملے نے نہ صرف یونیورسٹی کی ساکھ کو نقصان پہنچایا ہے بلکہ پورے صوبے کی اعلیٰ تعلیم کے نظام پر سوال اٹھا دیا ہے۔
گورنر پنجاب کا بڑا فیصلہ، زکریا یونیورسٹی انجینئر کی برطرفی کالعدم قرار

ملتان (سٹاف رپورٹر) گورنر پنجاب نے بہاالدین زکریا یونیورسٹی کے سابق انجینئر کی برطرفی کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا گورنر پنجاب و چانسلر جامعات پنجاب سردار سلیم حیدر خان نے بہاالدین زکریا یونیورسٹی ملتان کے سابق یونیورسٹی انجینئر (الیکٹریکل) محمد رفیق کی اپیل منظورکرتے ہوئے ان کی برطرفی کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا ہے۔ گورنر پنجاب نے یونیورسٹی سنڈیکیٹ کی جانب سے عائد کی گئی “سروس سے برطرفی” کی سزا ختم کرتے ہوئے محمد رفیق کو ملازمت پر بحال کرنے کا حکم دیا ہے، تاہم ان کی گزشتہ تین سالہ سروس ضبط کرنے کی سزا برقرار رکھی گئی ہے۔گورنر سیکرٹریٹ پنجاب سے جاری کردہ فیصلے کے مطابق محمد رفیق نے پنجاب ایمپلائز ایفیشنسی، ڈسپلن اینڈ اکاونٹیبلٹی ایکٹ (پیڈا) 2006 کے تحت سنڈیکیٹ کے اس فیصلے کے خلاف اپیل دائر کی تھی جس کے ذریعے انہیں طویل غیر حاضری اور مبینہ بدانتظامی کے الزامات کی بنیاد پر ملازمت سے برطرف کیا گیا تھا۔اپیل کی سماعت کے دوران محمد رفیق نے مؤقف اختیار کیا کہ ان کے خلاف غیر حاضری کے الزامات حقائق کے منافی ہیں کیونکہ متعلقہ عرصے میں یونیورسٹی انتظامیہ انہیں مسلسل ملازم تصور کرتی رہی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ انہیں مختلف اوقات میں این او سی، ڈیپوٹیشن، میڈیکل رخصت اور دیگر انتظامی سہولیات فراہم کی جاتی رہیں جبکہ انہیں مختلف کمیٹیوں کا رکن بھی نامزد کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر وہ واقعی غیر حاضر ہوتے تو انتظامیہ کی جانب سے ایسے اقدامات ممکن نہ تھے۔دوسری جانب یونیورسٹی انتظامیہ کی نمائندگی کرتے ہوئے رجسٹرار نے مؤقف اختیار کیا کہ محمد رفیق 2019 سے 2023 تک طویل عرصے تک بغیر اجازت غیر حاضر رہے اور ان کے خلاف انضباطی کارروائی مکمل طور پر قواعد و ضوابط کے مطابق عمل میں لائی گئی۔ انتظامیہ کا کہنا تھا کہ ان کی مجموعی غیر حاضری ایک سال سے زائد بنتی تھی، جس کی بنیاد پر سخت تادیبی کارروائی ناگزیر تھی۔گورنر پنجاب نے دونوں فریقین کے دلائل اور ریکارڈ کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد قرار دیا کہ پیڈا ایکٹ 2006 کے تحت ملازمت سے برطرفی جیسی بڑی سزا کے لیے ایک سال سے زائد مسلسل غیر حاضری ثابت ہونا ضروری ہے۔ فیصلے میں کہا گیا کہ یونیورسٹی انتظامیہ نے مختلف ادوار کی غیر مسلسل غیر حاضریوں کو یکجا کرکے ایک سال کی مدت پوری کی، جو قانون کے تقاضوں سے مطابقت نہیں رکھتی۔فیصلے میں مزید کہا گیا کہ اگرچہ بعض معاملات میں بدانتظامی کے عناصر موجود ہو سکتے ہیں، تاہم ان کی بنیاد پر سروس سے برطرفی جیسی بڑی سزا برقرار نہیں رکھی جا سکتی۔ چنانچہ سنڈیکیٹ کا 7 فروری 2025 کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے محمد رفیق کو بحال کرنے کا حکم دیا گیا۔گورنر پنجاب نے اپنے حکم میں واضح کیا کہ محمد رفیق کو فوری طور پر سروس میں بحال کیا جائے، تاہم ان کی سابقہ تین سالہ سروس ضبط تصور کی جائے گی، جو پیڈا ایکٹ کے تحت ایک کم تر بڑی سزا کے زمرے میں آتی ہے۔قانونی حلقوں کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ سرکاری ملازمین کے خلاف انضباطی کارروائیوں میں قانونی تقاضوں اور مناسب طریقہ کار کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے اور مستقبل میں ایسے مقدمات کے لیے ایک اہم نظیر کی حیثیت اختیار کر سکتا ہے۔







