بہاولپور (ڈسٹرکٹ رپورٹر) تعلیمی بورڈ بہاول پور ، حامدبخاری خلاف قانون و ضابطہ 16 ویں سکیل میں پروموٹ ، کمشنر آفس میں پی ایس او ٹو کمشنر کا چارج سنبھال کر تعلیمی بورڈ کے معاملات میں اثر انداز ہونے لگا ، تعلیمی بورڈ کا چیئرمین کمشنر بہاول پور ڈویژن ، حامد بخاری اگر تعلیمی بورڈ میں ڈیوٹی ہی نہیں کر رہا تو ، سال کے چار بونس کیوں دیئے جا رہے ہیں ؟ ، گورنمنٹ ملازمین کے لیے قوانین میں سقم واضح نظر آنے لگے ، تعلیمی بورڈ کا ڈیٹا کمپیوٹر آپریٹر حامد بخاری ، کمشنر آفس کیسے پہنچا ، کس نے اُسے پی ایس او ٹو کمشنر بنا دیا ، اپنے مدر ڈیپارٹمنٹ پر کمشنر آفس بیٹھ کر اجارہ داری کس کی اجازت سے ہو رہی ہے ، حامد بخاری نے مقامی یونی ورسٹی کے شعبہ آئی ٹی میں داخلہ لے لیا ، تعلیم جاری رکھنے کے سٹنگ الاؤنس میں بھی پہلے سے ہی ہیرا پھیری کروا دی ، حامد بخاری نے آئی ٹی کے شعبہ میں داخلہ لے کر ، چیئرمین بورڈ کو سٹنگ الاؤنس دینے یا دینے کے اختیارات دلوا دیئے ، تعلیمی بورڈ کا چیئرمین کمشنر ہوتا ہے ، شہریوں کا اِن معاملات کا اظہارِ حیرت ، ضلع و ڈویژنل انتظامیہ کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ، ڈی سی ، کمشنر حکومتی قوانین پر عمل در آمد کرانے میں ناکام ، کمشنر آفس میں کرپٹ مافیا کا راج ، عام سائلین کا کوئی پرسان حال نہیں ، حامد بخاری کے خلاف چیف سیکرٹری پنجاب اعلیٰ سطحی انکوائری کمیٹی تشکیل دے کر حقائق منظر عام پر لائیں ، تحقیقاتی کمیٹی ضلع رحیم یار خان یا ضلع بہاول نگر کے افسران پر مشتمل ہونی چاہئے ، شہریوں کا مطالبہ ۔ تفصیل کے مطابق معمولی کمپیوٹر ڈیٹا آپریٹر بورڈ آف انٹر میڈیٹ اینڈ سکینڈری ایجوکیشن حامد بخاری جس نے خلاف قانون و ضابطہ گزشتہ صرف پانچ سالوں میں تین بار پہلے سکیل 11سے 14 میں ، پھر 2021ء اور 2023ء سے 2026تک سکیل 14 سے 16 تک برق رفتار سے ترقی حاصل کی ۔ بتایا جاتا ہے کہ حامد بخاری غیر مرئی طاقتوں کے ذریعے بغیر کسی سروسز اینڈ جنرل ایڈمنسٹریشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب کے کسی بھی نوٹیفکیشن کے بغیر از خود تعلیمی بورڈ سے کمشنر آفس بطور پی ایس او تعینات ہو گیا جہاں پہنچ کر سب سے پہلے حامد بخاری نے اپنے معاملات کو درست کیا ، برق رفتاری سے ترقیاتی حاصل کیں حالانکہ ہر نئی ترقی کے لیے تین سال کا پیریڈ لازم ہوتا ہے مگر حامد بخاری نے کمشنر آفس بیٹھ کر یونی ورسٹی کے شعبہ آئی ٹی میں داخلہ لے لیا اور سٹنگ الاؤنس پر مبینہ طور پر ہاتھ صاف کرنے کے لیے پلاننگ مکمل کر لی ۔ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ جب حامد بخاری تعلیمی بورڈ میں ڈیوٹی ہی نہیں کر رہا تو وہ کیسے سالانہ چار مرتبہ بونس حاصل کرنے کا حق دار ٹھہرایا جا سکتا ہے ؟ تاہم حامد بخاری نے اپنی مبینہ جعل سازیوں اور چالاکیوں کے ذریعے تعلیمی بورڈ کی ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ ایجنڈا میں آئندہ ہائیر ایجوکیشن حاصل کرنے والے اہلکاروں کو لیٹ سٹنگ الاؤنس دینے یا نہ دینے کا اختیار چیئرمین بورڈ کو دلوا دیا جب کہ کسی بھی تعلیمی بورڈ کا چیئرمین متعلقہ ڈویژن کا کمشنر ہوتا ہے اور موصوف حامد بخاری کمشنر بہاول پور کے پی ایس او بنے بیٹھے ہیں ۔ حامد بخاری نے حکومتی قوانین کی مبینہ دھجیاں بکھیرتے ہوئے تعلیمی بورڈ کے معاملات میں بے جا مداخلت کرنا شروع کر رکھی ہے اور یہی نہیں سیکرٹری بورڈ کی کار اور کمشنر بہاول پور کی گاڑی کو اپنے ذاتی استعمال میں رکھے ہوئے ہے ، سرکاری پٹرول اور مین ٹینس کے نام پر حامد بخاری لاکھوں روپے مبینہ طور پر اپنی جیبوں میں ڈال چکا ہے اور اُسے کوئی پوچھنے والا نہیں ہے ۔ اِسی طرح حامد بخاری بورڈ آفس کے دیگر ملازمین کی طرح سالانہ 4 بونس بھی لینے میں مصروف ہے اور ذرائع کا کہنا ہے کہ جب حامد بخاری تعلیمی بورڈ میں ڈیوٹی ہی نہیں کر رہا تو اُسے تنخواہیں بونس کیوں دیئے جا رہے ہیں ؟ اِسی طرح حامد بخاری نے کمشنر آفس بیٹھ کر تمام تر سہولیات اور پروموشنز کا رُخ اپنی طرف کیا ہوا ہے اور حکومتی ضابطہ اخلاق و قوانین کی دھجیاں مسلسل بکھیری جا رہی ہیں اور کمشنر بہاول پور سمیت کوئی بھی اعلیٰ افسر اِس کھلی کرپشن پر ایکشن لینے کو تیار نہیں ۔ شہریوں نے چیف سیکرٹری پنجاب سے مطالبہ کیا ہے کہ حامد بخاری کے خلاف ایک اعلیٰ سطحی تحقیقاتی کمیٹی بنائی جائے جو اُس کی تعیناتی سے اب تک کے معاملات اور بنک بیلنس سمیت دیگر کرپشن و لوٹ مار کو منظر عام پر لائے اور یہ کمیٹی رحیم یار خان یا بہاول نگر کے افسران پر مشتمل ہونی چاہئے ۔







