ملتان ( غلام دستگیرچوہان سے) حکومت کی جانب سے بجلی کے صارفین کے لیے متعارف کرائے گئے نئے ڈیجیٹل تصدیقی نظام نے عوامی حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ توانائی کے شعبے سے وابستہ ماہرین، صارفین کے حقوق کے لیے کام کرنے والے حلقوں اور شہریوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ بجلی کے بلوں پر موجود کیو آر کوڈ سکین کر کے شناختی تصدیق کی نئی شرط کے باعث ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں مستحق صارفین سرکاری سبسڈی سے محروم ہو سکتے ہیں۔ذرائع کے مطابق نئے نظام کے تحت صارفین کو اپنے بجلی کے بل پر درج کیو آر کوڈ سکین کرنا ہوگا جس کے بعد انہیں بل ہولڈر کا اصل قومی شناختی کارڈ نمبر فراہم کرنا پڑے گا۔ اس کے بعد بل کے ریکارڈ میں درج موبائل نمبر پر ایک ون ٹائم پاس ورڈ (OTP) بھیجا جائے گا جس کی تصدیق کے بعد ہی صارف کا ڈیٹا مکمل طور پر ویریفائی تصور کیا جائے گا۔ اس عمل کے بغیر صارفین کو بعض سرکاری سہولیات اور ممکنہ سبسڈی کے حصول میں مشکلات پیش آ سکتی ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ بظاہر یہ اقدام ڈیجیٹل شفافیت اور درست ڈیٹا اکٹھا کرنے کے لیے کیا جا رہا ہے، تاہم زمینی حقائق اس نظام کی کامیابی پر سوالیہ نشان کھڑے کر رہے ہیں۔ پاکستان میں لاکھوں افراد کرائے کے گھروں میں رہائش پذیر ہیں جہاں بجلی کے میٹر اور بل اکثر مالکان کے نام پر رجسٹرڈ ہوتے ہیں۔ ایسی صورتحال میں کرایہ داروں کے پاس نہ تو بل ہولڈر کا شناختی کارڈ موجود ہوتا ہے اور نہ ہی وہ موبائل نمبر جس پر تصدیقی پیغام بھیجا جانا ہے۔شہری حلقوں کے مطابق ملک کے بڑے شہروں سمیت چھوٹے قصبوں اور دیہی علاقوں میں بھی ایسی بے شمار مثالیں موجود ہیں جہاں بجلی کا کنکشن کئی سال قبل لگایا گیا تھا لیکن مکان فروخت ہونے یا مالک کے انتقال کے باوجود میٹر کی ملکیت تبدیل نہیں کرائی گئی۔ نتیجتاً موجودہ صارفین اور بل ہولڈرز کے درمیان معلومات کا فرق موجود ہے جس کی وجہ سے تصدیقی عمل مکمل کرنا ناممکن بن سکتا ہے۔کراچی، لاہور، ملتان، فیصل آباد، راولپنڈی اور پشاور سمیت مختلف شہروں کے کرایہ داروں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر سبسڈی، ریلیف یا دیگر حکومتی مراعات کو اس تصدیقی عمل سے مشروط کر دیا گیا تو سب سے زیادہ متاثر متوسط اور سفید پوش طبقہ ہوگا۔ ان کا کہنا ہے کہ کرایہ دار پہلے ہی مہنگی بجلی، بڑھتے ہوئے کرایوں اور دیگر معاشی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں، ایسے میں ایک پیچیدہ ڈیجیٹل نظام ان کے لیے مزید مشکلات پیدا کرے گا۔سماجی و اقتصادی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں موبائل نمبر تبدیل کرنا ایک عام عمل ہے۔ لاکھوں صارفین اپنے پرانے نمبر بند کر چکے ہیں جبکہ بجلی کے ریکارڈ میں اب بھی کئی سال پرانے نمبر درج ہیں۔ ایسی صورت میں اگر تصدیقی کوڈ غیر فعال یا کسی اور شخص کے زیر استعمال نمبر پر بھیجا جائے تو اصل صارف ویریفکیشن کے عمل سے باہر ہو جائے گا۔ماہرین نے اس امر کی بھی نشاندہی کی ہے کہ دیہی علاقوں میں بڑی تعداد میں ایسے خاندان موجود ہیں جہاں بزرگ افراد کے نام پر بجلی کے کنکشن ہیں لیکن ان کے انتقال کے بعد بھی ریکارڈ اپ ڈیٹ نہیں کیا گیا۔ بعض مقامات پر ایک ہی میٹر سے کئی خاندان مستفید ہو رہے ہیں۔ ان صورتوں میں اصل شناختی کارڈ اور رجسٹرڈ موبائل نمبر تک رسائی حاصل کرنا تقریباً ناممکن ہوگا۔صارفین کے حقوق کے لیے سرگرم تنظیموں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ کسی بھی قسم کی سبسڈی یا ریلیف کو صرف کیو آر کوڈ سکیننگ اور موبائل ویریفکیشن سے مشروط نہ کیا جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر مستحق افراد محض تکنیکی یا دستاویزی رکاوٹوں کی وجہ سے سبسڈی سے محروم ہو گئے تو اس کے سنگین سماجی اور معاشی نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔ معاشی ماہرین کے مطابق پاکستان میں بجلی کے صارفین کی ایک بڑی تعداد ایسے گھروں میں رہتی ہے جہاں قانونی ملکیت اور عملی استعمال کنندہ الگ الگ افراد ہوتے ہیں۔ اس لیے پالیسی سازی کے دوران زمینی حقائق کو مدنظر رکھنا ناگزیر ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر حکومت کا مقصد صرف مستحق افراد کی درست نشاندہی ہے تو نادرا، بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام، احساس پروگرام اور دیگر موجودہ سرکاری ڈیٹا بیسز سے بھی مدد لی جا سکتی ہے۔دوسری جانب بعض حلقے اس اقدام کو حکومتی سبسڈی کے دائرہ کار کو محدود کرنے کی کوشش قرار دے رہے ہیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ پیچیدہ تصدیقی شرائط کے باعث بڑی تعداد میں صارفین خود بخود نظام سے باہر ہو جائیں گے جس کے نتیجے میں حکومتی مالی بوجھ کم ہو جائے گا تاہم اس کا اصل نقصان غریب اور متوسط طبقے کو برداشت کرنا پڑے گا۔عوامی حلقوں نے حکومت، وزارت توانائی، پاور ڈویژن اور بجلی تقسیم کار کمپنیوں سے مطالبہ کیا ہے کہ اس نظام کے نفاذ سے قبل ملک گیر آگاہی مہم چلائی جائے، متبادل تصدیقی طریقہ کار متعارف کرایا جائے اور کرایہ داروں، خواتین سربراہانِ خانہ، بزرگ شہریوں اور دیگر کمزور طبقات کے لیے خصوصی سہولت فراہم کی جائے تاکہ کوئی مستحق شہری محض تکنیکی وجوہات کی بنا پر بجلی کے بلوں میں دی جانے والی سبسڈی اور ریلیف سے محروم نہ ہو۔







