
ملتان (وقائع نگار) پنجاب بھر میں لاک والی سرنجز کے استعمال پر سختی سے عملدرآمد کی ہدایت ، ایچ آئی وی اور ہیپاٹائٹس کے پھیلاؤ پر بریک لگانے کا فیصلہ ،صوبہ پنجاب میں مریضوں کے علاج معالجے کے دوران لاک والی سرنجز استعمال کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے چیف سیکرٹری پنجاب کی ہدایت پر ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز (DHQ) برانچ نے تمام سرکاری و نجی ہسپتالوں، کلینکوں اور میڈیکل سٹورز کو لازمی طور پر لاک والی (آٹو ڈس ایبل) سرنجز استعمال کرنے کی ہدایات جاری کر دی ہیں۔حکام کے مطابق یہ فیصلہ نشتر ہسپتال اور تونسہ شریف سمیت صوبے کے مختلف علاقوں میں سامنے آنے والے ایچ آئی وی کے کیسز کے بعد کیا گیا ہے۔ ان کیسز کی تحقیقات سے یہ انکشاف ہوا کہ بغیر لاک والی سرنجز کا بار بار استعمال انفیکشنز کی منتقلی کا بڑا ذریعہ بن رہا ہےمحکمہ صحت پنجاب کے مطابق بغیر لاک والی سرنجز کو ایک سے زیادہ مریضوں پر استعمال کیا جاتا رہا، جس سے ایچ آئی وی اور ہیپاٹائٹس بی اور سی جیسے خطرناک امراض تیزی سے پھیل رہے تھے۔ ملتان، تونسہ اور صوبے کے دیگر علاقوں میں رپورٹ ہونے والے کیسز نے حکومت کو سخت اقدامات اٹھانے پر مجبور کیا۔ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ سروسز اور متعلقہ حکام نے تمام ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسرز (DHOs) کو ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہتمام سرکاری ہسپتالوں میں فوری طور پر لاک والی سرنجز ہی استعمال ہوں۔نجی ہسپتالوں، ڈسپنسریوں اور ڈاکٹرز کے کلینکوں پر بھی یہ پابندی نافذ ہوگی۔میڈیکل سٹورز کو بغیر لاک والی سرنجز کی فروخت روکنے اور لاک والی سرنجز کی دستیابی یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔ایک سینیئر سرکاری افسر نے بتایا، “مریضوں کی جان بچانے کے لیے یہ ناگزیر اقدام ہے۔ ایک سرنج ایک بار استعمال یہ اصول اب ہر سطح پر نافذ کیا جائے گا۔ خلاف ورزی پرسخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔”محکمہ صحت نے تمام ڈاکٹرز، پیرامیڈیکل سٹاف اور فارماسسٹس سے اپیل کی ہے کہ وہ اس فیصلے پر مکمل عملدرآمد یقینی بنائیں تاکہ صوبے میں خون کے ذریعے پھیلنے والے امراض پر قابو پایا جا سکے۔ملتان سمیت جنوبی پنجاب کے شہروں میں مریضوں کے لواحقین نے اس اقدام کا خیر مقدم کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ غریب مریض اکثر سرکاری ہسپتالوں پر انحصار کرتے ہیں، جہاں سرنجز کی دوبارہ استعمال کی شکایات عام رہی ہیں۔حکومت نے مزید کہا ہے کہ لاک والی سرنجز کی سپلائی بڑھانے کے لیے صوبائی سطح پر اقدامات کیے جا رہے ہیں تاکہ قیمتوں میں اضافہ نہ ہو اور دستیابی متاثر نہ ہو۔







