ملتان (سٹاف رپورٹر) ہائر ایجوکیشن کمیشن (HEC) نے ملک بھر میں اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں ایک بڑا اور فیصلہ کن اقدام اٹھاتے ہوئے تحصیل سطح پر یونیورسٹیوں کے سب کیمپس قائم کرنے اور چلانے پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ اس فیصلے کو تعلیمی حلقوں میں ایک اہم موڑ قرار دیا جا رہا ہے، جو بظاہر معیارِ تعلیم کو بہتر بنانے کے لیے کیا گیا ہے، تاہم اس کے دور رس اثرات پر بحث بھی شروع ہو گئی ہے۔HEC کے چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر نیاز احمد اختر کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ مراسلے میں واضح کیا گیا ہے کہ یہ فیصلہ HEC آرڈیننس 2002 کے تحت کیے گئے ایک جامع جائزے کے بعد کیا گیا۔ جائزے میں انکشاف ہوا کہ تحصیل سطح پر قائم یا مجوزہ سب کیمپس نہ صرف تعلیمی اعتبار سے کمزور ہیں بلکہ طویل المدتی بنیادوں پر غیر پائیدار بھی ثابت ہو رہے ہیں۔ مراسلے کے مطابق ایسے کیمپسز کو پی ایچ ڈی سطح کے مستند اساتذہ کی کمی، محدود طلبہ داخلہ، ناقص تعلیمی پروگرامز، اور لیبارٹریز، ٹیکنیکل سہولیات، رہائشی انتظامات سمیت بنیادی انفراسٹرکچر کی شدید قلت جیسے مسائل کا سامنا ہے۔ مزید برآں، یہ کیمپسز تعلیمی تنہائی، کمزور گورننس اور شعبۂ تعلیم کی ساکھ کو نقصان پہنچانے جیسے خطرات سے بھی دوچار ہیں۔ HEC نے فوری طور پر ہدایت جاری کی ہے کہ کوئی بھی یونیورسٹی یا ڈگری ایوارڈ کرنے والا ادارہ اب تحصیل سطح پر کسی نئے سب کیمپس کے قیام، اشتہار، آغاز یا منظوری کی کوشش نہیں کرے گا۔ اس کے ساتھ ہی واضح کیا گیا ہے کہ ایسے کسی بھی کیمپس کے لیے این او سی، منظوری، ایکریڈیٹیشن یا ڈگری کی تصدیق فراہم نہیں کی جائے گی۔ مزید سخت اقدامات کے تحت تمام زیر التوا منصوبے فوری طور پر معطل کر دیے گئے ہیں، جبکہ کسی بھی قسم کی داخلہ مہم، فیکلٹی بھرتی، زمین کے حصول، خریداری یا تعمیراتی سرگرمیوں پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ HEC نے خبردار کیا ہے کہ اس حکم کی خلاف ورزی کی صورت میں متعلقہ وائس چانسلر، ریکٹر، رجسٹرار اور دیگر ذمہ داران خود جوابدہ ہوں گے۔ سب سے اہم اور تشویشناک پہلو یہ ہے کہ کسی بھی غیر منظور شدہ تحصیل سطح کے سب کیمپس سے جاری کی جانے والی ڈگریاں HEC کے نزدیک نہ تو تسلیم کی جائیں گی اور نہ ہی ان کی تصدیق ممکن ہوگی، جس سے طلبہ کے مستقبل پر براہ راست اثر پڑ سکتا ہے۔







