ملتان (سہیل چوہدری سے)کھربوں روپے ڈوبے، صنعتیں رکیں: ملتان سے کراچی تک برآمد کنندگان سے72 گھنٹے کا وعدہ، 3 سال گزرگئے مگرریفنڈزنہ ملے۔ ایف بی آر کا سسٹم ناکام ہوکررہ گیا۔ لاکھوں ملازمین خطرے میں ہیں۔ ٹیکسٹائل سے چمڑے تک کی صنعتیں بند ہونے کے دہانے پر آگئیں۔ پاکستان کی برآمدی صنعت تاریخی بحران سے دوچار ہے۔ 2022 سے 2025 تک حکومت نے برآمد کنندگان کے کھربوں روپے کے سیلز ٹیکس ریفنڈ اور ڈیوٹی ڈرا بیک روک رکھے ہیںجس کی وجہ سے ہزاروں فیکٹریاں لیکویڈیٹی (نقدی) کی شدید قلت کا شکار ہیں۔ذرائع کے مطابق صرف سیلز ٹیکس اور انکم ٹیکس کریڈٹ کا مجموعی بقایا (بیک لاگ) 200 ارب روپے سے تجاوز کر چکا ہے۔ ایف بی آر کی جانب سے 72 گھنٹوں میں ریفنڈ کلیئر کرنے کا وعدہ محض ایک خواب ثابت ہوا ہے، کیونکہ یہ رقم برسوں سے روکی ہوئی ہے۔ملتان کے چمڑے کے ایک برآمد کنندہ نے بتایا ہمارے 20 کروڑ روپے روکے ہیں۔ بینک قرضے نہیں اتر رہے، مشینری بند ہونے کو ہے۔ حکومت کا کہنا ہے سسٹم میں خرابی ہے جبکہ ایف بی آر کا IRIS پورٹل آج تک کیسے ٹھیک نہیں ہوامحاسبہ عام (AGP) کی 2024-25 کی رپورٹ کے مطابق ایف بی آر کا نظام ڈبل فیل ہو رہا ہے 194 کیسز میں 92.84 کروڑ روپے کی ریفنڈ غلط ادا کر دی گئی۔1,143 کیسز میں 3,550 کروڑ روپے سے زائد کی ریفنڈ کا پوسٹ آڈٹ تک نہیں کیا گیا۔.334 کروڑ روپے کی ریفنڈ مشکوک قرار دے کر روک دی گئی مگر عدالت میں ریکارڈ فراہم نہ کیا ملتان میں تو معاملات نے شدت اختیار کر لی ہے 2023 میں FASTER سسٹم دو ماہ بند رہا برآمد کنندگان 70 ارب روپے کا کلیم فائل تک نہ کر سکے۔· 2025 میں IRIS پورٹل میں صرف ‘کلوگرام’ یونٹ ہے، جبکہ دواسازی، کیمیکل اور جوتوں کی صنعتوں کو لیٹر، میٹر یا پیس درکار ہے۔ یہ مسئلہ مارچ 2025 میں اٹھایا گیا، مگر آج تک حل نہیں ہو سکا۔ ٹیکسٹائل (60% برآمدات) 25 فیصد یونٹس بند ہونے کے خطرے سے دوچارہیں۔· چمڑے کی صنعت (دوسری بڑی صنعت) کے ملتان میں 70 فیصد ریفنڈ زیر التوا ہیں۔ پھل اور سبزیوں کے ایکسپورٹ آرڈر منسوخ ہوگئے۔کروڑوں روپے کا سامان ضائع ہو گیا ہے اگست 2025 میں صنعتی پالیسی کمیٹی نے سفارش کی تھی کہ ریفنڈز 72 گھنٹوں میں کلیئر کیے جائیں لیکن یہ سفارشات ابھی تک کاغذوں میں ہی ہیں۔محاسبہ عام (AGP) نے سختی سے کہا ہے کہ زیر التوا کیسز فوری حل کیے جائیں، لاپرواہ افسران کے خلاف تادیبی کارروائی ہو۔لیکن برآمد کنندگان کا کہنا ہے:عدالتی احکامات بھی بے اثر ہیں، کوئی افسر ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جا رہا ہےماہرین معیشت کے مطابق اگر چند ماہ میں یہ 200 ارب روپے جاری نہ کیے گئے تو 5 لاکھ سے زائد مزدور بے روزگار ہو جائیں گے۔ پاکستان کی برآمدات 30 فیصد گر سکتی ہیں۔زرمبادلہ پر مزید دباؤ روپیہ مزید گرے گا۔خودکار ریفنڈ سسٹم کو فوری بحال کیا جائے، انسانی مداخلت ختم کی جائے۔برامدکنندگان کا کہنا ہےکہ یا تو ہمیں ہمارا حق دیا جائے ورنہ اگلا احتجاج اسلام آباد میں فیکٹری بندکر کے کیا جائے گا۔







