انتظامیہ پرائیویٹ کمپنیوں کا ایکا، گندم خریداری نظام ناکام، فلورملز کو بھاری نقصان

ملتان (سٹاف رپورٹر) حکومت پنجاب کی طرف سے نامزد کی گئی 12 گندم سٹاک کرنے والی کمپنیوں کے لئے کاشت کاروں سے گندم کی خریداری مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے اور اس وقت صورتحال یہ ہے کہ محکمہ خوراک کا عملہ زبردستی فلور ملوں سے ان کے خرید کردہ سٹاک کا 10 فیصد حصہ لیکر پرائیویٹ سٹاکسٹوں کو فراہم کر رہا ہے۔ اس صورتحال میں فی ٹرالی سوا لاکھ روپے کا نقصان ہو رہا ہے کیونکہ مارکیٹ میں گندم کا ریٹ 4 ہزار روپے فی من سے اوپر جا چکا ہے جبکہ حکومت کے احکامات کے تحت پرائیویٹ کمپنیاں 3500 روپے کے حساب سے گندم خرید رہی ہے اور چار ہزار روپے والی گندم فلور مل مالکان ان پرائیویٹ سٹاکسٹوں کو 35 روپے فی من کے حساب سے دینے پر مجبور کر دیے گئے ہیں اور بعض مل مالکان اس صورتحال کے خلاف عدالتوں سے بھی رجوع کر چکے ہیں۔ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ غلہ منڈیوں میں گندم بالکل ختم ہو چکی ہے اور لوگوں نے گندم سٹاک کر لی ہے اور اب ضلعی انتظامیہ محکمہ خوراک کی مدد سے آٹے کی چکیوں پر بھی چھاپے مارنے سے گریز نہیں کر رہی۔ پاکستان کی انتظامی تاریخ میں یہ پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ حکومتی کارندے اور سرکاری افسران پرائیویٹ پارٹیوں کے لیے جبری طور پر گندم خرید رہے ہیں اور یہ امر بھی توجہ طلب ہے کہ حکومت کی طرف سے سرکاری باردانہ بھی انہی پرائیویٹ 12 سٹاکسٹوں کے زریعے کاشتکاروں کو فراہم کیا گیا ہے جو انہوں نے کاشتکاروں کو دیا اور کاشتکار اب دوبارہ گندم ان کے گوداموں میں جمع کروانے پر مجبور کر دیے گئے ہیں۔ یاد رہے کہ جب گندم کی کٹائی اور تھریشنگ شروع ہوئی تو محکمہ خوراک کے علم میں یہ بات آ چکی تھی کہ اس مرتبہ موسمی حالات کی وجہ سے گندم کی پیداوار میں 20 فیصد کمی ہوئی ہے اس لیے گندم شارٹ ہو سکتی ہے مگر حکومت کا محکمہ خوراک فیصلے کرنے میں دانستہ تاخیر کرتا رہا اور اس کا بھرپور فائدہ گندم ذخیرہ کرنے اور گندم کی دوسرے صوبوں میں ترسیل کرنے والی بڑی بڑی پارٹیوں نے پنجاب بھر سے سینکڑوں ٹرک روزانہ کے حساب سے گندم سندھ، کے پی کے اور بلوچستان بھجوا دی اور اس وقت حکومت نے کسی بات کا کوئی نوٹس نہیں لیا اور محکمہ خوراک کا عملہ 20 سے 25 ہزار روپیہ فی ٹرک رشوت وصول کرکے گندم پنجاب سے باہر جانے کی کھلے عام اجازت دیتا رہا اور جو پیسے نہ دیتا اس کا ٹرک روک لیا جاتا تھا۔ جب کاشت کار نے اپنی گندم کراچی کی دو بڑی پارٹیوں سمیت پنجاب کے بعض غلہ منڈیوں کے بڑے بڑے تاجروں کے ذریعے کے پی کے اور بلوچستان کے بیوپاریوں کو فروخت کرکے بھجوا دی اور اپنی رقم بھی کھری کر لی تب حکومت کو ہوش آیا اور اب پنجاب حکومت کا سارا زور غریب کاشت کاروں اور ان لوگوں پر چل رہا ہے جو اپنے سالانہ استعمال کے لیے گندم سٹاک کیے ہوئے ہیں یا ان فلور ملز پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے جنہوں نے گندم پیسے دے کر مارکیٹ ریٹ پر 3500 سے 3600 روپے فی من کے حساب سے خریدی۔ تمام صورتحال کا سب سے تکلیف دہ پہلو یہ ہے کہ ان پرائیویٹ کمپنیوں کو جو گندم سٹاک کرنے کے لیے فراہم کی جا رہی ہے اس کے لیے بینکوں کو سود کی رقم بھی حکومت ادا کرے گی اور ایسا پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ہو رہا ہے کہ پرائیویٹ کمپنیوں پر نوازشات کی بارش ہو رہی ہے اور محکمہ خوراک چپ سادھے بیٹھا ہے۔ یاد رہے کہ آج سے 30 سال قبل اسی طرح پنجاب کے مختلف اضلاع کی انتظامیہ کاشت کاروں سے زبردستی گنے کی ٹرالیاں چھین کر بعض مخصوص شوگر ملوں کو فراہم کرنے میں بھی ملوث رہی ہے اور 30 سال بعد وہی کہانی گندم کے ساتھ دہرائی جا رہی ہے۔ کاشتکار اس صورتحال سے شدید پریشانی میں مبتلا ہیں اور فلور مل مالکان کے مطابق ایک ٹرالر میں 120 بوریاں گندم آتی ہیں اور یہ بوریاں پرائیویٹ سٹاکسٹوں کو فراہم کرنے کی صورت میں فلور ملز مالکان کو فی ٹرالی سوا لاکھ روپے کا نقصان ہو رہا ہے جس کا بوجھ آخر کار عام صارف کو اٹھانا پڑے گا۔ بعض فلور مل مالکان نے روزنامہ قوم کو بتایا بادی النظر میں ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ یہ کمپنیاں بھی آف شور کمپنیاں ہیں جن کی سرکاری سطح پر سہولت کاری ہو رہی ہے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں