مومنہ اقبال ہراسگی کیس: ثاقب چدھڑ کے خلاف تفتیش مکمل، عدالت نے عبوری ضمانت میں توسیع کر دی-مومنہ اقبال ہراسگی کیس: ثاقب چدھڑ کے خلاف تفتیش مکمل، عدالت نے عبوری ضمانت میں توسیع کر دی-ڈاکٹر نبیحہ علی نے خلع کی درخواست واپس لے لی، شوہر سے صلح کے بعد عدالت نے کیس خارج کر دیا-ڈاکٹر نبیحہ علی نے خلع کی درخواست واپس لے لی، شوہر سے صلح کے بعد عدالت نے کیس خارج کر دیا-آزاد کشمیر الیکشن: میرپور اور کوٹلی میں ووٹ پر ڈاکے کا الزام، بلاول بھٹو نے ریاست سے بڑا مطالبہ کر دیا-آزاد کشمیر الیکشن: میرپور اور کوٹلی میں ووٹ پر ڈاکے کا الزام، بلاول بھٹو نے ریاست سے بڑا مطالبہ کر دیا-راولاکوٹ میں کالعدم ایکشن کمیٹی کا مبینہ مسلح ملزم گرفتار، تفتیش میں اہم انکشافات کا دعویٰ-راولاکوٹ میں کالعدم ایکشن کمیٹی کا مبینہ مسلح ملزم گرفتار، تفتیش میں اہم انکشافات کا دعویٰ-نورین نیازی کے خلاف پیکا ایکٹ کے تحت مقدمہ درج، ریاست اور مسلح افواج سے متعلق بیانات پر کارروائی-نورین نیازی کے خلاف پیکا ایکٹ کے تحت مقدمہ درج، ریاست اور مسلح افواج سے متعلق بیانات پر کارروائی

تازہ ترین

یوٹیوب کا لائیو اسٹریمنگ کے قوانین میں بڑی تبدیلی کا اعلان

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے لیے عمر کی حد بڑھا دی، 16 سال سے کم عمر افراد براہ راست نشریات نہیں کر سکیں گے
یوٹیوب نے اپنے پلیٹ فارم پر لائیو اسٹریم کے لیے عمر کی نئی پالیسی متعارف کروا دی ہے۔ یوٹیوب ہیلپ سپورٹ کے مطابق 22 جولائی 2025 سے صرف وہی صارفین لائیو اسٹریم کرسکیں گے جن کی عمر 16 سال یا اس سے زیادہ ہوگی۔
پہلے 13 سال سے کم عمر بچوں کو صرف بالغ فرد کی نگرانی میں لائیو آنے کی اجازت تھی، لیکن اب یہ حد بڑھا کر 15 سال کر دی گئی ہے۔
یوٹیوب نے خبردار کیا ہے کہ اگر کوئی 16 سال سے کم عمر تخلیق کار بالغ شخص کے بغیر لائیو آیا تو اس پر مختلف پابندیاں عائد کی جائیں گی، جن میں لائیو چیٹ بند کرنا اور کئی فیچرز تک رسائی روک دینا شامل ہوگا۔
بار بار ضابطے توڑنے پر اس کی ویڈیوز حذف کر دی جائیں گی اور چینل پر مکمل لائیو اسٹریم کی پابندی لگ سکتی ہے۔ اگر خلاف ورزی جاری رہی تو چینل کو مکمل طور پر بند بھی کیا جا سکتا ہے۔
یوٹیوب کا کہنا ہے کہ 16 سال سے کم عمر تخلیق کار صرف اس وقت لائیو جا سکتے ہیں جب کسی بالغ فرد کو ان کے چینل پر ایڈیٹر، منیجر یا اونر کا درجہ دے دیا جائے اور وہ خود لائیو اسٹریم میں موجود ہوں۔
یوٹیوب کی جانب سے ان تبدیلیوں کی کوئی وجہ تو نہیں بتائی گئی، تاہم یہ فیصلہ کم عمر صارفین کے لیے ایک بڑا جھٹکا ثابت ہو سکتا ہے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں