10 سی سی سرنج پر پابندی پر ماہرین کا تحفظات کا اظہار، نومولود بچوں کے علاج پر منفی اثرات کا خدشہ-10 سی سی سرنج پر پابندی پر ماہرین کا تحفظات کا اظہار، نومولود بچوں کے علاج پر منفی اثرات کا خدشہ-امریکی حملوں میں شہریوں کی ہلاکت پر عباس عراقچی کا سخت ردعمل، "خون رائیگاں نہیں جائے گا"-امریکی حملوں میں شہریوں کی ہلاکت پر عباس عراقچی کا سخت ردعمل، "خون رائیگاں نہیں جائے گا"-گزشتہ مالی سال میں پاکستان نے چین سے 16.2 ارب ڈالر کے قرضے حاصل کیے، ہدف مکمل نہ ہو سکا-گزشتہ مالی سال میں پاکستان نے چین سے 16.2 ارب ڈالر کے قرضے حاصل کیے، ہدف مکمل نہ ہو سکا-ایرانی میڈیا کا دعویٰ، سعودی عرب میں پرنس سلطان ایئر بیس پر میزائل حملہ، سعودی حکام نے خطرہ ٹلنے کا اعلان کیا-ایرانی میڈیا کا دعویٰ، سعودی عرب میں پرنس سلطان ایئر بیس پر میزائل حملہ، سعودی حکام نے خطرہ ٹلنے کا اعلان کیا-وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کا طالبات کے لیے بڑا اعلان، ایک لاکھ مفت الیکٹرک بائیکس دینے کا فیصلہ-وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کا طالبات کے لیے بڑا اعلان، ایک لاکھ مفت الیکٹرک بائیکس دینے کا فیصلہ

تازہ ترین

جنگ مذاق نہیں، ہمارا نیوکلیئر پروگرام اور میزائل ملک کی حفاظت کے لیے ہے، اسحاق ڈار کا دوٹوک اعلان

سینیٹ میں قائد ایوان، نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان کا ایٹمی پروگرام اور میزائل سسٹم مکمل طور پر ملکی دفاع کے لیے ہے۔
ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اس وقت مختلف گمراہ کن اور جھوٹی معلومات پھیلائی جا رہی ہیں جن سے عوام میں غلط فہمیاں پیدا ہو رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکی صدر ٹرمپ سے منسوب ایک کلپ بھی زیر گردش ہے جو بعد میں پتہ چلا کہ مصنوعی ذہانت سے تیار کیا گیا ہے۔
اسحاق ڈار نے مزید کہا کہ اومان اور ایران کے وزرائے خارجہ سے مسلسل رابطے میں رہا اور ایران نے اس معاملے میں پاکستان کے کردار پر شکریہ ادا کیا۔
انہوں نے بتایا کہ 13 جون کے بعد کئی جعلی خبریں سامنے آئیں، یہاں تک کہ نیتن یاہو کا ایک پرانا 2011 کا انٹرویو بھی دوبارہ وائرل کر دیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسی حساس صورتحال میں تمام فریقین کو احتیاط سے کام لینا چاہیے کیونکہ یہ کوئی معمولی معاملہ نہیں بلکہ سنگین جنگی صورتحال ہے۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ وزارت خارجہ میں کرائسز یونٹ کو فعال کر دیا گیا ہے اور اس وقت 500 سے زائد زائرین کی دیکھ بھال کی جا رہی ہے۔ فیک نیوز کے حوالے سے سختی سے تصدیق کے بعد ہی خبروں پر یقین کیا جانا چاہیے۔
انہوں نے ایک بار پھر واضح کیا کہ پاکستان کا نیوکلیئر اور میزائل پروگرام صرف اور صرف ملکی دفاع کے لیے ہے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں