مومنہ اقبال ہراسگی کیس: ثاقب چدھڑ کے خلاف تفتیش مکمل، عدالت نے عبوری ضمانت میں توسیع کر دی-مومنہ اقبال ہراسگی کیس: ثاقب چدھڑ کے خلاف تفتیش مکمل، عدالت نے عبوری ضمانت میں توسیع کر دی-ڈاکٹر نبیحہ علی نے خلع کی درخواست واپس لے لی، شوہر سے صلح کے بعد عدالت نے کیس خارج کر دیا-ڈاکٹر نبیحہ علی نے خلع کی درخواست واپس لے لی، شوہر سے صلح کے بعد عدالت نے کیس خارج کر دیا-آزاد کشمیر الیکشن: میرپور اور کوٹلی میں ووٹ پر ڈاکے کا الزام، بلاول بھٹو نے ریاست سے بڑا مطالبہ کر دیا-آزاد کشمیر الیکشن: میرپور اور کوٹلی میں ووٹ پر ڈاکے کا الزام، بلاول بھٹو نے ریاست سے بڑا مطالبہ کر دیا-راولاکوٹ میں کالعدم ایکشن کمیٹی کا مبینہ مسلح ملزم گرفتار، تفتیش میں اہم انکشافات کا دعویٰ-راولاکوٹ میں کالعدم ایکشن کمیٹی کا مبینہ مسلح ملزم گرفتار، تفتیش میں اہم انکشافات کا دعویٰ-نورین نیازی کے خلاف پیکا ایکٹ کے تحت مقدمہ درج، ریاست اور مسلح افواج سے متعلق بیانات پر کارروائی-نورین نیازی کے خلاف پیکا ایکٹ کے تحت مقدمہ درج، ریاست اور مسلح افواج سے متعلق بیانات پر کارروائی

تازہ ترین

پاکستان کی بڑھتی آبادی سنگین مسئلہ بن چکی ہے، وزیر صحت مصطفیٰ کمال

اسلام آباد:وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے خبردار کیا ہے کہ پاکستان کی تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی تمام قومی منصوبہ بندی کو متاثر کر رہی ہے، اور اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو صورتحال مزید بگڑ سکتی ہے۔
ہیلیون پاکستان لمیٹڈ کی سی ای او سے ملاقات کے دوران وفاقی وزیر صحت نے کہا کہ صحت کے شعبے میں بہتری لانے کے لیے تمام اسٹیک ہولڈرز کو مشترکہ طور پر کام کرنا ہوگا۔ ملاقات میں دوا سازی کے شعبے میں ہیلیون کی خدمات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
مصطفیٰ کمال نے کہا کہ پاکستان 2030 تک آبادی کے لحاظ سے دنیا کا چوتھا بڑا ملک بن جائے گا۔ ملک میں موجودہ شرح تولید 3.6 فیصد ہے جسے کم کرکے 2 فیصد تک لانا ناگزیر ہو چکا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان میں 68 فیصد بیماریاں آلودہ پانی کے استعمال سے پھیلتی ہیں، اور بدقسمتی سے سیوریج ٹریٹمنٹ کا کوئی مؤثر نظام موجود نہیں۔ وزارت صحت صاف پانی کی فراہمی کو اولین ترجیح دے رہی ہے، جس کے لیے جدید سیوریج ٹریٹمنٹ نظام نافذ کیا جا رہا ہے۔
وفاقی وزیر صحت کا کہنا تھا کہ ملک کا پرائمری ہیلتھ کیئر نظام کمزور ہے، جسے ٹیلی میڈیسن کے ذریعے فعال اور مضبوط بنایا جا رہا ہے۔ اس منصوبے کے تحت ڈاکٹروں اور ادویات کی رسائی اب لوگوں کے گھروں تک ممکن ہو گئی ہے، جس سے بڑے اسپتالوں پر بوجھ کم ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ ہم نے ہیلتھ کیئر سسٹم کو مضبوط بنانے کے لیے ایک مکمل روڈ میپ تیار کر لیا ہے، اور احتیاط کو علاج پر ترجیح دیتے ہوئے بیماریوں سے پہلے بچاؤ پر توجہ دی جا رہی ہے۔ شعبۂ صحت میں وسیع پیمانے پر اصلاحات کا آغاز کر دیا گیا ہے تاکہ عوام کو بہتر طبی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔

شیئر کریں

:مزید خبریں