شہباز شریف کے ادوار میں وفاقی قرضوں میں تاریخی اضافہ، پونے چار سال میں 37 ہزار 307 ارب روپے بڑھ گئے-شہباز شریف کے ادوار میں وفاقی قرضوں میں تاریخی اضافہ، پونے چار سال میں 37 ہزار 307 ارب روپے بڑھ گئے-برتھ، ڈیتھ و میرج سرٹیفکیٹس کا آن لائن نظام، سپیڈ منی سے رفتار ورنہ شہری خوار-برتھ، ڈیتھ و میرج سرٹیفکیٹس کا آن لائن نظام، سپیڈ منی سے رفتار ورنہ شہری خوار-ملتان: 24 گھنٹوں میں چوری، ڈکیتی، سنگین جرائم کی 25 وارداتیں، شہری اللہ کے حوالے-ملتان: 24 گھنٹوں میں چوری، ڈکیتی، سنگین جرائم کی 25 وارداتیں، شہری اللہ کے حوالے-غیر ملکی ایجنسیوں اور دہشتگردوں کو سمیں فراہم، کرائم ایجنسی نے صادق آباد سے نیٹ ورک پکڑ لیا-غیر ملکی ایجنسیوں اور دہشتگردوں کو سمیں فراہم، کرائم ایجنسی نے صادق آباد سے نیٹ ورک پکڑ لیا-ڈاکٹر احسن کیس: ماموں جج محمود غنی کا وکیل بیٹا سماعت میں موجود، ویڈیوز اذیت ناک: عدالت-ڈاکٹر احسن کیس: ماموں جج محمود غنی کا وکیل بیٹا سماعت میں موجود، ویڈیوز اذیت ناک: عدالت

تازہ ترین

ٹھیکیدار تجمل کا زکریا یونیورسٹی پر قبضہ، وائس چانسلر سے پرنسپل سیکرٹری تک سب تابع فرمان

ملتان(سٹاف رپورٹر) زکر یا یونیورسٹی میںگزشتہ 6 وائس چانسلر کو انتہائی کامیابی سے رام کر کے ان سے کروڑوں روپے کے جائز اور ناجائز کام لینے والے یونیورسٹی ٹھیکیدار تجمل حکیم خان کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ اس نے موجودہ وائس چانسلر ڈاکٹر زبیر اقبال غوری کو بھی اپنی سروسز کے مکمل حصار میں جکڑ لیا ہے۔ چند سال قبل ٹوٹی موٹر سائیکل پر ٹھیکیداری کے لئے یونیورسٹی آنے والے تجمل خان کے پاس اب اربوں روپے کے اثاثےہیں حتیٰ کہ اس کے پاس ڈیڑھ کروڑ مالیت کے پرندے اور پالتو جانور ہیں جن میں سے Taucan نامی طوطے تیس لاکھ فی کس مالیت کے ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ تجمل نےبعض وائس چانسلر ز کے گھروںکی آرائش بھی کر وا کر دی حتیٰ کہ ایک آفیسر کو دس لاکھ روپے کا بیڈ لے کر دیا۔بتایا جاتا ہے کہ جب تجمل کی طرف سے کوئی ٹینڈر جمع ہو تو کس کو اس کے مقابلے میں ٹینڈر جمع کرانے کی اجازت بھی نہیں ہوتی اور وائس چانسلر آفس کا پرنسپل سیکرٹری زاہد امین ہر ڈیل میں تجمل خان کا پارٹنر ہوتاہے اور تمام وائس چانسلر زاہد حسین ہی کی بریفنگ پر خاموشی سے ہر فائل کو منظوری کے تمام مراحل سے گزار دیتے ہیں۔ تجمل خان نے کمپیوٹر ڈیپارٹمنٹ کیلئے استعمال شدہ اور خراب حالت کے کمپیوٹر سپلائی کر کے نئے کمپیوٹرز کی سپلائی کی اور پیمنٹ یونیورسٹی سے وصول کر لی۔ اس طرح ایک ٹرانسفارمر کی خریداری کیلئے مارکیٹ سے 17 لاکھ روپے سے زائد کی کوٹیشن دی جو کہ منظوری کے تمام مراحل سے گزار دی گئی اور توجہ طلب امر یہ ہے کہ اس کوٹیشن کے مقابلے میں کسی اور ٹھیکیدار سے کوٹیشن ہی وصول نہ کی گئی۔ بتایا گیا ہے کہ یہ اضافی 17 لاکھ ایک پروفیسر زاہد امین اور تجمل حکیم خان میں تقسیم کیا گیا۔

شیئر کریں

:مزید خبریں