10 سی سی سرنج پر پابندی پر ماہرین کا تحفظات کا اظہار، نومولود بچوں کے علاج پر منفی اثرات کا خدشہ-10 سی سی سرنج پر پابندی پر ماہرین کا تحفظات کا اظہار، نومولود بچوں کے علاج پر منفی اثرات کا خدشہ-امریکی حملوں میں شہریوں کی ہلاکت پر عباس عراقچی کا سخت ردعمل، "خون رائیگاں نہیں جائے گا"-امریکی حملوں میں شہریوں کی ہلاکت پر عباس عراقچی کا سخت ردعمل، "خون رائیگاں نہیں جائے گا"-گزشتہ مالی سال میں پاکستان نے چین سے 16.2 ارب ڈالر کے قرضے حاصل کیے، ہدف مکمل نہ ہو سکا-گزشتہ مالی سال میں پاکستان نے چین سے 16.2 ارب ڈالر کے قرضے حاصل کیے، ہدف مکمل نہ ہو سکا-ایرانی میڈیا کا دعویٰ، سعودی عرب میں پرنس سلطان ایئر بیس پر میزائل حملہ، سعودی حکام نے خطرہ ٹلنے کا اعلان کیا-ایرانی میڈیا کا دعویٰ، سعودی عرب میں پرنس سلطان ایئر بیس پر میزائل حملہ، سعودی حکام نے خطرہ ٹلنے کا اعلان کیا-وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کا طالبات کے لیے بڑا اعلان، ایک لاکھ مفت الیکٹرک بائیکس دینے کا فیصلہ-وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کا طالبات کے لیے بڑا اعلان، ایک لاکھ مفت الیکٹرک بائیکس دینے کا فیصلہ

تازہ ترین

دنیاپور اسپتال میں پراسرار موت: زیر علاج مریض کی لاش باہر سے برآمد

لودھراں: تحصیل دنیاپور کے تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال میں ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا، جہاں زیر علاج 50 سالہ مریض فیاض شاہ کی لاش ہسپتال کے باہر سے برآمد ہوئی۔ اس واقعے نے ہسپتال کے سیکیورٹی اور علاج معالجے کے نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
ذرائع کے مطابق فیاض شاہ گزشتہ روز ہسپتال کے گراسی لان میں بیہوشی کی حالت میں پایا گیا تھا۔ ہسپتال کے عملے نے فوری طور پر اسے اٹھا کر وارڈ میں منتقل کیا اور ابتدائی طبی امداد فراہم کی۔ مریض کے ہاتھ پر برنولا لگا دیا گیا اور علاج شروع کر دیا گیا۔ تاہم، اگلے روز فیاض شاہ کی لاش ہسپتال کے وارڈ سے باہر برآمد ہوئی، جس پر ہسپتال انتظامیہ اور سیکیورٹی عملے کی کارکردگی پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
ہسپتال انتظامیہ کا کہنا ہے کہ واقعے کی مکمل تحقیقات کی جا رہی ہیں تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ مریض وارڈ سے باہر کیسے گیا اور اس کی موت کی اصل وجوہات کیا تھیں۔ انتظامیہ نے یقین دہانی کروائی ہے کہ تحقیقات کے بعد ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔
مقامی عوام اور مریضوں کے لواحقین نے واقعے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ہسپتال کے حفاظتی اقدامات اور طبی عملے کی توجہ میں کمی پر سوالات اٹھائے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ 80 بیڈز پر مشتمل اس وسیع ہسپتال میں ایسا واقعہ پیش آنا انتظامیہ کی غفلت کا ثبوت ہے۔
عوامی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ہسپتال میں مریضوں کی حفاظت اور بہتر طبی سہولیات کو یقینی بنانے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں تاکہ آئندہ ایسے افسوسناک واقعات سے بچا جا سکے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں