بی زیڈ یو: کمیٹی در کمیٹی کا ڈرامہ، رجسٹرار اعجاز احمد کو نوازنے کیلئے میرٹ قربان، ڈینز سفارشات مسترد

ملتان (سٹاف رپورٹر) بہا الدین زکریا یونیورسٹی ملتان کے 6 ماہ تک عارضی اور بعد ازاں سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق 6 ماہ سے زائد تعینات غیر قانونی رجسٹرار اعجاز احمد کی بطور ڈپٹی رجسٹرار غیر قانونی تعیناتی و صرف ان کو نوازنے کی خاطر کمیٹی پر کمیٹی اور پھر تیسری کمیٹی بنانے کی بابت حیران کن انکشافات سامنے آ گئے اور یہ بھی بات سامنے آئی ہے کہ سینیڈیکیٹ کی میٹنگ نمبر 04/2001 میں قائم کردہ ذیلی کمیٹی کی ڈپٹی رجسٹرار کے شارٹ لسٹنگ اور طریقہ کار جس پر حالیہ رجسٹرار اعجاز احمد پورا نہ اترتے تھے پر غور کرنے کے لیے طے کردہ سفارشات پر غور کرنا کہ اسسٹنٹ رجسٹرار، ڈپٹی رجسٹرار، اسسٹنٹ کنٹرولر اور ڈپٹی کنٹرولر کی اسامیوں کے لیے امیدواروں کی شارٹ لسٹنگ کے طریقہ کار کے بارے میں، جنہیں سلیکشن بورڈ کے سامنے انٹرویو کے لیے پیش کیا جانا تھا کے لیے دسمبر 2012 میں آنے والے اخبار اشتہار پر ایک ہائی لیول کمیٹی مورخہ یکم جنوری 2014 ڈین آف سائنسز ڈاکٹر سعید احمد ملک ، ڈین آف انجینئرنگ ڈاکٹر شبر عتیق ، ڈین آف فارمیسی ڈاکٹر خالد حسن جانباز ، ڈین آف لینگویجز ڈاکٹر روبینہ ترین اور ڈین آف سوشل سائنسز ڈاکٹر ایاز رانا پر مشتمل کمیٹی بنائی گئی جس نے اپنی سفارشات پیش کیں جس پر بھی اعجاز احمد پورا نہ اترتے تھے تو اس وقت کے وائس چانسلر نے ہائی لیول ڈینز کی سفارشات کو مسترد کرتے ہوئے مورخہ 5 مئی 2014 کو لو لیول کمیٹی جس میں ڈائریکٹر کوالٹی ڈاکٹر فاروق، رجسٹرار ملک منیر حسین، خزانچی صہیب راشد پر مشتمل کمیٹی بنوا کر حالیہ عارضی و غیر قانونی رجسٹرار اعجاز احمد کو نوازنے کے لیے نئی سفارشات ترتیب دی گئیں اور ان کو وائس چانسلر نے از خود منظور کر کے امیدواران کی شارٹ لسٹنگ مکمل کر لی۔ یوں 5 ڈینز پر مشتمل کمیٹی کی سفارشات کو صرف ایک شخص کو نوازنے کی خاطر پس پشت ڈالتے ہوئے لو لیول کمیٹی کی سفارشات کو منظور کرنا اس نام نہاد اعلیٰ تعلیمی معیار اور میرٹ کے ساتھ نہایت ہی گھناؤنا مذاق ہے۔ اعلیٰ تعلیمی اداروں میں میرٹ کا یہ قتل عام عرصہ دراز سے جاری و ساری ہے اور ان تعلیمی اداروں میں میرٹ کے قتل عام اور غیر قانونی اشخاص کی انکوائریوں کو دبانے اور ان معاملات میں حکومتی خاموشیاں اس ملک کو دیمک کی طرح چاٹ رہی ہیں۔

شیئر کریں

:مزید خبریں