ملتان: انہار کالونی میں ریٹائرڈ اور ٹرانسفر افسران قابض، غیر قانونی الاٹمنٹ و دوہری رہائش-ملتان: انہار کالونی میں ریٹائرڈ اور ٹرانسفر افسران قابض، غیر قانونی الاٹمنٹ و دوہری رہائش-ملتان کے تھانوں میں انصاف نیلام، فیصلے میرٹ کے بجائے بولیوں پر ہونے لگے-ملتان کے تھانوں میں انصاف نیلام، فیصلے میرٹ کے بجائے بولیوں پر ہونے لگے-وزیراعظم شہباز شریف اور امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی اہم ملاقات، علاقائی امن پر تبادلہ خیال-وزیراعظم شہباز شریف اور امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی اہم ملاقات، علاقائی امن پر تبادلہ خیال-ڈیزل 135، پٹرول 12 روپے لٹر سستا، تیل قیمت گرنے پر عوام کو ریلیف کا وعدہ پورا کردیا: وزیراعطم-ڈیزل 135، پٹرول 12 روپے لٹر سستا، تیل قیمت گرنے پر عوام کو ریلیف کا وعدہ پورا کردیا: وزیراعطم-اسلام آباد مذاکرات: ایرانی وفد کے طیارے کیلئے غیر معمولی سیکیورٹی اور فضائی انتظامات کا انکشاف-اسلام آباد مذاکرات: ایرانی وفد کے طیارے کیلئے غیر معمولی سیکیورٹی اور فضائی انتظامات کا انکشاف

تازہ ترین

امیر جماعت اسلامی کا اعلان: 21 دسمبر کو ملک بھر میں “بدل دو نظام” کے تحت دھرنے

امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن نے منصورہ لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے اعلان کیا کہ 21 دسمبر کو ملک بھر میں ڈویژنل ہیڈکوارٹرز پر “بدل دو نظام” کے تحت دھرنے ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ اختیارات بلدیاتی نمائندوں کے پاس ہونے چاہئیں، مگر حکمران طبقہ انہیں گراس روٹ لیول پر منتقل کرنے کے لیے تیار نہیں۔ لاہور سمیت دیگر شہروں میں بلدیاتی اختیارات محدود ہیں اور فارم 47 کے نفاذ نے عام شہریوں میں خوف پیدا کیا ہے۔
حافظ نعیم الرحمن نے مزید کہا کہ بدل دو نظام تحریک رکنے والی نہیں، دھرنوں کے دوران آئندہ لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا۔ انہوں نے ملکی تعلیمی بحران، آئی ایم ایف کی گڈگورننس رپورٹ اور بیوروکریسی کے زیر قبضہ نظام کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ پورے سسٹم کو تبدیل کرنا ہوگا۔
انہوں نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پاک ایران گیس پائپ لائن پر کام نہیں ہو رہا، امریکی صدر کی خوشامدیں کی جا رہی ہیں مگر فلسطین اور کشمیر کے مسائل حل نہیں ہوئے۔ نوازشریف کی حکومت پر بھی تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اسٹیلشمنٹ کے ذریعے اقتدار حاصل کرنے کے بعد وہ خود خوش ہیں، اور آئندہ ترامیم واپس ہوں گی۔
امیر جماعت اسلامی نے بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کے لیے تشدد کی مذمت کی اور کہا کہ آئین اور قانون کے تحت ملاقات کی اجازت دی جانی چاہیے۔ انہوں نے حکومت کے ردعمل کی کمی پر افسوس ظاہر کیا اور بہار کے وزیر اعلیٰ کے مسلم ڈاکٹر کے خلاف عمل کو عالمی سطح پر پاکستان کی بدنامی قرار دیا۔

شیئر کریں

:مزید خبریں