پی ٹی آئی اور تحریک تحفظ آئین پاکستان کا عمران خان کی رہائی کے لیے جلسے جلوسوں کا اعلان-پی ٹی آئی اور تحریک تحفظ آئین پاکستان کا عمران خان کی رہائی کے لیے جلسے جلوسوں کا اعلان-ٹرمپ کا پاکستان کے ذریعے ایرانی تجاویز پر ردعمل، مذاکرات پر عدم اطمینان کا اظہار-ٹرمپ کا پاکستان کے ذریعے ایرانی تجاویز پر ردعمل، مذاکرات پر عدم اطمینان کا اظہار-ججز ٹرانسفر کے بعد اسلام آباد ہائیکورٹ کی سنیارٹی لسٹ تبدیل، نیا ڈیوٹی روسٹر جاری-ججز ٹرانسفر کے بعد اسلام آباد ہائیکورٹ کی سنیارٹی لسٹ تبدیل، نیا ڈیوٹی روسٹر جاری-پیٹرول اور ڈیزل پر 153 اور 116 روپے تک ٹیکسز و مارجنز کا انکشاف، اصل قیمت سامنے آگئی-پیٹرول اور ڈیزل پر 153 اور 116 روپے تک ٹیکسز و مارجنز کا انکشاف، اصل قیمت سامنے آگئی-جعلی شہریت: ایف آئی اے تحقیقات مکمل، 9 یو سی سیکرٹریز ملوث، اینٹی کرپشن کو رپورٹ ارسال-جعلی شہریت: ایف آئی اے تحقیقات مکمل، 9 یو سی سیکرٹریز ملوث، اینٹی کرپشن کو رپورٹ ارسال

تازہ ترین

امیر جماعت اسلامی کا اعلان: 21 دسمبر کو ملک بھر میں “بدل دو نظام” کے تحت دھرنے

امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن نے منصورہ لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے اعلان کیا کہ 21 دسمبر کو ملک بھر میں ڈویژنل ہیڈکوارٹرز پر “بدل دو نظام” کے تحت دھرنے ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ اختیارات بلدیاتی نمائندوں کے پاس ہونے چاہئیں، مگر حکمران طبقہ انہیں گراس روٹ لیول پر منتقل کرنے کے لیے تیار نہیں۔ لاہور سمیت دیگر شہروں میں بلدیاتی اختیارات محدود ہیں اور فارم 47 کے نفاذ نے عام شہریوں میں خوف پیدا کیا ہے۔
حافظ نعیم الرحمن نے مزید کہا کہ بدل دو نظام تحریک رکنے والی نہیں، دھرنوں کے دوران آئندہ لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا۔ انہوں نے ملکی تعلیمی بحران، آئی ایم ایف کی گڈگورننس رپورٹ اور بیوروکریسی کے زیر قبضہ نظام کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ پورے سسٹم کو تبدیل کرنا ہوگا۔
انہوں نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پاک ایران گیس پائپ لائن پر کام نہیں ہو رہا، امریکی صدر کی خوشامدیں کی جا رہی ہیں مگر فلسطین اور کشمیر کے مسائل حل نہیں ہوئے۔ نوازشریف کی حکومت پر بھی تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اسٹیلشمنٹ کے ذریعے اقتدار حاصل کرنے کے بعد وہ خود خوش ہیں، اور آئندہ ترامیم واپس ہوں گی۔
امیر جماعت اسلامی نے بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کے لیے تشدد کی مذمت کی اور کہا کہ آئین اور قانون کے تحت ملاقات کی اجازت دی جانی چاہیے۔ انہوں نے حکومت کے ردعمل کی کمی پر افسوس ظاہر کیا اور بہار کے وزیر اعلیٰ کے مسلم ڈاکٹر کے خلاف عمل کو عالمی سطح پر پاکستان کی بدنامی قرار دیا۔

شیئر کریں

:مزید خبریں