10 سی سی سرنج پر پابندی پر ماہرین کا تحفظات کا اظہار، نومولود بچوں کے علاج پر منفی اثرات کا خدشہ-10 سی سی سرنج پر پابندی پر ماہرین کا تحفظات کا اظہار، نومولود بچوں کے علاج پر منفی اثرات کا خدشہ-امریکی حملوں میں شہریوں کی ہلاکت پر عباس عراقچی کا سخت ردعمل، "خون رائیگاں نہیں جائے گا"-امریکی حملوں میں شہریوں کی ہلاکت پر عباس عراقچی کا سخت ردعمل، "خون رائیگاں نہیں جائے گا"-گزشتہ مالی سال میں پاکستان نے چین سے 16.2 ارب ڈالر کے قرضے حاصل کیے، ہدف مکمل نہ ہو سکا-گزشتہ مالی سال میں پاکستان نے چین سے 16.2 ارب ڈالر کے قرضے حاصل کیے، ہدف مکمل نہ ہو سکا-ایرانی میڈیا کا دعویٰ، سعودی عرب میں پرنس سلطان ایئر بیس پر میزائل حملہ، سعودی حکام نے خطرہ ٹلنے کا اعلان کیا-ایرانی میڈیا کا دعویٰ، سعودی عرب میں پرنس سلطان ایئر بیس پر میزائل حملہ، سعودی حکام نے خطرہ ٹلنے کا اعلان کیا-وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کا طالبات کے لیے بڑا اعلان، ایک لاکھ مفت الیکٹرک بائیکس دینے کا فیصلہ-وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کا طالبات کے لیے بڑا اعلان، ایک لاکھ مفت الیکٹرک بائیکس دینے کا فیصلہ

تازہ ترین

امریکی نائب صدر کی وارننگ: گرین کارڈ ہولڈرز کیلئے خطرے کی گھنٹی

امریکی نائب صدر: گرین کارڈ ہولڈرز کی مستقل رہائش غیر یقینی، غیر قانونی تارکین وطن کی بڑی تعداد میں بے دخلی کا امکان
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ گرین کارڈ رکھنے والے افراد کو امریکہ میں مستقل رہائش کی ضمانت حاصل نہیں ہے، اور آئندہ مہینوں میں غیر قانونی تارکین وطن کی بڑی تعداد کو ملک بدر کیا جا سکتا ہے۔
ایک امریکی ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے جے ڈی وینس نے کہا کہ گرین کارڈ ہولڈرز کو امریکی شہریوں کے مساوی حقوق حاصل نہیں ہیں، اور اگر حکومت کسی کو ملک بدر کرنے کا فیصلہ کرے تو اسے روکنے کا کوئی قانونی اختیار نہیں ہوگا۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ معاملہ آزادی اظہار کا نہیں بلکہ قومی سلامتی سے جڑا ہوا ہے۔ امریکی شہریوں کے حقوق ان افراد سے مختلف ہیں جو گرین کارڈ یا اسٹوڈنٹ ویزا کے حامل ہیں۔
جے ڈی وینس نے دعویٰ کیا کہ غیر قانونی تارکین وطن کی تعداد میں 95 فیصد تک کمی آئی ہے اور آئندہ اسٹوڈنٹ ویزا رکھنے والوں پر بھی سختی برتی جائے گی۔
واضح رہے کہ سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دور حکومت میں بھی غیر قانونی تارکین وطن کے خلاف سخت اقدامات کیے گئے تھے، جن کے نتیجے میں کئی غیر قانونی رہائشیوں کو ملک بدر کیا گیا تھا

شیئر کریں

:مزید خبریں