
قسط او ل کئی سال پرانی بات ہے تب افسران کرپشن اور ڈھٹائی کی اس ’’معراج‘‘ پر نہیں پہنچے تھے جس پر ان کی اکثریت آج فائز ہ بلکہ ڈھٹائی و سینہ زوری سے فائز ہے۔ پہلے انہیں شرم آیا کرتی تھی اور کوئی تھوڑا بہت
قسط دوئمملتان ڈویژن کے ایک ضلع میں اینٹی کرپشن کا اسسٹنٹ ڈائریکٹر محکمہ انہار کے ایک ایکسین کو رشوت لینے کے الزام میں رنگے ہاتھوں پکڑ کر اپنے دفتر لےآئے اور موقع پر ہی رقم برآمد کر لی۔ دفتر پہنچ کر اپنی کرسی پر براجمان ہوتے
ولی خان نے کہا تھا کہ قبر ایک ہے اور بندے دو۔ یعنی ذوالفقار علی بھٹو یا جنرل ضیا الحق میں سے کسی ایک کو قبر میں اترنا ہے۔ مگر وقت نے ثابت کیا کہ قبریں بھی دو ہی تھیں بس ٹائمنگ کا فرق تھا۔ قبر
آج بات کپتان کی تو پھر زبان بھی کھیل والی اور کھیل بھی اپنے کپتان ہی والا، کپتان جی آپ تو فاسٹ باؤلر ہونے کے ساتھ ساتھ ایک اعلیٰ آل راؤنڈر بھی تھے ۔ آپ سے زیادہ کس کو علم ہو گا کہ کب باؤنسر پھینکنا
افتخار فخر چھاوڑی سے میرا تعارف 1968ء میںاُس وقت ہوا جب میں گورنمنٹ ہائی سکول روہیلانوالی میں آٹھویں جماعت کا طالب علم تھا اور ان کے والد مرحوم روہیلانوالی میں ایس ایچ او تعینات ہوئے تو وہ میری کلاس میں آئے۔ اس دور میں ایس ایچ