
چند دوستوں نے جنرل( ر)پرویز مشرف کے دور کی انتظامی اور پولیس اصلاحات کے حوالے سے سوالات کھڑے کئے ہیں کہ انہوں نے تجاویز کیوں نہیں مانی اور پولیس کو بے پناہ اختیارات کے ساتھ ساتھ خود مختاری دے کر ضلعی انتظامیہ پر ہاتھ کیوں سخت

چوتھے پارے کی پہلی آیت میں بیان ہوا کہ نیکی کا مرتبۂ کمال یہ ہے کہ اپنے پسندیدہ اور محبوب مال کو اللہ کی راہ میں خرچ کیا جائے۔ رسول اللہ ؐاونٹ کا گوشت کھاتے تھے اور اونٹنی کا دودھ نوش فرماتے تھے‘ اِس پر یہود

قیدی کی طرف سے دی گئی اس انفارمیشن کا دوسرا حصہ میں نے ایک پولیس آفیسر کو بتایا کہ جیل میں کسی کاغذ پر تعویذ لکھ کر بھجوائے جاتے ہیں کہ روزانہ ہر نماز کے بعد ایک پانی میںگھول کر پینا ہوتا ہے مگر اصل میں

تیسرے پارے کے شروع میں اس امر کا بیان ہے کہ اس حقیقت کے باوجودکہ اللہ تعالیٰ کے تمام نبی اور رسول علیہم السلام معزز و مکرم ہیں اور ان کی شان بڑی ہے‘ اللہ تعالیٰ نے رسولوں میں ایک کیلئے دوسرے کے مقابلے میں فضیلت

عدلیہ کسی بھی جمہوری ریاست کا وہ ستون ہے جس پر قانون کی حکمرانی اور عوامی حقوق کی پاسداری کا انحصار ہوتا ہے۔ یہ ایک ایسا ادارہ ہے جس کی غیرجانبداری اور خودمختاری، ریاستی توازن کو برقرار رکھنے کے لیے ناگزیر ہے۔ مگر جب یہی عدلیہ

دوسرے پارے کے آغاز میں سورہ البقرہ میں اللہ تعالیٰ نے قبلے کی تبدیلی کا ذکر فرمایا ہے۔ مسلمانوں پر جب اللہ نے نماز کو فرض کیا تو ابتدائی طور پر مسلمان بیت المقدس کی طرف رخ کرکے نماز ادا کرتے تھے۔ حضرت محمدؐ کی یہ

تحریر؛میاں غفار (کارجہاں) ملتان میں خوشگوار تبدیلی اچانک دیکھنے کو مل رہی ہے۔ اچانک سینٹری ورکرز اور کوڑا اٹھانے والی ٹیمیں نہ جانے کہاں سے سڑکوں پر نکل روزانہ صبح اور بعض اوقات دوپہر میں بھی کال میں مصروف دکھائی دیتی ہیں۔ دہائیوں کے تنگ راستے

کہتے ہیں کہ جنگل میں کسی زمانے میں چوہوں کی آبادی خطرناک حد تک بڑھ گئی تھی۔ ہر طرف چوہے ہی چوہے تھے—گوداموں میں، گھروں میں، یہاں تک کہ جنگل کے بادشاہ کے تخت کے نیچے بھی! بادشاہ سلامت، جو کہ بلی تھے، اس صورتحال سے

یہ سب تمہارا کرم ہے آقا یہ سب تمہارا کرم ہے آقا(نعت گو شاعر خالد محمود خالد کی نذر)یہ سب تمہارا کرم ہے آقا،کہ حرف روشن، سخن مقدس،یہ سب تمہاری عطا کی خوشبو،یہ سب تمہاری رضا کی خوشبو۔خالد کی سانسوں میں تھی صدا بس،یہ سب تمہارا

پنجاب میں سورج چمک رہا ہے، درختوں پر ہلکی ہلکی بہار آ رہی ہے، اور لاہور میں حکومت کے اشتہارات پھر سے فضا میں اُڑ رہے ہیں کہ “صاف اور سبز پنجاب” کا مشن کامیاب ہو چکا ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ اگر اشتہارات میں

جنوری 29 ، 2025 ، پاکستان کی سیاسی تاریخ میں ایک اور بدنما داغ رکھنے والے دن کے طور پر یاد رکھا جائے گا – اس دن ایوان صدر میں بطور صدر مملکت براجمان ایک ایسے شخص نے ‘انسداد الیکٹرانک جرائم ترمیمی ایکٹ’ پر دستخط کیے

آج ہم ایک تاریخی موقع پر جمع ہیں، جس دن ملک کے چوتھے ستون میڈیاکے معتبر اور باوقار روزنامہ قوم اپنی دوسری سالگرہ کا جشن منارہا ہے۔ یہ دن نہ صرف اس روزنامہ کی کامیابیوں کا عکاس ہے بلکہ ان تمام افراد کی محنت، عزم اور

اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے جو فرد کی روحانی، اخلاقی اور معاشرتی زندگی کو منظم کرنے کے لیے اللہ کی طرف سے نازل کیا گیا۔ اسلام میں ہمیں نہ صرف عبادات کی ہدایات ملتی ہیں، بلکہ معاشرتی اخلاق، انسانی حقوق، اور دوسروں کے ساتھ حسن

دنیا بھر میں آج نئے سال کا سورج نئی امیدیں اور امکانات لے کر طلوع ہو رہا ہے۔ یہ موقع خوشی اور تفکر دونوں کا ہے۔ ایک طرف دنیا بھر کے لوگ نئے سال کا استقبال کررہے ہیں، تو دوسری طرف فلسطین کے معصوم مسلمان اسرائیلی

دنیا بھر میں نیا سال منانے کی ایک قدیم اور مضبوط روایت ہے، جس میں لوگ جشن مناتے ہیں، جشن کی محفلیں سجائی جاتی ہیں اور دلوں میں امیدوں کے چراغ روشن ہوتے ہیں۔ یہ وقت ہوتا ہے جب لوگ اپنی زندگیوں میں نیا آغاز دیکھنے

گھر میں بھوک کا سناٹا چھایا ہوا تھا۔ تین دن سے چولہا ٹوٹا ہوا تھا، اور کسی کے منہ میں روٹی تک نہیں تھی۔ ندیم کی بیوی بیمار تھی، لیکن وہ کوئی علاج نہیں کروا پا رہا تھا۔ گھر کی حالت ایسی تھی کہ جب تک

قائداعظم محمد علی جناح نے 1947 میں پاکستان کے قیام کے بعد ایک ایسا معاشرہ قائم کرنے کا خواب دیکھا تھا جس میں انصاف، مساوات، اور خوشحالی ہو۔ ان کا خواب تھا کہ پاکستان میں ہر فرد کو آزادی، عزت، اور برابر کے حقوق حاصل ہوں

ایک بڑے ہال میں حکومت اور اپوزیشن کے نمائندے بیٹھے ہیں۔ دونوں طرف کی نشستوں پر گہری سوچ میں ڈوبے ہوئے لوگ، جو ایک دوسرے کو کمر سے کمر لگا کر دیکھ رہے ہیں، لیکن درمیان میں ایک دیوار کھڑی ہے — ایک دیوار جو برسوں

ناز اکاڑوی بلا شبہ نئی اختراعات نے جہاں زندگی آسان اور باہمی تعلقات کو سمیٹ کر رو بہ رو کر دیا ہے جیسے موبائل سے دور دراز کے دوست احباب سے ملاقات اب سیکنڈوں کی بات ہو کر رہ گئی ہے، یعنی ایک ہی لمس سے

نا زاو کاڑوی ایک عرصہ سے سوانح عمری پڑھنے کا اشتیاق تھا اور اب بھی ہے۔ دوست احباب سے مشورے بھی لیے انہوں نے نام بھی بتائے۔ شہاب نامہ اولین میں سے تھا جسے پڑھنے کا اتفاق ہوا، جوش ملیح آبادی کی یادوں کی بارات ،

مغرب میں اسلام کے حوالے سے جو عمومی تاثر پایا جاتا ہے، وہ ہمیشہ سے متنازع اور پیچیدہ رہا ہے۔ خاص طور پر دینی مدارس کے حوالے سے مغربی دنیا کی سوچ میں انتہاپسندی، دہشت گردی اور مذہبی شدت پسندی کا تاثر غالب آتا ہے۔ مدارس

انتظامی اعتبار سے جنوبی پنجاب کے اہم ترین شہر ملتان سے صرف 22 کلومیٹر کے فاصلہ پر واقع تاریخی قصبہ مخدوم رشید مسائل کا گڑھ بن چکا ہے۔ کہیں کسان بلبلاتے دکھائی دیتے ہیں تو کہیں مریض۔ کہیں مسائل کے بھنور میں دھنسے شہری نوحہ کناں

مدارس کے رجسٹریشن ایکٹ 2024 پر ریاست اور مذہبی قوتوں کے درمیان تنازع ابھی تک حل نہیں ہو سکا۔ مولانا فضل الرحمن کی قیادت میں جمعیت علماء اسلام نے اس قانون کو پارلیمنٹ سے منظور کروایا، لیکن صدر آصف زرداری نے اس پر دستخط کرنے سے
اپنی بھارت یاترا کے حوالے سے کالموں کی سیریز کی آخری قسط 3 جولائی 2024ء کو شائع ہوئی جس میں منو بھائی کے کالم گریبان بعنوان ’’ دل دریا سمندروں ڈونگے‘‘ جو کہ 12 جنوری 1980ء کو شائع ہوا اسے من وعن دوبارہ بطور حوالہ میں

پاکستان کی سیاسی اور معاشی حقیقتوں پر نظر ڈالیں تو ہم دیکھتے ہیں کہ ملک کی حکومتی پالیسیاں ہمیشہ ہی مختلف طبقوں کے مفادات کی بنیاد پر تشکیل پاتی ہیں، اور ان پالیسیوں میں اکثر عوام کے حقیقی مسائل اور ضروریات کو نظر انداز کیا جاتا

سماجی حقیقت نگاری ادب کی وہ صورت ہے جو انسانی زندگی کے حقیقی مسائل، ان کی پیچیدگیوں اور داخلی و خارجی تضادات کو ایک آئینے کی طرح قاری کے سامنے پیش کرتی ہے۔ یہ صنفِ ادب انسان کے اندر چھپے جذبات، اس کے معاشرتی تعلقات، اور

سوسائٹیز رجسٹریشن (ترمیمی) ایکٹ 2024، پاکستان میں مدارس اصلاحات کے نازک لیکن اہم مسئلے پر سیاسی اسٹیک ہولڈرز کے درمیان تنازع کا باعث بن گیا ہے۔ جمعیت علمائے اسلام (ف) کی حمایت سے منظور کیے گئے اس بل کو تکنیکی خامیوں کی بنیاد پر صدر مملکت

’’یار جب ساڑھےگیارہ، 12 بجے زوال کے وقت کاروبار کھولو گے تو عروج کیسے حاصل ہوگا‘‘بابا جی نے یہ کہہ کر تھوڑا توقف کیا اور بولے ’’آپ دنیا میں کامیاب لوگوں کی تاریخ اٹھا کر دیکھ لو، وہ کم کھاتے، کم سوتے اور کم بولتے تھے۔

تحریر:غلام دستگیر ( دست بدست ) آپ ملتان میں چونگی نمبر 9 سے کچہری چوک کی طرف آئیں تو پہلا چوک چونگی نمبر 8آتا ہے ۔چوک عبور کرتے ہی نظر تھوڑا اوپر اٹھائیں تو فلائی اوور کے ستون پر موٹے موٹے حروف میں لکھا ہوا نظر

چند ماہ ’’جہان پاکستان‘‘ کی سیاحی بھی کی مگر آگے صحافت کا راستہ تاریک اور بے روزگاری کی دلدل پھر سے تیار کھڑی تھی۔2001 میں کورونا کے رونا کے دوران بے روزگاری بھی کاٹی اور غریب الوطنی بھی برداشت کی۔ لاہور جا کر بھی دوسری بار’’دنیا‘‘



























