

پاکستان ایک نازک دوراہے پر کھڑا ہے جہاں سیکیورٹی، معیشت اور سیاسی استحکام بیک وقت دباؤ میں ہیں۔ ایسے میں صوبوں کے درمیان یکجہتی اور باہمی اعتماد قومی بقا کے لیے ناگزیر ہو چکے ہیں۔ مگر حالیہ دنوں میں پنجاب اور سندھ کے درمیان پانی کے

آزاد جموں و کشمیر (آزاد کشمیر) ان دنوں ایک نازک اور پیچیدہ صورت حال سے گزر رہا ہے۔ ایک طرف عوامی جذبات کا لاوا طویل عرصے کے مسائل، معاشی بےچینی، اشرافیہ کے استحقاق یافتہ رویوں، اور مہاجر کوٹہ جیسے حساس معاملات پر بھڑک چکا ہے، تو

اسرائیلی بحری افواج کی جانب سے غزہ کے محصور شہریوں کے لیے امداد لے جانے والے بین الاقوامی امدادی قافلے گلوبل صمود فلوٹیلا پر حملہ اور اس میں شامل کارکنان کی گرفتاری نے ایک بار پھر دنیا کو یہ یاد دلایا ہے کہ انسانی ہمدردی اور

آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن (اپٹما) کی جانب سے حکومت کے اس منصوبے پر اٹھائے گئے اعتراضات کہ 2035ء تک بجلی کی پیداواری صلاحیت کو تقریباً پچاس فیصد بڑھا کر 64 ہزار میگاواٹ تک لے جایا جائے، نہ صرف بجا ہیں بلکہ قابلِ سنجیدہ غور

افغانستان کی موجودہ صورتحال اور اس کے ہمسایہ ممالک کی تشویش کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 80ویں اجلاس کے موقع پر پاکستان، ایران، روس اور چین کے وزرائے خارجہ نے ایک مشترکہ اعلامیہ جاری کر کے یہ واضح کر دیا

کرکٹ جنوبی ایشیا میں صرف ایک کھیل نہیں بلکہ کروڑوں دلوں کی دھڑکن ہے۔ یہ کھیل برصغیر کے عوام کے لیے محض کھیل کے میدان میں مقابلہ نہیں بلکہ ایک ثقافتی اور جذباتی تجربہ ہے جو سرحدوں کے آر پار ایک ہی شدت سے محسوس کیا

پاکستان میں حالیہ سیلابی صورتحال نے ایک بار پھر یہ کڑوا سچ آشکار کر دیا ہے کہ ہمارے سیاسی رہنما قومی سانحات کو بھی پوائنٹ اسکورنگ کا ذریعہ بنا لیتے ہیں۔ پنجاب اور سندھ کے دیہات پانی میں ڈوبے ہوئے ہیں، ہزاروں گھر اجڑ گئے، کھڑی

پاکستان میں عدلیہ کو ایک زمانے تک سیاسی اور ادارہ جاتی بحرانوں میں روشنی کا مینار سمجھا جاتا رہا۔ جب پارلیمان مفلوج ہو جاتی تھی اور ایگزیکٹو اپنی آئینی حدود سے تجاوز کرتا تھا، تو نظریں عدلیہ کی جانب اٹھتی تھیں کہ وہ آئین کی تشریح

یمن کے ساحلی علاقے راس عیسیٰ پر کھڑے ایک مائع پیٹرولیم گیس (ایل۔پی۔جی) ٹینکر پر اسرائیلی ڈرون حملہ اور اس کے بعد عملے کو حوثی گروہ کی جانب سے یرغمال بنائے جانے کا واقعہ نہ صرف تشویشناک ہے بلکہ یہ خطے کی پیچیدہ اور خطرناک صورتحال

پاکستان کی معیشت ایک بار پھر کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کی جانب لوٹ چکی ہے۔ مالی سال 2025 میں غیر معمولی طور پر 2.1 ارب ڈالر کا سرپلس ملا تھا جسے حکومت نے بڑی کامیابی کے طور پر پیش کیا، مگر معاشی ماہرین پہلے ہی خبردار کر

پنجاب حکومت نے حالیہ سیلابی تباہ کاریوں کے بعد ریلیف پیکیج کا اعلان کیا ہے، جس میں ایک تباہ شدہ مکان کے لیے دس لاکھ روپے، جزوی طور پر متاثرہ مکان کے لیے پانچ لاکھ روپے، ڈوبنے والی زمین کے فی ایکڑ بیس ہزار روپے اور

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جنرل اسمبلی سے حالیہ تقریر محض ایک روایتی سفارتی خطاب نہیں تھی بلکہ یہ ایک ایسا مظاہرہ تھا جس نے دنیا کو یہ باور کرایا کہ وہ بین الاقوامی نظام، جسے دوسری جنگِ عظیم کے بعد خود امریکہ نے تشکیل دیا

پاکستان کے قدرتی وسائل پر حالیہ عالمی توجہ اس حقیقت کو اجاگر کرتی ہے کہ اگر بروقت منصوبہ بندی، شفافیت اور پالیسی تسلسل کو یقینی بنایا جائے تو یہ شعبہ ملکی معیشت کے لیے وہ کردار ادا کر سکتا ہے جو تیل نے مشرقِ وسطیٰ کے

سپریم کورٹ کا حالیہ فیصلہ، جس میں قرار دیا گیا ہے کہ صرف سپریم جوڈیشل کونسل ہی اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کے خلاف بدسلوکی یا بدعنوانی کے الزامات کی جانچ کر سکتی ہے، نہ صرف آئینی و قانونی لحاظ سے غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے بلکہ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے تازہ بیانات نے ایک بار پھر عالمی سطح پر تشویش پیدا کر دی ہے۔ ان کا یہ کہنا کہ افغانستان کا بگرام ایئرفیلڈ دوبارہ امریکی کنٹرول میں ہونا چاہیے اور اگر افغان طالبان نے اس حوالے سے تعاون نہ کیا تو

ایشیا کپ میں بھارت کے خلاف ایک اور ناکامی نے پاکستانی شائقین کو مایوس کر دیا۔ پچھلے ہفتے سات وکٹوں کی شکست کے بعد دبئی میں چھ وکٹوں سے ہار اس بات کا ثبوت ہے کہ ٹی ٹوئنٹی فارمیٹ میں پاکستان کی کارکردگی بھارت کے مقابلے

یہ حقیقت اپنی جگہ قائم ہے کہ فلسطینیوں نے 1988ء میں اپنی آزادی کا اعلان کر دیا تھا، مگر اب برطانیہ، آسٹریلیا اور کینیڈا کی طرف سے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنا تاخیر سے کیا گیا فیصلہ ہونے کے باوجود ایک اہم پیش رفت ہے۔ یہ

پاکستان میں پولیو کے چند نئے کیسز رپورٹ ہونا صرف ایک طبی خبر نہیں بلکہ یہ پورے نظامِ صحت، ریاستی عزم اور سماجی رویوں پر سوالیہ نشان ہے۔ دنیا کے بیشتر ممالک نے اس موذی مرض کو تاریخ کا حصہ بنا دیا، لیکن پاکستان آج بھی

اسلام آباد ہائی کورٹ کے پانچ جج جب چند روز پہلے سپریم کورٹ کے دروازے پر یہ فریاد لے کر پہنچے کہ ’’یہ آخری چارہ ہے‘‘ اور یہ سوال اٹھایا کہ کیا ہم آئین کے تحت چل رہے ہیں یا طاقتور افراد کی من مانی کے

خیبر پختونخوا کے ضلع خیبر کے علاقے تیراہ میں مبینہ فضائی بمباری کے نتیجے میں عام شہریوں، خصوصاً خواتین اور بچوں کی ہلاکت کی خبریں ایک بار پھر ریاستی پالیسیوں اور انسدادِ دہشت گردی اقدامات پر سنگین سوالات کھڑے کر رہی ہیں۔ ہیومن رائٹس کمیشن آف

نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا 80واں اجلاس شروع ہوچکا ہے اور دنیا کے تقریباً 150 ممالک کے رہنما اس میں شریک ہیں۔ یہ اجلاس ایسے وقت میں منعقد ہورہا ہے جب عالمی امن فورم خود شدید دباؤ اور بحرانوں کی زد میں ہے۔

کراچی کے علاقے میمن گوٹھ سے تین ٹرانس جینڈر افراد کی لاشوں کا برآمد ہونا ایک ہولناک سانحہ ہے جو نہ صرف انسانی جان کے ضیاع کا المیہ ہے بلکہ ہمارے معاشرے کی گہری تعصباتی جڑوں کو بھی آشکار کرتا ہے۔ لاشوں پر گولیوں کے نشان

پاکستان کے کھیلوں کے منظرنامے پر جب بھی بات کی جاتی ہے تو کرکٹ سرفہرست آتی ہے۔ اس کے بعد ہاکی، فٹبال اور کبڈی جیسے کھیل کبھی کبھار توجہ حاصل کر لیتے ہیں، مگر کچھ کھیل ایسے ہیں جو عالمی سطح پر نہ صرف نمایاں حیثیت

امریکہ کے محکمہ خارجہ کی جانب سے جاری ہونے والی 2025 فِسکل ٹرانسپیرنسی رپورٹ نے پاکستان کو ایک بار پھر تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کے فوجی اور انٹیلی جنس بجٹ کو پارلیمانی یا سویلین نگرانی کے تابع ہونا

وفاقی حکومت نے بلوچستان کے ریکوڈک کان کنی منصوبے کے لیے 390 ملین ڈالر فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ کانوں سے نکلنے والے تانبے اور سونے کی برآمدی معدنیات کی ترسیل کے لیے 1,350 کلومیٹر طویل ریلوے ٹریک بچھایا جا سکے۔ اقتصادی رابطہ کمیٹی

پاکستان میں ایک بار پھر انٹرنیٹ کی رفتار میں کمی اور مسلسل تعطل نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ ہمارا ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کس قدر کمزور بنیادوں پر کھڑا ہے۔ انٹرنیٹ صرف ایک سہولت نہیں بلکہ آج کے دور میں معیشت، تعلیم، طب، سیاست اور حتیٰ

بلوچستان کے سرحدی شہر چمن میں جمعرات کے روز ٹیکسی اسٹینڈ کے قریب ہونے والے بم دھماکے نے ایک بار پھر اس حقیقت کو آشکار کر دیا ہے کہ پاکستان خصوصاً بلوچستان دہشت گردی کی اس لہر سے نکلنے میں کامیاب نہیں ہو سکا جو گزشتہ

پنجاب کی جانب سے بین الصوبائی گندم کی ترسیل پر غیر اعلانیہ پابندی نے خیبر پختونخوا اور سندھ میں آٹے کی شدید قلت اور قیمتوں میں تیزی سے اضافے کی صورت اختیار کر لی ہے۔ صوبائی حکام اس اقدام کو محض ’’چیک پوائنٹس‘‘ قرار دے رہے

یہ حقیقت کسی تجزیے یا تفصیل کی محتاج نہیں کہ اسرائیل کی غزہ پر یلغار صرف حماس کو ختم کرنے کی کوشش نہیں بلکہ پورے فلسطینی عوام کو صفحۂ ہستی سے مٹانے اور انہیں ان کی سرزمین سے بے دخل کرنے کا ایک سفاک منصوبہ ہے۔

پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان طے پانے والا تازہ دفاعی معاہدہ محض ایک کاغذی اعلان نہیں بلکہ خطے کی اس بدلتی ہوئی سیاست کا حصہ ہے جس نے مشرقِ وسطیٰ اور جنوبی ایشیا دونوں میں طاقت کے توازن کو نئی سمت دی ہے۔ وزیرِاعظم شہباز





























