

پاکستان کی جانب سے مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ کے ممالک کے ساتھ دفاعی، سیاسی اور اقتصادی تعلقات میں وسعت کی کوششیں ایک نئے باب کا آغاز ہیں۔ ان تعلقات میں جو چیز نمایاں ہے وہ ان کی وسعت اور تنوع ہے۔ پاکستان ایک جانب تنازعات

انقلاب گولی سے نہیں مرتا، مگر ہجوم کے ہاتھوں دفن ضرور ہو جاتا ہے۔بنگلہ دیش ایک بار پھر ایسے موڑ پر کھڑا ہے جہاں امید اور خوف ایک دوسرے سے گتھم گتھا ہو گئے ہیں۔ ڈھاکا میں فائرنگ سے زخمی ہونے والے طالب علم رہنما شریف

اگر انصاف بند کمرے میں ہو تو سزا مجرم کو نہیں، سچ کو ملتی ہے۔اور جب سچ قید ہو جائے تو عدالتیں کھلی بھی ہوں تو اندھی رہتی ہیں۔انصاف کا صرف ہونا کافی نہیں ہوتا، اس کا نظر آنا بھی اتنا ہی ضروری ہوتا ہے، کیونکہ

مرکزی بینک کی جانب سے پالیسی شرح میں معمولی کمی کی خبر بظاہر ایک مثبت پیش رفت کے طور پر پیش کی جا رہی ہے، مگر اس فیصلے کے پس منظر میں موجود تضادات، ابہامات اور ساختی کمزوریاں اس خوش فہمی کو قائم نہیں رہنے دیتیں۔

سندھ کے ضلع گھوٹکی کی تحصیل اوباوڑو کے قریب کچہ علاقے کے ڈاکوؤں کا ایک مسافر بس کو روک کر مسافروں کو اغوا کر لینا اور پھر انہیں بحفاظت بازیاب کرانا بظاہر ایک کامیاب کارروائی کی خبر ہے، مگر درحقیقت یہ خبر ہمارے ریاستی نظام کے

خیبر پختونخوا کے ضلع باجوڑ کی تحصیل سالارزئی میں پولیو مہم پر ہونے والا تازہ حملہ محض ایک سیکیورٹی واقعہ نہیں بلکہ پاکستان کے اجتماعی ضمیر، ریاستی ترجیحات اور سماجی شعور پر ایک گہرا سوال ہے۔ ایک طرف ریاست پورے عزم کے ساتھ ملک گیر پولیو

پنجاب کی سیاست میں بعض شخصیات محض افراد نہیں ہوتیں بلکہ پورے ادوار کی علامت بن جاتی ہیں۔ میاں منظور احمد وٹو کا شمار بھی انہی سیاست دانوں میں ہوتا ہے جن کی وفات کے ساتھ ہی ایک ایسا باب بند ہو گیا ہے جس میں

سوڈان کے ابیئے خطے میں آسمان نے ایک بار پھر اپنی سیاہی زمین پر انڈیل دی۔ ایک بے پائلٹ طیارہ نیچے آیا، چند لمحوں میں چھ زندگیاں بجھا گیاں، اور دنیا کے ضمیر نے حسبِ عادت تعزیت کے جملے لکھ کر فائل بند کر دی۔ بنگلہ

ریاست کی ساکھ محض سرحدوں کے دفاع، سفارتی بیانات یا بین الاقوامی اجلاسوں میں شرکت سے قائم نہیں ہوتی بلکہ اس کا اصل امتحان عام شہری کے ساتھ روزمرہ برتاؤ میں ہوتا ہے۔ جب کسی شہری کو اپنی تعلیمی اسناد، نکاح نامے یا دیگر قانونی دستاویزات

جب صحت کے نظام میں بدانتظامی، نااہلی اور بدعنوانی پر لوگ شکوہ کرتے ہیں تو اصل مسئلہ صرف ہسپتالوں، ادویات یا ڈاکٹر اور مریض کے رشتے تک محدود نہیں رہتا، بلکہ یہ ایک وسیع تر ریاستی بحران کی جھلک ہوتا ہے۔ صحت کا شعبہ دراصل ایک

پاکستان کی ریاست جب بھی انتہاپسندی کے مسئلے سے نمٹنے کی بات کرتی ہے تو اس کے ماضی کا ریکارڈ خود اس کے سامنے ایک کڑا سوال بن کر کھڑا ہو جاتا ہے۔ یہ حقیقت کسی سے پوشیدہ نہیں کہ دہشت گردی اور انتہاپسندی کے خلاف

پاکستان کی معیشت ایک ایسے دوراہے پر کھڑی ہے جہاں پالیسی کی ناکامی، سیاسی انتشار، مرکز اور صوبوں کے درمیان عدمِ اعتماد، اور دہائیوں سے اپنائے گئے غلط معاشی ڈھانچے مل کر ایسے بحران پیدا کر چکے ہیں جنہیں اب محض وعدوں اور بیانات سے حل

سپریم کورٹ کی جانب سے معروف انسانی حقوق کارکن ایمان زینب مزاری اور ان کے شوہر ہادی علی چٹھہ کے خلاف جاری ٹرائل کو اس وقت تک روک دینے کا فیصلہ، جب تک اسلام آباد ہائی کورٹ ان کی اپیلوں کا حتمی فیصلہ نہیں کر لیتی،

کیا ایک سزا پرانے روگ کا علاج بن سکتی ہے؟پاکستان کی سیاسی و عسکری تاریخ میں ایک سابق جاسوسی سربراہ کو فوجی عدالت سے چودہ برس قیدِ سخت کی سزا سنایا جانا بلاشبہ غیر معمولی واقعہ ہے۔ سابق ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل (ر)

آئی ایم ایف نے پاکستان کے لیے توسیعی فنڈ سہولت اور پائیداری فنڈ کی دوسری اور پہلی جائزہ منظوری دے دی، اور حکومت اسے ایک بڑی کامیابی کے طور پر پیش کر رہی ہے۔ مگر اصل سوال یہ نہیں کہ منظوری کب ملی یا کتنی جلدی

پاکستان کے اقتصادی ڈھانچے میں خرابی کا اعتراف اب خود ریاستی ادارے بھی کرنے لگے ہیں۔ مسابقتی کمیشن کے سربراہ ڈاکٹر کبیر سدھو نے بڑے واضح اور کھلے الفاظ میں یہ حقیقت بیان کی کہ ملک کے بڑے معاشی شعبوں کے قوانین اور نگران نظام تیزی

جنوبی ایشیا ایک مرتبہ پھر ان سوالات کی زد میں ہے جن پر گزشتہ تین دہائیوں سے بحث جاری ہے: کیا ایٹمی توازن طاقت کے مراکز کو ذمہ داری سکھاتا ہے، یا طاقتور ریاستیں اس توازن کو بھی جنگی برتری کی خواہش کے تابع بنا لیتی

دنیا بھر میں انسانی حقوق کا عالمی دن ہر سال یہ یاد دہانی کرواتا ہے کہ آدمی کی حرمت، زندگی کا وقار اور آزادی کی اساس کوئی ریاست، ادارہ یا طاقت کی عطا نہیں بلکہ ایک فطری حق ہے۔ یہ دن محض تقاریب، نعرے یا بیانات

دنیا 2026 کی دہلیز پر ایک گہرے اضطراب، بے یقینی اور مسلسل تغیر کے احساس کے ساتھ کھڑی ہے۔ سرد جنگ کے بعد شاید ہی کبھی عالمی منظرنامہ اتنا بے ربط، منتشر اور بے سمت دکھائی دیا ہو۔ طاقت کے مراکز بدل رہے ہیں، روایتی اصول

پاکستان میں مقامی حکومتوں کا نظام آئین کے مطابق ریاستی ڈھانچے کی بنیاد ہے، لیکن عملی طور پر یہی بنیاد سب سے زیادہ کمزور، نظر انداز اور معطل رکھی جاتی ہے۔ پنجاب ہو، اسلام آباد ہو یا بلوچستان، ایک ہی ذہنیت مختلف حیلوں بہانوں کے ساتھ

پاکستان کی عسکری تاریخ میں ہر چند سال بعد ایک ایسا لمحہ ضرور آتا ہے جب طاقت کی ساخت میں تبدیلی کو ’’تاریخی‘‘ قرار دیا جاتا ہے۔ نئے چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر نے بھی اپنے پہلے خطاب میں اسی تبدیلی کو ’’تاریخی‘‘
ٹرکوں کی شاعری اور جملے بازی بھی بڑی مزے کی ہوتی ہے۔ دوران سفر ایک بہت طویل ٹرالر پر پہ جملہ لکھا ہوا پڑھا’’گڈی والیا موج تے تیری اے، اساں تے بس جگہ ای گھیری ہے‘‘ملتان میں بھی ایک شخص نے دو مرتبہ بس جگہ ہی

گیارہویں قومی مالیاتی کمیشن کے اجلاس نے وہی پرانا سوال پھر زندہ کر دیا ہے: پاکستان میں ریاست کی اصل کمزوری معاشی اعداد و شمار میں ہے یا اختیارات، وسائل اور اعتماد کی تقسیم میں؟ وفاقی وزیرِ خزانہ کی زیر صدارت ہونے والا اجلاس بظاہر وسائل

حالیہ دنوں میں بھارت اور روس کے درمیان بڑھتی ہوئی قربت نے نہ صرف عالمی سیاست میں بلکہ خطے کی سلامتی کے منظرنامے پر بھی ایک خطرناک تہلکہ مچا دیا ہے۔ امریکی اور مغربی ممالک کی جانب سے بار بار دی جانے والی تنبیہات اور دباؤ

پاکستان کا تجارتی خسارہ اپنی خطرناک رفتار کے ساتھ ایک بار پھر ہماری معاشی کمزوریوں کو عیاں کر رہا ہے۔ جولائی تا نومبر دو ہزار چوبیس میں یہ خسارہ منفی گیارہ ارب سے زائد تھا، جبکہ رواں برس اسی مدت میں یہ بڑھ کر پندرہ ارب

کراچی پریس کلب کے باہر عورت مارچ کی کارکنان، صحافیوں اور انسانی حقوق کے نمائندوں کے ساتھ پیش آنے والا واقعہ ہمارے سماجی اور سیاسی ماحول کی ایک بے آواز مگر شدید گواہی ہے۔ یہ ایک ایسی گواہی ہے جو بتاتی ہے کہ ہمارے معاشرے میں

قومی مالیاتی کمیشن کا حالیہ اجلاس بظاہر ایک رسمی عمل لگ سکتا ہے، لیکن درحقیقت یہ وفاقِ پاکستان کے وجود، اس کی آئینی ساخت اور صوبائی خودمختاری کے پورے تصور کی جڑوں کو چھو لینے والا مرحلہ ہے۔ وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے اجلاس کا آغاز

صارف قیمت اشاریہ بظاہر خوش کن ہے۔ سالانہ بنیادوں پر افراطِ زر ۶ء۱ فیصد ریکارڈ کیا گیا جو اکتوبر میں ۶ء۲ فیصد تھا۔ کاغذ پر یہ معمولی کمی ہے مگر اصل مسئلہ وہ خطرناک شکوک و شبہات ہیں جو اس پورے ڈیٹا کی بنیاد، اس کی

اٹھارہ برس بعد پنجاب میں بسنت کی بحالی محض ایک تہوار کی اجازت نہیں، بلکہ عوامی ثقافت کے اس دھارے کی طرف لوٹنے کا پہلا قدم ہے جسے کئی برسوں سے خوف، انتہا پسندی، بے جا پابندیوں اور انتظامی کمزوریوں نے جکڑ رکھا تھا۔ بسنت کی

پارلیمان کے مشترکہ اجلاس میں قومی کمیشن برائے اقلیتی حقوق کا منظور کیا جانا بظاہر ایک پیش رفت ہے، مگر اس پیش رفت کے اندر کئی ایسے سوال پوشیدہ ہیں جو ہماری سیاست، قوانین اور ریاستی رویوں کی گہری کمزوریوں کو بے نقاب کرتے ہیں۔ یہ




























